ایس فضیلت: جہان طنز و مزاح کا شجر سایہ دار
ڈاکٹر افتخار احمد قادری(الف ناظم)
شعبہ اردو
گورنمنٹ گرلس پوسٹ گریجویٹ کالج، مچھلی بھون، رامپور
یوں تو ایس فضیلت صاحب بطور افسانہ نگار بھی مقبول ہیں اور بحیثیت ناول نگار بھی۔ ڈراما نگاری میں بھی انھوں نے شاہکار تخلیقات پیش کی ہیں اور اسکرپٹ رایٹنگ میں بھی اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔ان تمام اصناف میں ان کی گراں قدر تخلیقات کامطالعہ کیجیے تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایس ۔فضیلت کس صنف میں خود کو بہتر طریقے سے آشکار کر سکے ہیں۔اس کے علاوہ وہ میدانِ طنزو ظرافت کے شہسوار بھی ہیں۔ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے میں گزشتہ بیس برسوں سے فضیلت صاحب سے رسائل کے ذریعہ واقف ہوں اور رامپور میں جب تبادلہ ہو کر آیا تو انھیں دیکھنے اور سننے اور ان کی مزید تحریروں کو ’’ رامپور کے اعلان‘‘ میں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔2021 میں ایس۔ فضیلت کی کتاب ’’ ضرب لطیف ‘‘کی شاندار رسم رونمائی عمل میں آئی جس میں ایس۔ فضیلت کی شخصیت اور فنِ طنز و مزاح پر معتبر ناقدین و محققین کے ذریعہ سیر حاصل گفتگو ہوئی تو مجھے فضیلت صاحب کی طنزیہ و مزاحیہ تحریر یں پڑھنے کا اشتیاق ہوا۔’’ ضرب لطیف ‘‘ کا مطالعہ کیا تو میرے ذہن نے فوراً یہ تاثر قائم کیا کہ ایس۔ فضیلت صف اول کے طنزو ظرافت نگار بھی ہیں۔دوران مطالعہ ہی مجھے یہ محسوس ہوا کہ ایس۔فضیلت نے اپنے انوکھے اسلوب، عمیق مطالعہ،اپنے مزاج کی رنگا رنگی اور اپنی ذہانت کے ذریعہ انشائیوں اور خاکوں میں نئے نئے گوشے پیدا کرکے نہ صرف قارئین کے لیے تفریح کا سامان پیدا کیا ہے بلکہ سماجی اور سیاسی تلخیوں ، فرسودہ رسم و رواج،نئی نسل کی بے راوروی اور اخلاقی پستیوں کو بھی مزاح کے پیرائے میں پیش کرکے ذہنی کیتھارسس کا فریضہ بھی انجام دیا ہے۔
ایس ۔ فضیلت کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ سماجی و سیاسی تلخیوں اور بوالعجبیوں کو طنز و مزاح کے پیرائے میں جتنی بے باکی سے بے نقاب کیا جا سکتا ہے اتنا کسی اور صنف کے ذریعہ ممکن نہیں ، طنز و ظرافت نگار کو بات سے بات نکالنے کا ہنر آنا چاہیے۔موضوع چاہے جو بھی ہو ،ایس۔ فضیلت نئے پہلو اور گوشے نکال کر طنز و ظرافت کا سامان پیدا کر ہی لیتے ہیں،جنھیں پڑھ کرقاری کا ذہن سرور و انبساط کی کیفیت سے بھی دوچار ہوتا ہے اور میٹھا میٹھا درد اسے سوچنے پر بھی مجبور کر دیتا ہے۔اردو میں سیکڑوں رسائل و جرائد شائع ہوتے رہے ہیں ، آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے، لہٰذا پرنٹیڈ رسائل کی تعداد میں خاصی کمی آئی ہے اور اب بہت سے رسائل صرف آن لائن شائع ہوتے ہیں جن میں طنز و مزاح کے رسائل بھی خاصی تعداد میں شامل ہیں ۔ ان رسائل میں طنزیہ و مزاحیہ تحریریں تونظر آتی ہیں لیکن طنز و مزاح کی چاشنی بہت کم تحریروں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہم نے جب اردو کو پڑھنا شروع کی، اس وقت رسائل میں مجتبی ٰحسین ،یوسف ناظم، دلیپ سنگھ، فکر تونسوی کی مزاحیہ تحریریں رسائل کے وقار میں اضافہ تصور کی جاتی تھیں، جنھیں پڑھ کر سرور انبساط حاصل ہوتا تھا۔ مشتاق احمد یوسفی کی تو خیر بات ہی کیا، ان جیسا کوئی دوسرا طنزو مزاح کا فنکار نہ ہوا۔ اب نہ یوسف ناظم ہیں نہ مجتبی حسین،دلیپ سنگھ ہیں نہ فکر تونسوی۔ اب صرف ایس۔ فضیلت ہیں جو اس فن کی آبرو بنے ہوئے ہیں، نہ کوئی ان کے آگے ہے اور نہ پیچھے، لکھنے کو تو بہتیرے طنز ومزاح نگار اس میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں لیکن اس مشکل فن میں شگفتہ تحریریں لکھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔
