تقی عابدی کی شاعرانہ جہات کا تنقیدی مطالعہ
ڈاکٹر سمیہ باغبان
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو اسکول آف لنگویجزاینڈ لٹریچر
پنیہ شلوک اہلیہ دیوی ہولکر سولاپور یونیورسٹی سولاپور
عصر حاضر کی اردو شاعری میں سید تقی حسن عابدی ایک ایسے شاعر کے طور پر ابھرتے ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے نہ صرف روایتی غزل کی حدود کو وسعت بخشی ہے بلکہ معاصر سماجی، جذباتی اور فلسفیانہ مسائل کو بھی اپنے اشعار میں اس طرح سمویا ہے کہ ان کی شاعری ایک آئینہ بن جاتی ہے جو انسانی نفسیات کی گہرائیوں کو عیاں کرتی ہے۔ تقی عابدی، جو پیشے سے ایک طبیب ہیں اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کا تخلص تقی ہے اور وہ اردو ادب کے ایک ممتاز محقق اور شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی روایات کا تسلسل ہے مگر وہ اسے معاصر سیاق و سباق سے جوڑ کر ایک نئی جہت عطا کرتے ہیں۔ ان کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں غزلیں، نظمیں اور تنقیدی مضامین شامل ہیں۔ وہ اردو کی نعتیہ شاعری اور میرزا دبیر کی شاعری پر بھی ماہرانہ کام کر چکے ہیں۔ ان کی اہم کتابوں میں شہید، جوشِ مودّت، گلشنِ رویا، اقبال کے عرفانی زاویے، انشاء اللہ خان انشاء، رموزِ شاعری، اظہارِ حق، مجتہدِ نظم مرزا دبیر، طالعِ مہر، سلکِ سلامِ دبیر، تجزیہ یادگارِ انیس، ابواب المصائب، ذکر درباران، عروسِ سخن، مصحف فارسی دبیر، مثنویات دبیر، کائناتِ نجم (جلد اول)، کائناتِ نجم (جلد دوم)، روپ کنوار کماری، دربارِ رسالت، فکرِ مطمئنہ، خوشہ انجم، امجد فہمی، دْرِ دریائے نجف، تاثیر ماتم، نجمی مایا، روشِ انقلاب، مصحفِ تغزل، ہوالنجم، تعشق لکھنوی، ادبی معجزہ، غالب دیوان نعت و منقبت، چوں مرگ آید، رباعیاتِ دبیر، سبدِ سخن، کلیاتِ غالب فارسی (دو جلد، اردو)، دیوانِ غالب دہلوی (فارسی، ایرانی ایڈیشن)، فیض فہمی، مطالعہ دبیر کی روایت، رباعیاتِ رشید لکھنوی رباعیاتِ انیس، فیض شناسی، حالی فہمی، مسدس حالی، کلیاتِ حالی، بچوں کے حالی، سلامِ و کلام انیس، کلیاتِ سعید شہیدی، گلزار کی تخلیقی صنف تروینی تشریح و تجزیہ، باقیات و نادرات فیض احمد فیض، برج شرف، اردو کی دو شاہکار نظمیں، بال مکند بے صبر، مطالعہ رباعیاتِ فراق گورکھپوری، حالی کی نظمیں، حالی کی نعتیہ شاعری، مقالات حالی، انتخاب مراثی دبیر، گلستان ہند، دیوان فراق گورکھپوری کامل، تعمیرِ بقا (اردو)، تعمیرِ بقا (ہندی)، تقی عابدی کے مقالات کا بن، نیرنگ سرحدی شخصیت اور فن (اردو) وغیرہ شامل ہیں، جو اردو ادب کے مختلف پہلوؤں جیسے نعت، منقبت، رباعیات، مثنویات اور مشہور شعرا کی تخلیقات پر گہری تحقیق اور تنقید پیش کرتی ہیں۔ تقی عابدی کی یہ کاوشیں اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کرتی ہیں اور انہیں عالمی سطح پر اردو کی فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والے دانشور کے طور پر جانا جاتا ہے۔
