gulistaneurdu.in

اصول و ضوابط Rules & Regulations

مجلے کا دائرۂ کار

گلستانِ اردو میں اردو زبان و ادب اور اس سے متعلقہ علمی شعبوں میں تحقیق و تنقید پر مبنی مقالات شائع کیے جاتے ہیں۔ مجلے کے دائرۂ کار میں کلاسیکی و جدید ادب، شاعری، افسانہ، ناول، ڈراما، تحقیق، تنقید، لسانیات، تقابلی ادب، ترجمہ، مخطوطات، اقبالیات، غالبیات، دکنیات، ادبی تاریخ، صحافت، تہذیبی و ثقافتی مطالعات، عوامی ادب اور دیگر متعلقہ علمی موضوعات شامل ہیں۔ مقالہ اسی وقت اشاعت کے لیے زیرِ غور آئے گا جب اس کا موضوع مجلے کے دائرۂ کار سے مطابقت رکھتا ہو اور اس میں واضح علمی و تحقیقی افادیت موجود ہو۔

مقالے کی اصالت اور غیر مطبوعہ ہونا

مقالہ مصنف کی اپنی علمی کاوش ہونا چاہیے۔ ایسا مقالہ قبول نہیں کیا جائے گا جو پہلے کسی کتاب، تحقیقی مجلے، اخبار، کانفرنس کی کارروائی، ویب سائٹ یا کسی دوسرے اشاعتی ذریعے سے شائع ہو چکا ہو۔ اسی طرح ایک ہی مقالہ بیک وقت کسی دوسرے مجلے میں اشاعت کے لیے زیرِ غور نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مقالہ کسی سابقہ تحقیقی کام یا مصنف کی اپنی شائع شدہ تحریر سے اخذ کیا گیا ہو تو اس کی نوعیت اور سابقہ اشاعت کی تفصیلات واضح کرنا ضروری ہوگا۔

تحقیقی معیار اور علمی افادیت

مقالے میں موضوع کا واضح تعین، مناسب تحقیقی طریقۂ کار، منظم استدلال، معتبر مآخذ اور نتائج کی معقول وضاحت موجود ہونی چاہیے۔ محض معلومات جمع کرنے، عمومی بیانات دینے یا سابقہ تحریروں کو معمولی تبدیلی کے ساتھ پیش کرنے کو معیاری تحقیقی کام نہیں سمجھا جائے گا۔ مصنف سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے موضوع پر دستیاب اہم تحقیق سے واقف ہو اور اپنے مطالعے کے ذریعے کوئی علمی نکتہ، نئی تعبیر یا قابلِ قدر نتیجہ سامنے لائے۔

مقالے کی زبان اور ترتیب

مقالہ شستہ، سلیس اور معیاری اردو میں لکھا جائے۔ املا، رموزِ اوقاف، عبارت کی ترتیب، اصطلاحات اور جملوں کی ساخت کا خیال رکھا جائے۔ غیر ضروری طوالت، تکرار، غیر متعلقہ مواد اور غیر واضح عبارت سے گریز کیا جائے۔ مقالے میں عنوان، ذیلی عنوانات، اقتباسات، اشعار، جدولوں اور دیگر ضروری اجزا کو مناسب ترتیب سے پیش کیا جائے، تاکہ تحریر پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو۔

خلاصہ اور کلیدی الفاظ

ہر تحقیقی مقالے کے ساتھ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں خلاصہ اور کلیدی الفاظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ خلاصے میں تحقیق کا موضوع، بنیادی مقصد، طریقۂ مطالعہ اور اہم نتائج مختصر انداز میں بیان کیے جائیں۔ کلیدی الفاظ ایسے ہوں جو مقالے کے مرکزی موضوع اور اہم مباحث کی درست نمائندگی کریں اور آن لائن تلاش کے ذریعے متعلقہ تحقیق تک رسائی میں مدد دیں۔

مصنف کی معلومات

مقالے کے ساتھ مصنف کا مکمل نام، ادارے اور شعبے کا نام، عہدہ یا تعلیمی حیثیت، فعال ای میل ایڈریس اور مختصر علمی تعارف فراہم کیا جائے۔ اگر مقالہ ایک سے زیادہ مصنفین نے لکھا ہو تو تمام مصنفین کی معلومات اور ان کی علمی وابستگی درج کی جائے۔ مقالے میں شامل ہر مصنف کا تحقیق میں حقیقی علمی حصہ ہونا چاہیے۔ مصنفین کی ترتیب باہمی اتفاق سے طے کی جائے اور اشاعت کے دوران اس میں تبدیلی کی درخواست کی صورت میں تمام متعلقہ مصنفین کی رضامندی درکار ہوگی۔