طنزو مزاح نگار کا کام زندگی کو خوشگوار اور قابل برداشت بنانے کی کوشش کرنا ہے بقول شخصے سنجیدہ تحریروں کو پڑھ کر اگر انسان تکلیفوں کو رو رو کر کم کرتا ہے تو مزاحیہ تحریروں سے ہنس کر دل کا غبار نکالتا ہے ، ظاہر ہے کہ ہنسنے ہنسانے کا فن آسان نہیں ہے۔ ایس۔ فضیلت کا کمال یہ ہے کہ وہ مضحکہ خیز واقعات کو ضبط تحریر میں لاکر سرور و انبساط کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ ’مولانا ازاد ایک مہان آتنک وادی اور مولانا جوہر عالم ِ بالا سے عالمِ زیریں میں‘ وغیرہ تحریروں کو پڑھ کر نہ صرف ہم لطف اندوز ہوتے ہیں ، بلکہ عہد حاضر کی بوالعجبیوں اور سیاسی و سماجی نا ہمواریوں کا ہمیں شدید احساس ہوتا ہے ۔ان خاکوں میں جو شگفتگی و شائستگی ہے وہ عہد حاضر میں کسی اور طنزو ظرافت نگار کے یہاں مشکل ہی سے ملے گی۔ عام آدمی کے مسائل اور مصائب کو ایس فضیلت صاحب نے بڑے قریب سے مشاہدہ کیا ہے ،اس کتاب کی بیشتر تحریروں میں عام آدمی کے دکھ درد کو ہی طنز و مزاح کے پیرائے میں پیش کیا گیا ہے ، مصنف نے ’’ ضرب لطیف ‘‘ کا انتساب بھی عام آدمی کے نا م ذیل کے الفاظ میں کیا ہے:’’ اُس عام آدمی کے نام جس کے کرب اور اذیتیں اس کتاب کے بنیادی محرکات ہیں ‘‘مشتے نمونے از خروارے ،ہم یہاں دو تین مثالیں پیش کرتے ہیں جن سے ایس۔ فضیلت کی تحریر کی شگفتگی و شائستگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے:
’’ ناموں کے بارے میں ٹریجڈی یہ ہے کہ انسان اپنا نام خود نہیں رکھتا۔ اتنے اہم اور ذاتی مسئلے میں بھی وہ دوسرے کے عمل دخل کا محتاج ہوتا ہے، اوپر سے ستم ظریفی یہ کہ پیدائش جیسے نادانستہ گناہ کی پاداش میں دوسروں کے ذریعہ عاید کردہ اس فرد جرم کو نہ صرف یہ کہ انسان بلاوجہ قبول کر لیتا ہے بلکہ اپنے نام کو دنیا کا سب سے حسین نام سمجھ کر بغلیں بھی بجاتا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کچھ نام سزا سے کم نہیں ہوتے ۔‘‘(ناموں کا المیہ)
’’اکثر والدین کے جذباتی فیصلوں کا خمیازہ اولاد کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہماری رائے میں انسان کا نام اس کی پیدائش کے کم از کم 12 سال بعد رکھنا چاہیے۔ اس عرصہ میں پپو، گڈو، ٹائپ کے کسی بھی نام سے کام چلایا جا سکتا ہے جس کو سن بلوغت میں کینسل کرنے کا اس شخص کو نہ صرف اختیار حاصل ہو بلکہ رواج بھی ہو۔‘‘(ناموں کا المیہ)
’’ ایک صاحب کا نام عاشق حسین ہے ، وہ بیچارے اپنے نام کی رومانیت سے پریشان ہیں۔ اور اپنے والدین کو کوستے ہیں۔ اکثر یہ نام انھیں بڑی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے اسکول کی لیڈی ٹیچر کو اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں خط لکھا۔ اختتام پر حسب روایت لکھا۔ فقط آپ کا عاشق!