تقی عابدی کی شاعری کی جہات کو سمجھنے کے لیے ان کی غزلوں اور اشعار کا مطالعہ ضروری ہے جو انسانی تنہائی، سماجی ناانصافیوں، فطرت کی خوبصورتی اور شاعرانہ تخیل کی عکاسی کرتے ہیں۔تقی عابدی کی شاعری میں جذباتی گہرائی ایک مرکزی عنصر ہے جو انسانی زندگی کی بے بسی اور تنہائی کو بیان کرتی ہے، اور یہ جہت ان کی غزلوں میں بار بار سامنے آتی ہے جہاں شاعر اپنے اندرونی کرب کو الفاظ کا جامہ پہناتا ہے۔ اس کے علاوہ، ان کی شاعری سماجی تنقید سے بھی بھری پڑی ہے جہاں وہ معاشرتی تضادات اور انسانی حقوق کی پامالی پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔ فطری عناصر کا استعمال بھی ان کی شاعری کو ایک الگ رنگ دیتا ہے جہاں پھول، کانٹے، بارش اور ستارے جیسے استعارے انسانی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ فلسفیانہ سطح پر، ان کی شاعری زندگی کی بے ثباتی اور کائنات کی اسرار کو چھوتی ہے، جبکہ شاعرانہ اسلوب میں زبان کی نزاکت اور تشبیہات کی جدت نمایاں ہے۔ یہ تمام جہات مل کر تقی عابدی کو ایک ہمہ جہت شاعر بناتی ہیں جن کی شاعری نہ صرف پڑھنے والے کو متاثر کرتی ہے بلکہ سوچنے پر مجبور بھی کرتی ہے۔ اب ہم ان کی شاعری کی جذباتی جہت کی طرف آتے ہیں جہاں تنہائی اور غم کی لہریں شاعر کے دل کی گہرائی سے ابھرتی ہیں اور قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہیں۔ڈاکٹر فرمان فتح پوری لکھتے ہیں:
’’تقی عابدی اپنے مسقط الراس سے بظاہر بہت دور شمالی امریکہ اور کینیڈا میں بستے ہیں۔ ظاہر دور میں نے یوں کہا کہ باطن وہ آج بھی اپنے آبائی وطن عزیز سے بہت قریب ہیں اوران کا دل جنوبی ہند کے سیاسی و سماجی نشیب و فراز کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ دل کی یہ دھڑکن ایشیائی مسلم ممالک کے نشیب و فراز تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ انسانی سطح پر دنیائے اسلام کے سارے خطوں کے تغیرات سے منسلک ہو جاتی ہے۔ ایسا ہونا نہ تو بے سبب ہے اور نہ اتفاقی و لاشعوری ہے بلکہ تقی عابدی کے افتاد طبع کے عین مطابق ہے، سوچا سمجھا ہے اور شعوری ہے، اس لئے کہ وہ اس محدود جمہوریت یا نظام حکومت کے قائل نہیں ہیں جو وطنیت کی تنگ نظری اور علاقائی قومیتیوں کی حد بندی سے جنم لے کر انسانی معاشرے کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے بلکہ وہ ایسے جمہوری نظام کے قائل ہیں جو انسانی قدروں اور انسان کے بنیادی حقوق کے مستقل تحفظ کی اساس پر استوار کیا گیا ہو، چنانچہ تقی عابدی کی شاعری میں محدود وطنیت کی نہیں بلکہ عالمی وطنیت داخوت کی گونج صاف سنائی دیتی ہے۔ وہ اقبال کے باشعور پرستاروں میں ہیں اور انہیں کی طرح اس بات پر یقین رکھتے ہیں ۔ ‘‘
(بحوالہ: ڈاکٹر فرمان فتح پوری، مشمولہ : شاعر ممبئی، شمارہ 10، سنہ2015، ص: 24)