ریویو کا طریقۂ کار

گلستانِ اردو میں مقالات کی جانچ بلائنڈ ریویو کی پالیسی کے طریقے کے تحت کی جائے گی۔ اس طریقۂ کار میں مقالہ نگار کی شناخت جائزہ نگاروں سے خفیہ رکھی جائے گی اور جائزہ نگاروں کی شناخت بھی مقالہ نگار پر ظاہر نہیں کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے مقالے کے متن میں مصنف کا نام، ادارے کی شناخت یا ایسی کوئی معلومات شامل نہیں ہونی چاہییں جن سے مقالہ نگار کی شناخت ظاہر ہو سکتی ہو۔ مصنف کی ذاتی اور ادارہ جاتی معلومات الگ فراہم کی جائیں گی۔

موصول ہونے والے مقالات کا پہلے ابتدائی ادارتی جائزہ لیا جائے گا۔ اس مرحلے پر موضوع کی مناسبت، بنیادی تحقیقی معیار اور ضروری اجزا کی موجودگی دیکھی جائے گی۔ ابتدائی جانچ میں موزوں پائے جانے والے مقالات متعلقہ شعبے کے ماہرین کو بھیجے جائیں گے۔ ماہرین مقالے کی اصالت، تحقیقی طریقۂ کار، دلائل، مآخذ اور نتائج کا جائزہ لیں گے۔ ان کی آرا کی روشنی میں مقالہ قبول کیا جا سکتا ہے، اصلاح کے لیے واپس بھیجا جا سکتا ہے یا مسترد کیا جا سکتا ہے۔

ابتدائی جانچ یا ماہرین کو مقالہ بھیجے جانے کا مطلب اشاعت کی ضمانت نہیں ہے۔ منظوری کا فیصلہ علمی معیار اور موصولہ جائزوں کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ مصنف کے عہدے، شہرت یا مالی حیثیت کی بنیاد پر۔

ادارتی فیصلہ اور اصلاحات

مجلسِ ادارت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مقالے کو قبول کرے، مسترد کرے یا ضروری اصلاحات کے لیے مصنف کو واپس بھیجے۔ اگر ماہرین کی رائے میں مقالے کے کسی حصے کی وضاحت، مآخذ کی تکمیل یا استدلال میں بہتری ضروری ہو تو مصنف سے ترمیم کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ اصلاح شدہ مقالہ دوبارہ جانچ کے لیے بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ مجلسِ ادارت کا فیصلہ دستیاب علمی شواہد اور جائزے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ مقالہ مسترد ہونے کی صورت میں، جہاں مناسب ہو، مصنف کو فیصلے کی بنیادی وجہ سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

علمی سرقہ اور تحقیقی بددیانتی

کسی دوسرے مصنف کی تحریر، خیال، تحقیق، ترجمے یا نتائج کو مناسب حوالہ دیے بغیر اپنے نام سے پیش کرنا علمی سرقہ ہے۔ جعلی حوالہ جات، مآخذ میں تحریف، من گھڑت معلومات، نتائج میں دانستہ رد و بدل، خود سرقہ اور کسی دوسرے کی تحقیق کو اپنی کاوش ظاہر کرنا علمی بددیانتی شمار ہوگا۔

مقالے میں علمی سرقے یا کسی دوسری سنگین بے ضابطگی کی نشان دہی ہونے پر اسے مسترد کیا جا سکتا ہے۔ اگر معاملہ اشاعت کے بعد سامنے آئے تو مجلہ اس کی نوعیت اور دستیاب شواہد کے مطابق وضاحت، اصلاح یا مقالے کی واپسی سمیت مناسب کارروائی کر سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں مصنف سے وضاحت طلب کی جا سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ ادارے سے رابطہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا استعمال

مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات سے حاصل ہونے والا متن، ترجمہ، تجزیہ یا حوالہ مصنف کی علمی جانچ کے بغیر مقالے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ مصنف اس بات کا ذمہ دار ہوگا کہ مقالے میں درج تمام معلومات، اقتباسات، حوالہ جات اور نتائج درست اور قابلِ تصدیق ہوں۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ غیر مصدقہ حوالہ جات یا من گھڑت معلومات قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔

اگر مقالے کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کے کسی آلے کا ایسا استعمال کیا گیا ہو جس نے تحقیق، تحریر، ترجمے یا تجزیے پر نمایاں اثر ڈالا ہو تو مصنف اس استعمال کی نوعیت واضح کرے۔ مصنوعی ذہانت کو مصنف کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا اور تحقیق کی صحت و اصالت کی مکمل ذمہ داری مصنف پر عائد ہوگی۔

