gulistaneurdu.in

ابن کنول کے افسانوں میں عصری مسائل

ابن کنول کے افسانوں میں عصری مسائل

ڈاکٹر گلاب سنگھ

بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی میں جن فنکاروں نے اردو ادب اور درس وتدیس کے دامن کو وسیع تر کیا۔ ان میں ایک نام ابن کنول کا بھی ہے ۔پروفیسرناصر محمود کمال المعروف ابن کنول نے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ اردو ادب میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ انھوں نے خاکہ نگاری، تنقید و تحقیق اور افسانہ نگاری کے میدان میںایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔ان کی افسانہ نگاری پر اگر مختصر اور دو تین لفظوں میں تبصرہ کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ’’ قدیم داستانوں کا اختصار‘ ‘۔ان کے افسانوں پر داستانوی رنگ و آہنگ پوری طرح حاوی ہے اور انہوں نے خود بھی کہا ہے کہ ان کی افسانہ نگاری قدیم داستانوں سے متاثر ہے۔ابن کنول لکھتے ہیں:

’’میں نے اردو کی تقریباً سبھی معروف داستانوں کا مطالعہ کیا ہے۔داستانوں کے ذریعے میں نے کہانی بیان کرنے کا ہنر سیکھا ہے ۔داستانوں کی طرح کہانی میں کہانی پیدا کرکے میں افسانے کا پلاٹ تیار کرتا ہوں۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ انتظار حسین سے متاثر ہوکریہ انداز اختیا ر کیا گیا ہے۔ایسا نہیں ہے ،میں نے براہ راست داستانوںکا اثر قبول کیا ہے ۔‘‘ ۱؎

جیسا کہ محولہ بالا اقتباس سے  ابن کنول کی انفرادیت کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے قدیم داستانوں کو عصری حسیت سے جوڑا اور انہیں ایک نئے اور دلکش انداز میں پیش کرکے نئے افسانے کو ادب سے متعارف کرایا ۔ابن کنول کے تین افسانوی مجموعے شائع ہوکر مقبول ہوئے ان میں ’’ تیسری دنیا کے لوگ‘‘ جو 1984 میں منظر عام پر آیا دوسرا’’ بند راستے‘‘ جو 2000 میں شائع ہو اور تیسرا ’’ پچاس افسانے‘‘ہے جو 2001 میں شائع ہوکر مقبول عام ہوا۔ ابن کنول کے جو افسانے مجموعے کی شکل میں شائع ہوئے ان میں سے بیشتر مختلف رسائل میں بھی چھپ چکے ہیں ۔پہلے مجموعے میں کچھ ایسے افسانے بھی ہیں جو ایک نوجوان یا ناپختہ ذہن کا پتہ دیتے ہیں لیکن انہیں افسانوں سے مستقبل کے ایک منفرد افسانہ نگار کا پتہ بھی ملنے لگتا ہے ۔جس دور میں ابن کنول نے لکھنا شروع کیا ،اس دور میں افسانہ تجربات و تجرید کے بھول بھلیوں میں بھٹک رہا تھا۔