تقی عابدی کی شاعری میں جذباتی جہت ایک ایسا پہلو ہے جو انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے، خاص طور پر تنہائی اور غم روزگار کی وہ کیفیت جو شاعر کو ایک بے بس مسافر کی مانند دکھاتی ہے۔ یہ جہت ان کی غزلوں میں اس طرح سے ابھرتی ہے کہ شاعر کی اندرونی دنیا قاری کے سامنے کھل جاتی ہے، اور وہ اپنے آپ کو اس تنہائی میں شریک محسوس کرتا ہے۔ اس جذباتی اظہار میں شاعر کی زبان سادہ مگر پر اثر ہوتی ہے، جو روزمرہ کی زندگی کی تلخیوں کو شاعرانہ پیرائے میں پیش کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ان کی ایک غزل میں تنہائی کی یہ کیفیت بڑی شدت سے محسوس ہوتی ہے جہاں شاعر اپنے ارد گرد کی دنیا سے کٹ کر ایک نامعلوم موڑ پر کھڑا محسوس کرتا ہے۔ اس غزل کے اشعار میں غم کی گہرائی اور انسانی رشتوں کی بے وفائی کا عنصر نمایاں ہے جو شاعر کی جذباتی دنیا کی عکاسی کرتا ہے:
کس کو صدا کروں کہ کوئی ہم نوا نہیں
کس موڑ پر کھڑا ہوں مجھے خود پتہ نہیں
اتنا گرایا مجھ کو غم روزگار نے
میں آسمان کے بھی برابر رہا نہیں
وہ آنسووں میں مجھ کو بہا کر چلے گئے
سیلاب میری آنکھ کا لیکن رکا نہیں
نور نظر ہی بن گیا اب آنسووں کا تار
آنکھوں سے تیرا نقش جدا تو ہوا نہیں
احباب آ گئے ہیں تقی دفن کے لئے
کس نے کہا کہ دوست ترے با وفا نہیں
ان اشعار میں تقی عابدی نے تنہائی کی اس کیفیت کو بیان کیا ہے جو انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے، مگر شاعر اسے ایک فلسفیانہ گہرائی دے کر پیش کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں ’’کس کو صدا کروں‘‘ کا سوال شاعر کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ غم روزگار کی شدت اسے آسمان سے بھی گرا دیتی ہے، جو استعاراتی طور پر انسانی عروج و زوال کی طرف اشارہ ہے۔ آنسووں کا سیلاب اور نور نظر کا تار بن جانا محبت کی یادوں کی ابدی حیثیت کو بیان کرتا ہے، اور آخری شعر میں احباب کی آمد دفن کے لیے ایک تلخ طنز ہے جو دوستی کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ اشعار نہ صرف جذباتی ہیں بلکہ سماجی رشتوں کی کمزوری کو بھی اجاگر کرتے ہیں، جو تقی عابدی کی شاعری کی ایک اہم جہت ہے۔ اس جذباتی اظہار سے آگے بڑھتے ہوئے، شاعر کی شاعری میں ایک اور جذباتی پہلو خوابوں کی شکست اور زندگی کی تلاش ہے جو ان کی ایک اور غزل میں سامنے آتا ہے، جہاں شاعر خود کو ایک مسافر کی مانند دکھاتا ہے جو بکھرے ہوئے گیتوں کو چن رہا ہے۔ یہ جہت شاعری کو ایک روحانی سطح پر لے جاتی ہے جہاں ادب کی خلعت اور غیب کی آواز شاعر کی تخلیقی قوت کی علامت بنتی ہیں:
شکستہ خواب کی تعبیر دھن رہا ہوں میں
فضا میں بکھرے ہوئے گیت چن رہا ہوں میں
ادب کی خلعت زرباف بن رہا ہوں میں
حریم غیب کی آواز سن رہا ہوں میں
