اغراض و مقاصد Aims & Scopes
گلستانِ اردو ایک بین الاقوامی آن لائن، پیئر ریویو اور اوپن ایکسس تحقیقی مجلہ ہے، جس کی اشاعت کا مقصد اردو زبان و ادب میں سنجیدہ تحقیق کو فروغ دینا اور علمی و ادبی سرمائے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اسے دنیا بھر کے قارئین تک پہنچانا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ بہت وسیع ہے۔ اس میں مختلف ادوار کے شعرا و ادبا، ادبی تحریکوں، فکری رجحانات اور اصنافِ ادب نے اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ اس ذخیرے کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ گلستانِ اردو اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے محققین کو اپنے علمی کام کی اشاعت کا موقع فراہم کرتا ہے، تاکہ اردو زبان و ادب کے مطالعے میں نئے موضوعات سامنے آئیں اور پہلے سے موجود علمی سرمایہ مزید بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
اردو ادب کا مطالعہ صرف معروف ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات تک محدود نہیں۔ اس کی تاریخ میں ایسے بہت سے نام، کتابیں، ادبی رسائل اور علاقائی روایتیں بھی شامل ہیں جن پر ابھی خاطر خواہ کام نہیں ہوا۔ گلستانِ اردو میں کلاسیکی و جدید شاعری، افسانہ، ناول، ڈراما، خاکہ، انشائیہ، سفرنامہ، خودنوشت، سوانح، مکتوب نگاری اور ادبی صحافت سے متعلق تحقیقی و تنقیدی موضوعات کو جگہ دی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ ادبی شخصیات کے حالات و خدمات، ان کے فکری رجحانات، اسلوب اور فنی خصوصیات کا مطالعہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ کوشش یہ ہے کہ اردو ادب کے مختلف ادوار اور اصناف پر ہونے والا کام یکجا ہو اور ان موضوعات پر بھی توجہ دی جائے جو اب تک تحقیق کی پوری توجہ حاصل نہیں کر سکے۔
تحقیق و تنقید کا اصل مقصد کسی موضوع کو محض بیان کرنا نہیں، بلکہ اس کی تہہ تک پہنچنا، اس سے متعلق مواد کا مطالعہ کرنا اور دلائل کی روشنی میں نتائج اخذ کرنا ہے۔ اسی لیے گلستانِ اردو میں ایسے تحقیقی کاموں کو اہمیت دی جاتی ہے جن میں موضوع کا واضح تعین ہو، متعلقہ مآخذ سے استفادہ کیا گیا ہو اور مصنف نے اپنی بات محض سابقہ آرا دہرانے کے بجائے مطالعے اور تجزیے کی بنیاد پر پیش کی ہو۔ ادبی متون کی نئی قرأت، تنقیدی نظریات کا جائزہ، ادبی تحریکوں کا مطالعہ اور کسی معروف رائے پر ازسرِنو غور کرنا ایسے کام ہیں جن سے اردو تحقیق میں نئے مباحث پیدا ہو سکتے ہیں۔
اردو کی ادبی تاریخ کو زیادہ جامع بنانے کے لیے غیر معروف ادیبوں، شاعروں اور محققین کی خدمات کا تعارف بھی ضروری ہے۔ بہت سی ادبی شخصیات نے اپنے اپنے زمانے میں قابلِ ذکر کام کیا، لیکن ان کے حالات اور تصانیف عام ادبی مباحث میں زیادہ جگہ نہیں پا سکے۔ اسی طرح مختلف علاقوں میں اردو ادب کی جو روایتیں پروان چڑھیں، ان کا مطالعہ بھی اردو کی مجموعی ادبی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ گلستانِ اردو میں علاقائی ادب، مقامی ادبی تحریکوں، نادر تصانیف، قدیم رسائل اور کم معروف ادبی شخصیات پر تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، تاکہ ادبی تاریخ کے ان گوشوں کو بھی سامنے لایا جا سکے جن کی طرف اب تک کم توجہ دی گئی ہے۔
اردو زبان کا مطالعہ بھی تحقیق کا ایک وسیع میدان ہے۔ زبان کی تاریخ، اس کے ارتقا، قواعد، لغت، صوتیات، صرف و نحو، معنیات، رسم الخط اور مختلف علاقوں میں اس کے استعمال سے متعلق موضوعات اردو کے لسانی مطالعے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ بدلتے ہوئے زمانے میں زبان کے استعمال، نئی اصطلاحات، دوسری زبانوں کے اثرات اور ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی صورتِ حال پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ گلستانِ اردو ایسے مطالعات کے لیے جگہ فراہم کرتا ہے جن کے ذریعے اردو کی لسانی خصوصیات اور اس کے تاریخی و سماجی پس منظر کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
ترجمہ اور تقابلی ادب کے ذریعے بھی اردو کے علمی و ادبی مطالعے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ مختلف زبانوں کی تخلیقات کا باہمی مطالعہ ادبی روایتوں کے تعلقات، فنی مماثلتوں اور فکری اختلافات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ترجمہ صرف الفاظ کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل نہیں، بلکہ اس میں تہذیبی پس منظر، اسلوب، محاورے اور مفہوم کی منتقلی جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ اردو اور دوسری زبانوں کے ادب کے باہمی روابط، ترجمے کے مسائل اور مختلف ادبی روایتوں کے تقابلی مطالعے سے متعلق تحقیقی کام بھی مجلے کے دائرۂ اشاعت میں آتے ہیں۔