ترقی پسند تحریک سے متاثر ادیب افسانے کو لال جھنڈا اور پروپیگنڈہ بناچکے تھے۔جدیدیت اپنے خال و خط سمیٹ رہے تھے اور مابعد جدیدیت میں بھی نئے تجربات کی پرپیچ گلیوں میں افسانہ کہیں گم سا نظر آرہا تھا ۔اس دور میں انتظار حسین  کے افسانے اپنے نئے رنگ و آہنگ کی وجہ سے نئے لکھنے والوں کو متاثر کررہے تھے۔سید محمد اشرف ،طارق چھتاری،غضنفر،پیغام آفاقی،غیاث الرحمن،صلاح الدین پرویز،سلام بن رزاق اور حسین الحق وغیرہ نے انتظار حسین کے اسلوب سے متاثر ہوکر افسانے لکھنے شروع کئے ۔اسی گروہ میں ناصر محمود کمال کے نام سے ایک نئے ادیب نے قدیم داستانوی اسلوب کو نیا روپ دے کر نئی طرز کے افسانے لکھے۔یہی ناصر محمود کمال آگے چل کر ابن کنول کے نام سے مشہورہوئے اور انہوں نے ہی داستان سے ناول تک،ہندوستانی تہذیب بوستان خیال کے تناظر میں،ریاض دلربا،تنقید و تحسین ،تحقیق و تدوین اور انتخاب سخن جیسی کتابیں لکھ کر ادبی دنیا میں اپنی تحقیقی،تنقیدی اور فکری صلاحیتوں سے متاثر کیا۔ناصرمحمود کمال کے ابن کنول بننے کا واقعہ یوں ہے کہ ان کے والد قاضی شمس الحسن کنول ڈبائیوی ایک مشہور و معروف شاعر تھے۔انہی سے نسبت کے سبب قاضی ناصر محمود کمال ،ابن کنول ہوگئے۔ابن کنول نے پہلا افسانہ 1972 میں لکھا اور 1975 میں ابن کنول کے نام سے لکھنا شروع کیا۔اپنی پہلی کہانی سے ہی وہ ادب کے قارئین کی نظر میں سماگئے تھے ۔ڈاکٹر رضا محمود اپنی کتاب ’’ ابن کنول کی افسانہ نگاری ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ابن کنول نے طالب علمی کے زمانے میں ہی شاعری اور افسانہ نگاری میں شہرت حاصل کی تھی ۔ان کی کہانیوں کا بخوبی اندازہ داستانوی اسلوب سے لگایا جاسکتا ہے۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ( انہوں نے ) داستانوی بیان کو اظہار کا وسیلہ بنایاہے۔ان کی کہانیاں موجودہ عہداور ان کے مسائل سے پوری طرح ہم آہنگ ہیںجس میں انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کی جیتی جاگتی تصویریں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہیں۔‘‘ ۲؎

ابن کنول کے افسانے عصری شعور سے بھر پور ہیں۔انہوں نے جیسا دیکھااور جو محسوس کیا اسے ایک خاص اسلوب سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کردیا۔ان کے لکھنے کا مقصد ایک ادیب کے طور اپنی انفرادیت کا قیام یا شہرت و نام وری نہیں تھا بلکہ وہ اپنے افسانوں سے سماج میں ایک انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے ۔وہ چاہتے تھے لوگ ہوش کے ناخن لیں اور اپنے ارد گرد کی دنیاکو دیکھنے کے لئے پوری طرح بیدار ہوںاور انسانی مسائل کے تدارک و سدباب کے ازالے کی راہیں تلاش کریں۔وہ اپنے قاری کو حساس،انسانی جذبوں سے بھرپور،بیدار مغز،سماج کے لئے جواب دہ بنانے کی کوشش کرتے تھے چنانچہ ایک جگہ رقمطراز ہیں:

’’میں اس عالمِ آب و گل میں ابن آدم کے افعال و اعمال کو دیکھ کرجو کچھ محسوس کرتا ہوں،قلمبند کردیتا ہوںاور میں چاہتا ہوں کہ میرا قاری بھی اس درد واحساس کے دریا سے گذرے کہ جس سے میں گذرتا ہوں۔‘‘ ۳؎

ابن کنول کے افسانوں میں جہاں ایک طرف قدیم داستانوی ادب کا رنگ صاف نظر آتا ہے وہیں دوسری طرف ان کے افسانوں میں اسلامی تہذیب و ثقافت ،تاریخ و صداقت اور اقدار و روایت کی جھلکیاں بھی بہت واضح نظر آتی ہیں۔وہ انسانی زندگی کے داخلی و خارجی  اور نفسیاتی پہلوئوں پر بھی خصوصی نظر رکھتے ہیں اور انسانی ذہنوں میں ہورہی اتھل پتھل کو مؤثر الفاظ و انداز میں بیان کرنے کی قدرت بھی رکھتے ہیں۔وہ اپنے عہد کی اس طریقے سے ترجمانی کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس ماحول میں موجود پاتا ہے۔ان کی اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی کہانیوں کا تمام مواد اپنے آس پاس کے لوگوں سے حاصل کرتے ہیں اور اس کو ایک خاص انداز میں اس طرح بیان کردیتے ہیں کہ ہر کوئی سمجھنے لگتا ہے ’’ ہمارا حال ہمیں کو سنا گیا کوئی ۔‘‘