یہ اشعار تقی عابدی کی جذباتی دنیا میں ایک نئی جہت کھولتے ہیں جہاں خوابوں کی شکست کو تعبیر دینے کی کوشش شاعر کی تخلیقی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے۔ ’’شکستہ خواب کی تعبیر دھن رہا ہوں‘‘ میں شاعر کی باطنی کشمکش نظر آتی ہے، جبکہ فضا میں بکھرے گیت چننا شاعری کی تخلیق کے عمل کو بیان کرتا ہے۔ ادب کی خلعت زرباف بننا اور حریم غیب کی آواز سننا شاعر کو ایک روحانی مقام عطا کرتا ہے، جو کلاسیکی شاعری کی روایت سے جڑا ہے مگر معاصر سیاق میں تازگی لیے ہوئے ہے۔ یہ اشعار شاعر کی اندرونی دنیا کو ظاہر کرتے ہیں جہاں جذباتی کرب تخلیقی قوت میں تبدیل ہو جاتا ہے، اور یہ تقی عابدی کی شاعری کی ایک منفرد خصوصیت ہے جو انہیں دیگر شاعروں سے ممتاز کرتی ہے۔ جذباتی جہت کے علاوہ، تقی عابدی کی شاعری میں سماجی تنقید ایک اہم عنصر ہے جو معاشرتی ناانصافیوں، ظلم اور انسانی حقوق کی پامالی پر کڑی نظر رکھتی ہے، اور یہ جہت ان کی نظموں میں خاص طور پر نمایاں ہے جہاں وہ معاصر دور کی تضادات کو بے نقاب کرتے ہیں۔
تقی عابدی کی شاعری سماجی تنقید کے حوالے سے ایک تیز دھار تلوار کی مانند ہے جو معاشرے کی منافقت اور ظلم کو کاٹتی چلی جاتی ہے، اور یہ جہت ان کی شاعری کو ایک سماجی دستاویز کی حیثیت دیتی ہے۔ وہ معاصر دور میں انسانی نقاب پہنے حیوانوں، ظالموں کے ہاتھ میں عدالت اور کمزوروں کی پامالی کو بیان کرتے ہیں، جو ایک تلخ حقیقت کی عکاسی ہے۔ اس تنقید میں شاعر کی زبان سخت مگر شاعرانہ ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ان کی ایک نظم میں معاشرتی تضادات کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ یہ دور حاضر کی تصویر کشی کرتی ہے جہاں حقیقت بولنے والا کوئی نہیں اور لاشوں پر در زنداں کھولنے والا غائب ہے۔
آج حیوان صفت پہنے ہیں انسانی نقاب
آج ہر ہاتھ میں رہتی ہے تمدن کی کتاب
آج ظالم کے حوالے ہے عدالت کا حساب
آج قمری کا نگہبان ہے خونخوار عقاب
ایسے عالم میں کوئی ہے جو حقیقت بولے
بند لاشوں پر کوئی ہے در زنداں کھولے
ان اشعار میں تقی عابدی نے معاشرتی منافقت کو بڑی شدت سے بیان کیا ہے، جہاں انسانی نقاب پہنے حیوان تمدن کی کتاب تھامے ہیں، جو تہذیب کی آڑ میں بربریت کی علامت ہے۔ ظالم کے ہاتھ میں عدالت اور قمری کا نگہبان عقاب ہونا ناانصافی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے، اور آخری اشعار میں حقیقت بولنے والے کی عدم موجودگی معاشرے کی خاموشی پر طنز ہے۔ یہ تنقید نہ صرف سماجی ہے بلکہ سیاسی بھی، جو تقی عابدی کی شاعری کو ایک احتجاجی رنگ دیتی ہے اور قاری کو سماجی تبدیلی کی طرف راغب کرتی ہے۔ اس سماجی تنقید سے جڑی ایک اور جہت معاشرتی رہنماؤں اور عیب بینوں کی ہے جو ان کی ایک اور غزل میں سامنے آتی ہے، جہاں شاعر لوگوں کو آئینہ دکھانے اور محبت کی روشنی پھیلانے کی تلقین کرتا ہے۔ یہ جہت سماجی تنقید کو ایک مثبت سمت دیتی ہے جہاں اصلاح کی امید موجود ہے۔
بھٹکے ہوئے منزل پہ پہنچ جائیں گے خود ہی
رستوں سے اگر رہنماوں کو ہٹا دو
لوگوں میں فقط عیب نظر آتے ہیں جس کو
اس کو بھی کبھی آئینہ خانہ میں بٹھا دو
خود روشنی پھیلے گی محبت کی زمیں پر
جو تم سے جفا کرتا ہے تم اس کو دعا دو