اردو کا قدیم علمی و ادبی سرمایہ مخطوطات، نادر کتابوں، رسائل اور مختلف مطبوعہ نسخوں میں محفوظ ہے۔ ان متون کی تلاش، تدوین، تصحیح اور تحقیق کے ذریعے ادب کی تاریخ سے متعلق کئی اہم معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔ مخطوطات کے مطالعے، مختلف نسخوں کے تقابل، کتابوں کی اشاعتی تاریخ، مصنفین کی نسبت اور متون کی صحت سے متعلق کام اس لیے اہم ہیں کہ ان سے ادبی ورثے کو درست صورت میں سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ گلستانِ اردو ایسے تحقیقی مطالعات کی اشاعت میں دلچسپی رکھتا ہے جو اس علمی سرمائے کی شناخت اور تفہیم میں اضافہ کریں۔
ادب اپنے عہد کے انسان، معاشرے اور تہذیب سے الگ نہیں ہوتا۔ تخلیقات میں سماجی حالات، انسانی رشتوں، طبقاتی فرق، تہذیبی تبدیلیوں اور فکری کشمکش کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔ اس لیے ادب کو اس کے تاریخی اور سماجی پس منظر میں پڑھنا بھی ضروری ہے۔ گلستانِ اردو میں تہذیبی و ثقافتی مطالعات، عوامی ادب، لوک روایتوں، نسائی مطالعے، علاقائی شناخت، سماجی تنقید اور ادب و معاشرے کے تعلق سے متعلق موضوعات کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ ایسے مطالعات سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ادبی تخلیقات اپنے زمانے کے حالات سے کس طرح اثر قبول کرتی ہیں اور انسانی تجربات کو کس انداز میں پیش کرتی ہیں۔
نئی نسل کے محققین کی علمی کاوشوں کو سامنے لانا بھی اس مجلے کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ریسرچ اسکالرز اور نوجوان اہلِ قلم کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اپنے موضوعات پر کام کرنے اور اپنی تحقیق کو علمی حلقوں تک پہنچانے کے مواقع میسر آئیں۔ ان کی حوصلہ افزائی سے اردو تحقیق میں نئے سوالات، نئے موضوعات اور نئے زاویے سامنے آ سکتے ہیں۔ گلستانِ اردو چاہتا ہے کہ نوجوان محققین اور تجربہ کار اہلِ علم کے درمیان رابطہ بڑھے اور علمی کام کا تبادلہ مختلف نسلوں اور اداروں کے درمیان جاری رہے۔
گلستانِ اردو اردو زبان و ادب کو کسی ایک خطے تک محدود کرکے نہیں دیکھتا۔ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور دنیا کے دوسرے ممالک میں اردو کے حوالے سے مختلف نوعیت کا علمی و ادبی کام ہو رہا ہے۔ ان علاقوں کی ادبی روایتوں، تحقیقی رجحانات اور علمی تجربات سے واقفیت اردو کے مطالعے کو وسعت دیتی ہے۔ مختلف ملکوں اور اداروں سے تعلق رکھنے والے محققین کے کام کو ایک جگہ جمع کرنے سے نہ صرف علمی رابطوں میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ اردو ادب کے ایسے پہلو بھی سامنے آتے ہیں جن تک کسی ایک علاقے کے مطالعے سے پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس طرح اردو تحقیق کو بین الاقوامی علمی مکالمے سے مربوط کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
آن لائن اشاعت نے علمی مواد تک رسائی کو آسان بنایا ہے۔ گلستانِ اردو اس سہولت کے ذریعے اردو میں ہونے والی تحقیق کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اوپن ایکسس کی بنیاد پر تحقیقی مواد کی دستیابی سے طلبہ، اساتذہ، محققین اور دیگر قارئین کو اپنے مطالعے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ اردو کے علمی و ادبی سرمائے کو ڈیجیٹل صورت میں محفوظ رکھنے اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے قابلِ رسائی بنانے کی اہمیت بھی کم نہیں۔ معیاری تحقیق جب وسیع حلقے تک پہنچتی ہے تو اس پر مزید کام کے امکانات پیدا ہوتے ہیں اور علمی مباحث آگے بڑھتے ہیں۔
گلستانِ اردو کے نزدیک تحقیق کا فائدہ اسی وقت وسیع ہوتا ہے جب اس سے حاصل ہونے والی معلومات اور نتائج دوسرے محققین کے لیے بھی کارآمد ہوں۔ کسی موضوع پر کیا گیا کام آئندہ تحقیق کے لیے بنیاد فراہم کر سکتا ہے، کسی معروف رائے پر نظرثانی کا سبب بن سکتا ہے یا ایسے مواد کی نشان دہی کر سکتا ہے جس پر مزید کام کی ضرورت ہو۔ اس لیے مجلہ اردو ادب اور زبان سے متعلق ایسے موضوعات کو سامنے لانے کا خواہاں ہے جن کی علمی افادیت انفرادی مطالعے سے آگے بڑھ کر پورے تحقیقی حلقے کے لیے اہمیت رکھتی ہو۔
گلستانِ اردو کی مجموعی کوشش اردو زبان و ادب کے مطالعے کو وسعت دینا، اس کے علمی سرمائے کی حفاظت کرنا اور معیاری تحقیق کو دنیا بھر کے قارئین تک پہنچانا ہے۔ اس کے ذریعے کلاسیکی اور جدید ادب، معروف اور غیر معروف ادبی شخصیات، لسانی و تہذیبی مطالعات، ترجمہ، متنی تحقیق اور دیگر متعلقہ علمی موضوعات پر کام کرنے والوں کو ایک مشترک پلیٹ فارم میسر آتا ہے۔ امید ہے کہ یہ علمی کوشش اردو تحقیق کے ذخیرے میں اضافے، نئے تحقیقی موضوعات کی نشان دہی اور اردو زبان و ادب کے سنجیدہ مطالعے کے فروغ میں اپنا حصہ ادا کرتی رہے گی۔