ابن کنول اپنے عہد کے سماجی ،سیاسی ،تہذیبی اور عام انسانی مسائل کو بے کم و کاست بیان کرتے ہیں اورکہانی کے بین السطور میں قاری کے کو احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر ابھی سے اس کے سدباب کی کوشش نہ کی گئی تو کل بہت دیر ہوجائے گی اس سلسلے میں ان کے افسانے ’’ آخری کوشش ‘‘ ،’’تیسری لاش ‘‘  اورواپسی کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’ تیسری دنیا کے لوگ ‘‘ کافی مشہور ہوا ہے اس میں کل 14 افسانے ہیں جن میں پہلا آدمی،تیسری دنیا کے لوگ،شام ہونے تک،بند راستے،تیسری لاش،جیت کسی کی ہار کسی کی،آخری کوشش،چھوٹی آپا،داؤد خاں،واپسی،اشرف المخلوق،دوسرا پاگل،فورتھ کلاس اور سراب وغیرہ ہیں۔ ان افسانوں میں بھارت اور پاکستان کے مشترکہ ملی مسائل،ایشائی کمیونٹی کے رات دن پیدا ہوتے ایشوز،عالمی سیاست کی قلابازیاں،عہدے اور اقتدار کی خاطر اہل سیاست کی خطرناک و پراسرار چالاکیاں اور دنیا کی معاشی حالت کی منظر کشی جابجا طور پر نظر آتے ہیں۔تیسری دنیا کے افسانے پر پر مغز بحث کرتے ہوئے مرزا حامد بیگ نے لکھا ہے :

’’ایک عافیت کا گوشہ،کچا پکا مکان،اس کے سامنے ایک چھتنار درخت اور اس کی طرف نکل جانے والی بل کھاتی پگڈنڈی۔بذات خود ایک تجربہ ہے لیکن اسی راستے پر آنے جانے کا روز کا تجربہ ہمیں رفتہ رفتہ ہمیں ہر چیز کا عادی بنادیتا ہے۔زندگی کی امنگ رفتہ رفتہ مفقود ہوتی چلی جاتی ہے۔تیسری دنیا کی آبادی اسی خود کار عمل کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں کبھی دائیں اور کبھی بائیں کے نام پر یکجا کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرا کر Exhaustکردیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ حکمراں ٹولیایک دوسرے کو تحفظات      دیتے چلے آتے ہیں تقریر کچھ ہے عمل اور کچھ۔وہی بل کھاتی پگڈنڈی انقلاب انقلاب، چیخ چیخ کر گلے بیٹھ گئے ۔کہیں کچھ نہ بدلا۔وہی کلہاڑی اور وہی کلہاڑی کا دستہ اور سامنے نئی ضروریات کا جم غفیر۔کیا ایسے میں تخلیق کار بھی ان کی مدد نہ کرے ؟ اگر ایسے میں تخلیق کار بھی انہیں جمود کی طرف ہی لائے گا تو اس کا نتیجہ انتہائی بھیانک نکلے گا۔‘‘ ۴؎

اسی اقتباس کو ابن کنول نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے کے حرف آغاز میں شامل کرکے اپنے افسانے کی غرض و غائیت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ابن کنول نے اپنے افسانے کی تخلیق کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے مزید لکھا ہے:

’’ایک طرف اگرنئی ضروریات کا ہجوم خوفناک اژدہوں کی طرح منہ کھولے زبانیں لپلپا رہا ہے اور خوفزدہ آدمی سمٹتے اپنے وجود کو کھورہا ہے تو دوسری جانب ذات،پات،فرقہ و مذہب کی چمکتی ہوئی قبائیں زیب جسم کئے بھیڑیے اپنے جبڑوں سے ٹپکتا لہوچاٹ رہے ہیں۔اور پھر فیوڈل قدریںسیاہ جونکوں کی طرح تیسری دنیا کے تنومند جسموں سے لپٹی  چپکے چپکے تواناعزائم کا خون پی رہی ہیں ۔جو تخلیق کا اس بھیانک پیش منظر کی طرف سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں،کیا وہ اس سے زیادہ بھیانک جرم کے مرتکب نہیں ہوتے ۔؟‘‘  ۵؎