یہ اشعار تقی عابدی کی سماجی تنقید میں ایک تعمیری پہلو کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں غلط رہنماؤں کو ہٹانے سے راستے خود کھل جاتے ہیں، جو کرپٹ قیادت پر طنز ہے۔ عیب بین کو آئینہ دکھانا خود شناسی کی اہمیت کو بیان کرتا ہے، اور جفا کرنے والے کو دعا دینا محبت کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے جو سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔ یہ اشعار شاعری کو ایک اخلاقی درس کی حیثیت دیتے ہیں، جو تقی عابدی کی شاعری کی گہرائی کو بڑھاتے ہیں اور سماجی مسائل کو حل کرنے کی راہ دکھاتے ہیں۔ سماجی تنقید کے بعد، تقی عابدی کی شاعری میں فطری عناصر کی جہت ایک اہم مقام رکھتی ہے جو انسانی جذبات کو فطرت کی خوبصورتی سے جوڑتی ہے، اور یہ جہت ان کی شاعری کو ایک رومانی رنگ دیتی ہے جہاں پھول، کانٹے، شبنم اور چاندنی جیسے عناصر استعاراتی طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
تقی عابدی کی شاعری میں فطرت کا استعمال نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ معنی خیز بھی، جہاں فطری عناصر انسانی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں اور شاعری کو ایک تصویری جہت دیتے ہیں۔ وہ کلی کو بادہ شبنم پلانے اور کانٹے کا چہرہ لہو سے سجانے جیسے استعاروں سے شاعری کو زندہ کر دیتے ہیں، جو تخلیق کے عمل کی علامت ہیں۔ اس جہت میں شاعر خود کو چمن کا معمار اور صحرا کا برگ و بار کہتا ہے، جو فطرت اور انسانی تخیل کے امتزاج کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، ان کی ایک نظم میں فطرت کی یہ تصویریں انسانی جذبات سے جڑی ہوئی نظر آتی ہیں جہاں شاعر خیال کو پر جبریل دے کر ایک الہی سطح پر لے جاتا ہے۔
کلی کو بادہ شبنم پلا دیا میں نے
لہو سے کانٹے کا چہرا سجا دیا میں نے
چمن کو آتش گل سے بھی جلاتا ہوں
صدائے بانگ درا سے کبھی جگاتا ہوں
خیال کو پر جبریل دے دیا میں نے
قلم میں رنگ گلستاں کو بھر لیا میں نے
جو منزلوں کو ملائے وہ رہگزار ہوں میں
چمن سرشت ہوں صحرا کا برگ وبار ہوں میں
صدائے کلک میں روداد زندگانی ہو
میں کائنات کی اک ان کہی کہانی ہوں
ان اشعار میں تقی عابدی نے فطرت کو شاعری کی روح بنا دیا ہے، جہاں کلی کو شبنم پلانا اور کانٹے کو لہو سے سجانا خوبصورتی اور درد کے امتزاج کو بیان کرتا ہے۔ چمن کو جلانا اور جگانا تخلیقی عمل کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ خیال کو پر جبریل دینا شاعری کو الہی وحی سے جوڑتا ہے۔ شاعر خود کو رہگزار، چمن سرشت اور کائنات کی ان کہی کہانی کہہ کر اپنی تخلیقی حیثیت کو بلند کرتا ہے، جو فطری عناصر کو فلسفیانہ جہت دیتا ہے۔ یہ اشعار شاعری کی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں اور تقی عابدی کی تخیل کی پرواز کو دکھاتے ہیں۔ فطری جہت سے جڑی ایک اور مثال ان کی شاعری میں چاندنی اور ساون کی ہے جو محبت کی علامت بنتی ہے، اور یہ جہت رومانی جذبات کو فطرت سے ملاتی ہے جہاں رویا کا اثر نور نظر کی صورت میں ابھرتا ہے۔
ننھے ہونٹوں پہ بہاروں کا ترانہ لے کر
برف کے دور میں ساون کا زمانہ لے کر
چاندنی بن کے مرے صحن میں اتری ہے وہ
بن کے رنگین کنول جھیل میں بیٹھی ہے وہ
ہے یہ رویا کا اثر