حوالہ جات اور مآخذ

مقالے میں استعمال ہونے والے تمام اقتباسات، خیالات، معلومات اور نتائج کے مآخذ واضح طور پر درج کیے جائیں۔ کتاب، مقالے، رسالے، مخطوطے یا آن لائن ماخذ کا حوالہ اس انداز میں دیا جائے کہ قارئین اصل مواد تک رسائی حاصل کر سکیں۔ جہاں ضروری ہو، مصنف کا نام، عنوان، ناشر، مقامِ اشاعت، سنِ اشاعت اور صفحہ نمبر درج کیا جائے۔ آن لائن مواد کے لیے متعلقہ ویب لنک اور دیگر ضروری تفصیلات فراہم کی جائیں۔

نامکمل، غیر مصدقہ یا غلط حوالہ جات کی صورت میں مقالہ اصلاح کے لیے واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ مجلسِ ادارت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ ایسے مقالے کو مسترد کر دے جس کے مآخذ کی تصدیق ممکن نہ ہو یا جس میں حوالہ جاتی نظام بنیادی تحقیقی تقاضوں کے مطابق نہ ہو۔

حقوقِ اشاعت اور آزادانہ رسائی

گلستانِ اردو ایک آن لائن مجلہ ہے جس کا مقصد شائع شدہ علمی مواد تک قارئین کی رسائی کو آسان بنانا ہے۔ مجلے میں شائع ہونے والے مقالات کے حقوقِ اشاعت اور دوبارہ استعمال کی شرائط ویب سائٹ پر واضح کی جائیں گی۔ مصنفین کو چاہیے کہ اشاعت کے لیے مقالہ بھیجتے وقت ان شرائط سے واقف ہوں اور یہ اطمینان کر لیں کہ ان کے فراہم کردہ متن، تصاویر، جدولوں اور دیگر مواد کے استعمال سے کسی تیسرے فریق کے حقوق متاثر نہیں ہوتے۔

شائع شدہ مقالے کو کسی دوسرے پلیٹ فارم پر دوبارہ شائع کرنے یا اس کے کسی حصے کو استعمال کرنے کی صورت میں اصل اشاعت اور مجلے کا حوالہ برقرار رکھا جائے۔ دوبارہ استعمال کے لیے مجلے کی ویب سائٹ پر درج حقوقِ اشاعت اور لائسنس کی شرائط کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا۔

اشاعتی فیس اور مالیاتی پالیسی

گلستانِ اردو ایک خود مختار تحقیقی مجلہ ہے۔ اس کا کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے، انجمن، جامعہ یا تنظیم سے ادارہ جاتی تعلق نہیں ہے۔ مجلہ کسی فرد، سرکاری ادارے، غیر سرکاری تنظیم یا بیرونی ادارے سے مالی تعاون یا اشاعتی سرپرستی حاصل نہیں کرتا۔ اس کی ویب سائٹ اور اشاعتی سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مصنفین سے اشاعت کے مرحلے پر مقررہ فیس وصول کی جاتی ہے۔

مقالے کی اشاعت کے لیے فیس 1,000 روپے مقرر ہے۔ یہ رقم مقالے کی منظوری کے بعد اور اشاعت سے قبل وصول کی جاتی ہے۔ اس سے حاصل ہونے والی رقم ویب سائٹ کے اخراجات اور مجلے کے آن لائن اشاعتی انتظامات پر صرف کی جاتی ہے۔

مقالہ اگر جانچ کے کسی بھی مرحلے پر مسترد کر دیا جائے تو مصنف سے کوئی اشاعتی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ محض مقالہ بھیجنے یا اس کے زیرِ جائزہ ہونے کی بنیاد پر بھی فیس واجب نہیں ہوگی۔ فیس کی ادائیگی مقالے کی منظوری کی ضمانت نہیں اور نہ ہی اس سے ماہرین کے جائزے یا ادارتی فیصلے پر کوئی اثر پڑے گا۔ مقالے کی منظوری کا فیصلہ اس کے علمی معیار اور جائزے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

اشاعتی سرٹیفکیٹ

گلستانِ اردو میں مقالہ شائع ہونے کے بعد متعلقہ مصنف کو اشاعتی سرٹیفکیٹ فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ شائع شدہ مقالے کی تصدیق کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اس میں مصنف کا نام، مقالے کا عنوان اور اشاعت سے متعلق ضروری معلومات درج کی جاتی ہیں۔ سرٹیفکیٹ مقالے کی اشاعت کے بعد جاری ہوگا؛ محض مقالہ موصول ہونے یا زیرِ جائزہ ہونے کی بنیاد پر اشاعتی سرٹیفکیٹ فراہم نہیں کیا جائے گا۔

مفادات کا ٹکراؤ

مصنف، جائزہ نگار یا مجلسِ ادارت کے کسی رکن کے ذاتی، مالی یا پیشہ ورانہ مفادات اگر کسی مقالے کے جائزے یا اشاعتی فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہوں تو اس صورتِ حال کو واضح کیا جانا چاہیے۔ ایسے معاملات میں غیر جانب دارانہ جائزے کو یقینی بنانے کے لیے مناسب انتظام کیا جائے گا۔ کسی بھی مقالے کے بارے میں فیصلہ ذاتی تعلقات، ادارہ جاتی وابستگی یا بیرونی دباؤ کے بجائے علمی معیار کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