اب آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں کہ اس خط کے نتائج ان کو اور ان کے بچوں کی صحت پر کس بری طرح اثر انداز ہوے ہوں گے۔ ‘‘(ناموں کا المیہ)
یہ تینوں اقتباسات ایک ہی انشائیے سے بغیر کسی کوشش کے منتخب کیے گئے ہیں۔ ناموں کے المیہ کو کس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ تجربہ تقریباً ہر فرد کو ہوتا ہے۔ اکثر والدین کے رکھے ہوئے نام پسند نہیں ہوتے۔ خود میں بھی ہوش سنبھالنے کے بعد اپنے والدین کے رکھے ہوے نام (افتخار احمد قادری) کو ہضم نہیں کر پایا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دوست اور رشتے دارعموماً ان پڑھ ہونے کے سبب نام بگاڑ کر بولتے تھے (استکار، اسپکار، پکار احمد وغیرہ) مجھے اس وقت جو ذہنی اذیت ہوتی تھی اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، اب کیا کر سکتے تھے کہ یہی رواج تھا۔ بہر حال اس کی تلافی کی صورت بھی پیدا ہو گئی،جب شعر گوئی کا شوق پیدا ہوا تو گویا من کی مراد پوری ہونے کا موقع ہاتھ آگیا ، سو ہم نے اپنا تخلص(الف ناظم) اپنی پسند کا رکھا۔خوشا قسمت!اب میرے اصل نام سے جاننے والے خال خال ہی رہ گئے ہیں۔ لیکن نہ تو ہر شخص میری طرح موزوں طبع ہو تاہے کہ تخلص کے ذریعہ اپنے والدین کی کرتوت کا بدلہ لے سکے اور نہ ہر شخص ادبی دنیا کا بڑا فنکار ہو سکتا ہے جو فضیلت شاہ خاں سے ایس ۔فضیلت ہو جائے۔
ناموں کا المیہ ایک منفرد موضوع ہے جس پر میری دانست میں آج تک کسی مزاح نگار کی نگاہ نہ پہنچ سکی۔ یہی ایس۔ فضیلت کی انفرادیت ہے کہ انھوں نے تمام تر انشائیے اور خاکے منفرد موضوعات پر لکھے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ انفرادیت محض موضوع کی نہیں بلکہ زبان و بیان اور اسلوب کی سطح پر بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ مثالیں ایک ہی انشائیے سے اخذ کی گئی ہیں کہ اس سے زیادہ اس مختصر سے مضمون میں گنجائش نہیں۔ایس۔ فضیلت کی ہر تحریر توجہ اور انہماک سے پڑھی جانے کے قابل ہے ،بعض اوقات میں نے محسوس کیا کہ ان کی تحریر کو دوبارہ پڑھنے پر معنی کی نئی جہتیں روشن ہو تی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔مجھے جن تحریروں نے زیادہ متاثر کیا ا ن میں صنعت پتلا سازی، کلائمکس، ایک گود کو ترستا آدمی ، پہچان نر اور مادہ کی ، چچا اچکن، دکھتی رگیں، مولانا آزاد ایک مہان آتنکوادی، مولانا جوہر عالم بالا سے عالم زیریں میں اور نصیبن بوا سلسلے کے چاروں خاکے( قصے نصیبن بوا کے ، جانا نصیبن بوا کا سنیما دیکھنے ، جانا نصیبن بوا کا میلاد شریف میں ، لڑائی عورتوں کی اور مداخلت نصیبن بوا کی ) اہم ہیں۔