مل گئی نورنظر
اسکی تعبیر نہیں
ویسی تصویر نہیں
ایسی تحریر ہے وہ جس کی تفسیر نہیں
یہ اشعار تقی عابدی کی فطری شاعری میں رومانی عنصر کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں ننھے ہونٹوں پر بہار کا ترانہ اور برف میں ساون محبت کی آمد کو بیان کرتا ہے۔ چاندنی اور رنگین کنول کی تصویریں خوبصورتی کی علامت ہیں، جبکہ رویا کا اثر اور نور نظر کی ملاقات محبت کی اسرار کو ظاہر کرتی ہے۔ آخری اشعار میں تعبیر، تصویر اور تفسیر کی عدم موجودگی محبت کی لافانی حیثیت کو بیان کرتی ہے، جو فطرت کو ایک روحانی جہت دیتی ہے۔ یہ اشعار شاعری کو ایک مسحور کن دنیا میں تبدیل کر دیتے ہیں اور تقی عابدی کی تخیل کی وسعت کو دکھاتے ہیں۔ فطری عناصر کے بعد، تقی عابدی کی شاعری کی فلسفیانہ جہت ایک اہم پہلو ہے جو زندگی کی بے ثباتی، لفظوں کی طاقت اور حسن کی زنجیر کو چھوتی ہے، اور یہ جہت ان کی شاعری کو ایک گہری سوچ کی طرف لے جاتی ہے۔
تقی عابدی کی شاعری میں فلسفیانہ جہت انسانی وجود کی تلاش اور کائنات کی اسرار کو بیان کرتی ہے، جہاں نظر بت تراشوں کی چٹانوں میں صنم دیکھتی ہے اور لفظوں میں ٹوٹے قلم۔ یہ جہت شاعری کو ایک فکری سطح پر لے جاتی ہے جہاں خم و پیچ اور زلف جاناں کے خم زندگی کی پیچیدگیوں کی علامت بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان کی ایک غزل میں یہ فلسفیانہ نظر سامنے آتی ہے جہاں دور حاضر کی عجائبات کو بیان کیا گیا ہے۔
نظر بت تراشوں کی جن کو ملی ہے
چٹانوں کے اندر صنم دیکھتے ہیں
عجب دور ہے یہ کہ لفظوں کے اندر
ادیبوں کے ٹوٹے قلم دیکھتے ہیں
خم و پیچ و عالم کو بھی دیکھ لیں گے
ابھی زلف جاناں کے خم دیکھتے ہیں
ان اشعار میں تقی عابدی نے فلسفیانہ نظر کو بیان کیا ہے، جہاں بت تراش چٹانوں میں صنم دیکھتے ہیں جو تخیل کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ لفظوں میں ٹوٹے قلم دیکھنا ادبی جدوجہد کی علامت ہے، جبکہ زلف کے خم سے عالم کے خم و پیچ تک کا سفر زندگی کی پیچیدگیوں کو بیان کرتا ہے۔ یہ اشعار شاعری کو ایک فکری گہرائی دیتے ہیں اور تقی عابدی کی فلسفیانہ سوچ کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس فلسفیانہ جہت سے جڑا ایک اور شعر شاعری کی بستی میں خوف کو بیان کرتا ہے جو ادبی دنیا کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔
کچھ ایسا خوف تھا شعر و ادب کی بستی میں
میں اپنے نام کی تختی بھی گھر لگا نہ سکا
یہ شعر تقی عابدی کی فلسفیانہ شاعری میں ادبی دنیا کی سختی کو بیان کرتا ہے، جہاں خوف کی وجہ سے شاعر اپنا نام بھی نہیں لگا سکتا، جو شناخت کی تلاش اور ادبی معاشرے کی تنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ شعر شاعری کو ایک وجودی سوال بنا دیتا ہے اور تقی عابدی کی گہری سوچ کو دکھاتا ہے۔ فلسفیانہ جہت کے علاوہ، تقی عابدی کی شاعری کا اسلوب ایک منفرد جہت ہے جو زبان کی نزاکت، تشبیہات کی جدت اور خیال کی رنگینی سے بھرا ہے، اور یہ جہت ان کی شاعری کو کلاسیکی اور معاصر کا امتزاج بناتی ہے۔