مذکورہ تحریر میں ابن کنول نے اپنے افسانے کی مقصدیت کو واضح کردیا ہے کہ موجودہ سماج جس اضطراب،بے چینی،پریشانی، استحصال،پسماندگی،افلاس اور بے کسی وبے بسی کا شکار ہے اس سے نظر بچاکر کوئی تخلیق ذہنی عیاشی اور فضول قلم کاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔یعنی میرے افسانے سماجی،سیاسی حاکموں ،عہداروں اور اقتدار پسندوں کے اجلے لباس میں پوشیدہ گندگی کو اجاگر کرنے کے مقصد سے لکھے گئے ہیں اور اسی پس منظر میں انہیں پڑھنے کی ضرورت ہے۔گوکہ ان کے افسانے داستانوی طلسم سے شروع ہوتے ہیںاور پھر یہ رنگ و آہنگ قاری کو اپنے جادو میں جکڑ کرافسانے کی داستان میں محو کردیتا ہے ۔ابن کنول رفتہ رفتہ یہ طلسم توڑتے ہیں اور اپنے قاری کو آج کی دنیا میں لا کھڑا کرتے ہیں یہی شاید ان کی انفرادیت بھی ہے ۔چند افسانوں کی ابتدا ملاحظہ کریں:

’’اچانک آفتاب کی تیز شعاعیں مانند پیکاںاس کی نگاہوں سے اتر کر پورے جسم میں پھیل گئیںاور اس کا بدن مثل بدرمنیر پرنور آئینہ خانہ بن گیا ۔اس کے اعضائے بدن سے کرنیں پھوٹنے لگیں۔۔۔۔۔کئی برس تک مسلسل قطرہ قطرہ آفتاب اس کے بدن میں اترا تھاجس نے اس کے قلب تاریک کو کوہِ نور میں بدل دیا۔ اور اب وہ خوش تھا کہ امروز و فردا وہ اپنی عمر گزشتہ کے سچے خوابوں کی دنیا میں پہنچ جائے گاجن سے رخصت ہوکر وہ چند برس پہلے ایک سفر سخت کے لئے حاکمِ وقت ہمراہ روانہ ہوا تھاکہ وہ بادشاہ وقت کی فوج کا سپاہی تھااور بادشاہ اپنے ملک کی سرحد پر آئے ہوئے دشمن کے مقابلے کے لئے دار الخلافہ سے اپنی فوج کے ساتھ چلا تھا۔‘‘  ۶؎

’’اورجب بادشاہ نے سفر سے مراجعت کی دارالخلافہ پہنچ کر اس نے وزیر اعظم کو حکم دیا کہ ’’کل دن کے پہلے پہر میں ہم دربار عام کریں گے۔شہر میں یہ اعلان کرادیا جائے۔تمام خلائق شہر دیوان عام میں جمع ہوں۔‘‘حکم شاہی برفتار برق شہر کے ایک ایک گوشے میں پھیلادیا گیا۔روزِ فردا تمام مرد و زن ،پیروجواں خورد و کلاں اس طرح اپنے چہروں پر بیتابیاں لئے ہوئے دیوان عام میں اس طرح اکھٹے ہوئے جیسے غیب سے کوئی معجزہ ظہور میں آنے والاہو۔ہر نظر میں ایک ہی سوال تھا کہ بادشاہ آج ایساکیا اعلان کرے گا کہ جس کے لئے زچہ بچہ کو بھی دربار میں حاضر ہونے کا حکم ہوا ہے۔‘‘  ۷؎