مصنفین کے حقوق اور ذمہ داریاں

مصنف اس بات کا ذمہ دار ہوگا کہ مقالے میں پیش کردہ معلومات درست ہوں، مآخذ کی نشان دہی کی گئی ہو اور کسی دوسرے فرد یا ادارے کے علمی کام کو غلط طور پر اپنے نام سے پیش نہ کیا گیا ہو۔ مصنف کو اپنے مقالے کی جانچ کے دوران ادارتی سوالات کے جواب دینے اور مطلوبہ وضاحت یا اصلاح فراہم کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

مصنف کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ادارتی فیصلے سے متعلق مناسب وضاحت طلب کرے یا کسی حقیقی علمی غلطی کی نشان دہی کرے۔ ایسی درخواست پر مجلسِ ادارت دستیاب شواہد کی بنیاد پر غور کر سکتی ہے۔ مصنف کی علمی رائے اور مجلے کے ادارتی فیصلے میں اختلاف کی صورت میں گفتگو شائستگی اور علمی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

شکایات اور نظرِ ثانی

اگر کسی مصنف کو مقالے کی جانچ، ادارتی فیصلے یا اشاعتی عمل کے متعلق کوئی سنجیدہ شکایت ہو تو وہ مجلے کے ادارتی رابطے کے ذریعے تحریری طور پر اپنی شکایت پیش کر سکتا ہے۔ شکایت میں متعلقہ مقالے کی تفصیلات، معاملے کی وضاحت اور دستیاب شواہد شامل ہونے چاہییں۔ مجلسِ ادارت شکایت کی نوعیت کے مطابق اس کا جائزہ لے گی۔ شکایت یا نظرِ ثانی کی درخواست سے اشاعت کی ضمانت پیدا نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی بنیاد پر علمی معیار سے متعلق شرائط میں رعایت دی جائے گی۔

اشاعت کے بعد اصلاح اور واپسی

اگر کسی شائع شدہ مقالے میں ایسی غلطی سامنے آئے جو اس کے مفہوم، حوالہ جات یا نتائج پر اثر انداز ہوتی ہو تو معاملے کی نوعیت کے مطابق اصلاح یا وضاحت شائع کی جا سکتی ہے۔ اگر سنگین علمی بددیانتی، جعلی معلومات، علمی سرقے یا کسی دوسری بنیادی بے ضابطگی کے قابلِ اعتماد شواہد سامنے آئیں تو مجلہ مناسب تحقیق کے بعد مقالے کی واپسی یا تنسیخ کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ ایسے فیصلوں کا مقصد علمی ریکارڈ کی صحت اور قارئین کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہوگا۔

اشاعت اور ڈیجیٹل محفوظات

گلستانِ اردو میں شائع ہونے والے مقالات مجلے کے آن لائن شماروں اور ڈیجیٹل محفوظات میں دستیاب ہوں گے۔ مجلہ اپنے شائع شدہ مواد کو منظم انداز میں محفوظ رکھنے اور قارئین کے لیے اس تک رسائی آسان بنانے کی کوشش کرے گا۔ اشاعت کے بعد مقالے کا عنوان، مصنف کا نام اور اصل اشاعت کا حوالہ برقرار رکھا جائے گا، تاکہ اس کے علمی استعمال اور حوالہ دہی میں سہولت ہو۔

ادارتی خود مختاری اور غیر جانب داری

گلستانِ اردو ایک خود مختار مجلہ ہے اور اس کی اشاعتی سرگرمیاں کسی بیرونی ادارے یا مالی معاون کی ہدایات کے تابع نہیں ہیں۔ مجلے کے علمی اور ادارتی فیصلے مقالے کے معیار، موضوع سے مطابقت اور تحقیقی افادیت کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ مصنف کی قومیت، مذہب، زبان، جنس، سیاسی رائے، ادارے یا ذاتی حیثیت کو مقالے کے علمی جائزے میں ترجیح یا محرومی کا سبب نہیں بنایا جائے گا۔

رابطہ اور ادارتی مراسلت

مقالے سے متعلق تمام مراسلت مجلے کی ویب سائٹ پر درج ای میل یا ادارتی رابطے کے ذریعے کی جائے۔ مصنف مقالہ بھیجتے وقت اپنی رابطے کی معلومات درست فراہم کرے اور ادارتی مراسلت کے دوران متعلقہ مقالے کا عنوان یا دیگر شناختی تفصیلات درج کرے، تاکہ معاملے کو بروقت دیکھا جا سکے۔

Scroll to Top