تقی عابدی کی شاعری کا اسلوب روایتی غزل کی حدود میں رہتے ہوئے بھی جدت لیے ہوئے ہے، جہاں خیال کو رنگین نوا اور لوح و قلم سے جوڑا جاتا ہے، اور شاعر عروس سخن کی زلف کو سنوارتا ہے۔ یہ اسلوب شاعری کو ایک فنکارانہ سطح پر لے جاتا ہے جہاں الفاظ کی موسیقی اور معنی کی گہرائی مل کر ایک جادو پیدا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، ان کے ایک شعر میں خیال کی رنگینی کو بیان کیا گیا ہے جو شاعرانہ اسلوب کی عکاسی کرتا ہے۔
مرے خیال سے رنگین نوا ہیں لوح و قلم
سنوارے میں نے عروس سخن کی زلف کے خم
یہ شعر تقی عابدی کے اسلوب میں زبان کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں خیال کی رنگینی لوح و قلم کو نوا دیتی ہے، اور عروس سخن کی زلف سنوارنا شاعری کے تخلیقی عمل کو بیان کرتا ہے۔ یہ شعر کلاسیکی روایت سے جڑا ہے مگر تازگی لیے ہوئے ہے، جو تقی عابدی کی مہارت کو دکھاتا ہے۔ اس اسلوب کی ایک اور مثال دھوپ کے صحرا میں سایہ کی تلاش ہے جو استعاراتی طور پر زندگی کی بے رحمی کو بیان کرتی ہے۔
تم دھوپ کے صحرا میں کے ڈھونڈ رہے ہو
یہ جھاڑ ہیں کانٹوں کے جو سایہ نہیں کرتے
یہ شعر تقی عابدی کے اسلوب میں سادگی اور گہرائی کا امتزاج ہے، جہاں دھوپ کا صحرا اور کانٹوں کے جھاڑ زندگی کی سختیوں کی علامت ہیں، اور سایہ نہ کرنے والے جھاڑ مایوسی کو بیان کرتے ہیں۔ یہ شعر شاعری کو ایک فلسفیانہ جہت دیتا ہے اور تقی عابدی کی زبان کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔ آخر میں، تقی عابدی کی شاعری کی ایک اور جہت حسن اور انصاف کی ہے جو ایک احتجاجی رنگ لیے ہوئے ہے، جہاں شاعر خاموشی توڑنے اور بات سننے کی بات کرتا ہے۔
انصاف ترا دیکھنے اے حسنِ جہاں گیر
ہم عدل کی زنجیر ہلائیں گے کسی دن
خاموش ہیں اس وقت تری بزم میں لیکن
جو بات سنانی ہے سنائیں گے کسی دن
یہ اشعار تقی عابدی کی شاعری میں احتجاج کی جہت کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں حسن جہاں گیر کے انصاف کو چیلنج کیا جاتا ہے، اور عدل کی زنجیر ہلانا تبدیلی کی امید ہے۔ خاموشی کے باوجود بات سنانے کا وعدہ شاعری کو ایک انقلابی رنگ دیتا ہے، جو تقی عابدی کی شاعری کی طاقت ہے۔ خاتمے میں، تقی عابدی کی شاعری کی یہ تمام جہات مل کر انہیں اردو ادب کا ایک ممتاز شاعر بناتی ہیں جن کی غزلیں اور اشعار نہ صرف جذباتی اور سماجی ہیں بلکہ فلسفیانہ اور فطری بھی، اور ان کی شاعری معاصر دور کے مسائل کو حل کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ اردو ادب کے طلبا اور محققین کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے جو نئی نسلوں کو متاثر کرے گا۔
٭٭٭
حوالہ جاتی کتب
٭ گلشن رویا، تقی عابدی
٭ جوش مؤدت، تقی عابدی
٭ سید تقی عابدی،شخصیت اور فن ایک مختصر جائزہ،ڈاکٹر محمد زبیر صدیقی، سنہ2015
٭ ماہنامہ، شاعر ممبئی، شمارہ 10، سنہ2015،
٭ حکیم الامت،خصوصی نمبر :تقی عابدی نمبر،شمارہ نمبر : 3,4,5، سنہ2019