غرض تیسری دنیا کے لوگ کے تمام افسانے اسی انداز سے شروع ہوتے ہیں اور کچھ دیر خوابوں کی سی جھلمل دنیا میں غرقاب کرکے رفتہ رفتہ حقیقی دنیا کی طرف لاتے ہیں۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ جس وقت ابن کنول نے افسانہ نگاری شروع کی اس وقت دنیا تین حصوں میں منقسم تھی۔روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کا عروج تھا۔کچھ ممالک روس کے ساتھ تھے ،کچھ امریکہ کے حامی اور کچھ غیر جانبدار تھی۔اسی کو علی الترتیب پہلی دنیا،دوسری دنیا اور تیسری دنیا کہا جاتا ہے ۔پہلی دوسری دنیا کے لوگ امیر کہلاتے ہیں اور تیسری دنیا کے عوام غریب۔ابن کنول نے تیسری دنیا کے لوگوں کے مسائل کو اپنے افسانے کا مرکز بنایا ۔انہوں نے افسانوں کے بین السطور میںبتانا چاہا ہے کہ امیر ممالک غریب ملکوں کے عوام پر کس طرح جبرو تشدد کے پہاڑ توڑتے ہیں۔کس طرح اپنے ہتھیاروں کی ہولناکی کا مظاہرہ یا تشہیر کرتے ہیں اور کس طرح دنیا کو کنٹرول کرنے کی سازشیں انجام دیتے ہیں اور کس طرح غریب ملکوں کو اپنا غلام بنانے اور بلیک میل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ان کے افسانے ’’ لکڑ بھگا زندہ ہے ‘‘، ’’آخری آدمی‘‘ اور ’’ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ‘‘  اسی کیفیت کے مظہر ہیں۔مذکورہ افسانے علامتی اسلوب میں لکھے گئے ہیں لیکن علامتیں ایسی ہیں کہ عام قاری ادیب کے ذہن تک آسانی سے پہن جاتا ہے۔ عام طور پر افسانوں کی زبان سادہ،عام فہم،سلیس اور آسان ہیں لیکن کہیں کہیں عربی و فارسی کے ثقیل الفاظ کا استعمال کرکے داستان کا انداز اپنانے کی غرض سے عبارت بوجھل بنادیا گیا ہے۔کچھ علامتیں ایسی بھی ہیں جنہیں خالص اسلامی تاریخ سے لیا گیا ہے عام قاری جو اسلامی تاریخ سے ناواقف ہے ،ان کے لئے ایسی لفظیات نا قابلِ فہم ہوسکتی ہیں:

’’اور پھر حضرت نے اسے آئینہ دیا جس کا نام مرات الغیب تھا اور جس میں ہر چیز کا حقیقی روپ نظر آتا تھا ۔ اُس نے دریافت کیا۔’’اے مخزن اسرار الہی اس آئینے کا کیا مصرف ہے ۔‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔ ۸؎

اسی طرح کئی جگہ ابن کنول کی زبان دانی بھی مجروح ہوئی ہے ۔جیسے اسی افسانے ’’ پہلا آدمی ‘‘ میں بادشاہ کہتا ہے:

 ’’ ملک بہروپ ،بہت حسین ملک ہے اور ایک بات جو ہم سب کے لئے باعث حیرت ہوگی کہ وہاں کے تمام لوگ مع بادشاہ کے اپنے جسموں پر غلاف کی طرح لباس چڑھائے ہوئے تھے۔‘‘۹؎

یہاں مع کے ساتھ ’ کے ‘ زبان کی لذت اور گرامر کو مجروح کرتا ہے ۔’ کے ‘ کے بغیر بھی بات مکمل تھی ۔اسی طرح کئی افسانوں میں ابن کنول کی زبان دانی پر سوالیہ نشان لگتے ہیں۔ان عیوب کو دوسری بار پڑھنے لینے پر آسانی سے دور کیا جا سکتا تھا ۔حیرت اس پر بھی ہے کہ یہ افسانے عظیم افسانہ نگار انتظار حسین کی نظر سے بھی گذرے ہوں گے لیکن وہ بھی ان عیوب کو نظر انداز کرگئے۔علاوہ ازیں یہ افسانہ اپنے وقت کے معروف ادبی رسالے ’’ عصری آگہی ‘‘ میں غالباً۱۹۷۹میں شائع بھی ہوچکا ہے ۔اس ’ کے ‘ پر اعتراض اس لئے نہیں کہ ابن کنول کے افسانوں میں خامی تلاش کرکے ایک نئی بحث چھیڑی جائے بلکہ اس لئے بھی اس کا اظہار ضروری ہے کہ تنقید کو تنقید کی سرست راہ پر لانے کے کوششیں تیز ہوں۔تنقید کا مطلب محض برائیاں تلاش کرنا یا بلا وجہ کی خوبیاں ظاہر کرنا نہیں بلکہ تخلیق کو پوری طرح کھنگال کر خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرنا ہونا چاہئے ۔اب کنول بلاشبہ ایک بڑے ادیب اور صاحب طرز فنکار تھے ۔ان پر ملک کے سبھی نامور اور معتبر لوگوں نے مضامین تحریر کئے لیکن ان مضامین میں تہینت زیادہ ہے حقیقت کم ۔جناب رضا محمود اور اسرار احمد نے ابن کنول کی افسانہ نگاری پر عمدہ کتابیں لکھی ہیں لیکن دونوں کے یہاں ایک یہی کمی کھٹکتی ہے کہ انہوں نے تحسین و تہنیت پر زیادہ زور دیا ہے۔ جبکہ قلم کار کے سہو،غلطی اور فنی سقم پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا ہے ۔دونوں حضرات کم سے کم ابن کنول کی استعمال شدہ اسلامی اصطلاحات کو آسان لفظوں میں سمجھا سکتے تھے۔

بہر حال ابن کنول کی افسانہ نگاری کا یہ سفر، جو قدیم داستانوں کی جادوئی دنیا سے شروع ہو کر عصری سماج کی تلخ حقیقتوں تک پہنچتا ہے، اردو ادب کی ایک ایسی کڑی ہے جو نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کی بلندیوں کو چھوتی ہے بلکہ قاری کو بھی اپنے اندرونی شعور کی گہرائیوں میں اترنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ان کی تخلیقات کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ محض ایک کہانی سنانے والے نہیں، بلکہ ایک ایسے فنکار ہیں جو سماج کی نبض کو پکڑتے ہیں اور اسے داستان کی روانی سے سمیٹ کر پیش کر دیتے ہیں۔ ان کے افسانوں کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی داستانوی ساخت ہے، جو ابتدائی طور پر قاری کو ایک خیالی، جادوئی ماحول میں لے جاتی ہے،جیسے بادشاہوں کی درباروں، سپاہیوں کی جدوجہد، یا آئینہ جیسے علامتی عناصر سے بھری دنیا،لیکن پھر آہستہ آہستہ اسے حقیقت کی تلخ حقیقتوں کی طرف موڑ دیتی ہے۔ یہ تبدیلی محض ایک تکنیکی چال نہیں، بلکہ ایک شعوری عمل ہے جو قاری کو خواب کی دنیا سے جھنجھوڑ کر اس کے اپنے اردگرد کے مسائل کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ’’تیسری دنیا کے لوگ‘‘ میں یہ داستانوی آغاز نہ صرف قاری کی توجہ حاصل کرتا ہے بلکہ بعد میں تیسری دنیا کی غربت، استحصال اور سیاسی داؤپئیوں کی تصویر کشی کو ایک عجیب سی گہرائی عطا کر دیتا ہے، جہاں امیر ممالک کی سازشیں اور غریب عوام کی بے بسی ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔

ان کی زبان کی سادگی اور روانی بھی ایک ایسی خصوصیت ہے جو ان کے افسانوں کو عام قاری تک پہنچاتی ہے۔ ابن کنول کی تحریر میں عربی و فارسی کے الفاظ کا استعمال داستانوی رنگ کو اجاگر کرنے کے لیے تو مؤثر ہے، مگر جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، کبھی کبھار یہ بوجھل بھی ہو جاتی ہے۔ تاہم، یہ خامی ان کی مجموعی خوبیوں کو گھٹاتی نہیں بلکہ ان کی تخلیقی جرات کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ ان کے افسانوں میں انسانی نفسیات کی گہرائیوں کا بھی بڑا خوبصورت استعمال ہے؛ وہ نہ صرف خارجی مسائل جیسے معاشی نابرابری، فرقہ وارانہ فسادات، یا جاگیردارانہ نظام کی بیداد کو بیان کرتے ہیں بلکہ ان کے اندرونی اثرات،جیسے خوف، بے بسی، اور امید کی کرن کو بھی ایسے الفاظ میں سمو دیتے ہیں جو قاری کے دل کو چھو جاتے ہیں۔ ’’آخری کوشش‘‘ یا ’’تیسری لاش‘‘ جیسے افسانوں میں یہ نفسیاتی کشمکش اس طرح عیاں ہوتی ہے کہ قاری خود کو ان کرداروں کی جگہ محسوس کرنے لگتا ہے، اور یہ احساس اسے سماجی تبدیلی کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ مزید برآں، ان کی علامتیں، خاص طور پر اسلامی تاریخ اور تہذیب سے مستعارافسانوں کو ایک روحانی جہت دیتی ہیں، جو محض تفریحی عنصر کی بجائے قاری کو اخلاقی اور فکری سطح پر بھی چیلنج کرتی ہیں۔ یہ علامتیں، اگرچہ بعض اوقات ناواقف قاری کے لیے مبہم ہو سکتی ہیں، لیکن جب ان کا پس منظر سمجھ آ جائے تو افسانے کی گہرائی کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔

ابن کنول کے افسانوں کی ایک اور ممتاز خصوصیت ان کی سماجی و سیاسی شعور کی تیز بینی ہے۔ وہ اپنے عہد کی خامیوںجیسے اقتدار کی ہوس، طبقاتی تقسیم، اور عالمی سیاست کی چالاکیوںکو نہ صرف بیان کرتے ہیں بلکہ ان کے سدباب کی راہیں بھی اشاروں میں بتاتے ہیں۔ ان کی تحریر میں ترقی پسند تحریک کی جھلک تو ملتی ہے، مگر وہ اسے پروپیگنڈہ کی بجائے ایک فنکارانہ ترجمانی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں خواتین کے مسائل، دیہی زندگی کی جدوجہد، اور شہری انتشار کی تصویریں بھی جاندار ہیں، جو انہیں محض ایک داستان گو کی بجائے ایک سماجی مصلح کی حیثیت عطا کرتی ہیں۔ یہ خصوصیت ان کی تخلیقات کو عصری مسائل سے جوڑتی ہے، جہاں مہنگائی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے حسی، اقدار کا زوال، اور انسانی کشمکش جیسی چیزیں نہ صرف بیان ہوتی ہیں بلکہ قاری کو ان سے نبردآزما ہونے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔

ابن کنول کے افسانوں کے دیرپا اثرات اردو ادب کی تاریخ میں ایک نئی فصل کی طرح درخشاں ہیں۔ انہوں نے نہ صرف افسانہ نگاری کو داستانوی روایات سے جوڑ کر اسے ایک نئی جہت دی بلکہ نئی نسل کے افسانہ نگاروں کو بھی ایک ایسا ماڈل پیش کیا جس میں روایتی عناصر کو عصری حسیت سے ملایا جا سکتا ہے۔ انتظار حسین جیسے اساتذہ کے اسلوب سے الگ ہو کر انہوں نے ثابت کیا کہ افسانہ تجرید کی بجائے سماجی شعور کا آئینہ بن سکتا ہے، اور یہ سبق آج بھی نئے لکھاریوں کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے ’’تیسری دنیا کے لوگ‘‘ اور ’’بندر راستے‘‘ نہ صرف قارئین کے درمیان مقبول ہوئیں بلکہ تنقیدی حلقوں میں بھی بحث کا موضوع بنیں، جس سے اردو افسانے کی حدود کو وسیع کرنے میں مدد ملی۔ ان کے افسانوں نے سماجی مسائل کو اجاگر کرکے قارئین میں بیداری پیدا کی، خاص طور پر تیسری دنیا کی غربت اور استحصال جیسے موضوعات پر، جو آج بھی عالمی سطح پر متعلقہ ہیں۔ نتیجتاً، ان کی تخلیقات نے اردو ادب کو ایک ایسی سمت دی جہاں فن اور سماجی ذمہ داری کا امتزاج ممکن ہو سکتا ہے، اور یہ اثرات آنے والی نسلوں میں جاری رہیں گے، جو ان کی تحریروں سے نہ صرف تفریح حاصل کریں گی بلکہ اپنے عہد کی ذمہ داری بھی سمجھیں گی۔ ابن کنول کی افسانہ نگاری اردو ادب کی ایک ایسی روشن ستارہ ہے جو مستقبل کی راہوں کو منور کرتی رہے گی، اور ان کی یہ میراث قارئین اور ادیبوں دونوں کے لیے ایک لازوال رہنما بنے گی۔

٭٭٭

حواشی

۱           ماہ نامہ ماہ نور2007 صفحہ ۳۰-۲۹

۲          ابن کنول کی افسانہ نگاری ، ڈاکٹر رضا محمود ،۲۷-۲۶ قاسمی کتب خانہ  جموں۲۰۱۷

۳          افسانوی مجموعہ بند راستے  ص۶ ہم قلم پبلی کیشنز ، دہلی ۲۰۰۰

۴           افسانوی مجموعہ تیسری دنیا کے لوگ حرفِ آغاز  ص ۷،۱۹۸۴

۵          ایضاً ص ۸

۶          ایضاً ،ص ، ۵۳-۵۴

۷          افسانہ پہلا آدمی ص ۹

۸          ایضاً، ص ۱۴

۹          ایضاً، ص ۱۱

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top