ایس۔ فضیلت کو زبان و بیان پر قدرت حاصل ہے ، ان کا مشاہدہ گہراہے ، اور بلا شبہ کسی بھی طنز نگار کا سب سے بڑا حربہ زبان ہی ہوتی ہے ،اسی کے سہارے وہ معاشرتی ناہمواریوں اور سیاسی ریشہ دوانیوں کو ہنسی اور قہقہوں کے ذریعہ بے نقا ب کرتا ہے ۔کیو نکہ اس کا مقصد قہقہو ں کے ذریعہ قارئین کے ذہنوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے، چنانچہ ایس۔ فضیلت اپنے مضامین کے سلسلے میں رقم طراز ہیں:
’’ یہ طنزیہ و مزاحیہ مضامین اور خاکے میں نے لوگوں کو ہنسنے ہنسانے کے لیے نہیں لکھے ہیں ۔ اس کام کے لیے تو اکبر بیربل نام کی کتاب بازار میں دستیاب ہے ۔ یہ مضامین پڑھ کر اگر مٹھی بھر قارئین بھی میرے ہمنوا بن سکے ، اس کرب اور ذہنی اذیت سے واقف ہو سکے جو ہر مضمون کے پردے میں جھلکتی ہے اور اگرمسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ کسی کی آنکھ سے ایک آنسو بھی ٹپک سکا تو اسے بڑی کامیابی تصور کروں گا ۔‘‘نہ صرف سنجیدہ قارئین و ناقدینِ فن نے ایس۔ فضیلت کے فن کو سراہا ہے بلکہ اردوکے عظیم طنزو مزاح نگار بھی آپ کی تحریروں کو پڑھ کر محظوظ ہوئے اور اپنی گراں قدر آرا سے نوازا ہے۔اپنے دور کے بڑے طنز و مزاح نگار فکر تونسوی نے بہت عرصے قبل ایس۔ فضیلت کے طنزیہ اسلوب کی شناخت کر لی تھی۔ وہ رقم طراز ہیں :’’ ایس فضیلت کے پاس طنزو مزاح کی ایک مخصوص زبان ہے اور یہ ان کے خوش آئند مستقبل کی ضمانت ہے ‘‘
مجھے اعتراف ہے کہ میں اس مختصر سے مضمون میں ایس۔ فضیلت جیسی ہمہ جہت شخصیت کے فن کا حق ادا نہیں کر سکا ( کر بھی نہیں سکتا)،لیکن جو کچھ بن پڑا اپنی بساط بھر کوشش سے یہ چند بے ربط سی سطریں صفحۂ قرطاس کے حوالے کر دی ہیں، ورنہ حقیقت یہ کہ ایس۔ فضیلت نے ادب کی مختلف اصناف میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ان پر مضامین ہی نہیں بلکہ مختلف تحقیقی مقالات لکھے جانے چاہئیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کون لکھے ، ایس ۔فضیلت نہ تو کسی اعلی عہدے پر فائز ہیں(حالاں کہ عہدوں کے لیے وہ کبھی کوشاں نہیں رہے، ہاکی کے قومی کھلاڑی ہونے کے سبب ان کے لیے نوکریوں کی کمی نہ تھی بلکہ ملی ہوئی نوکری بھی آہنی لباس سمجھ کر اتار پھینکی) اور نہ وہ کسی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ہیڈ ہیں جو اپنے اوپر اپنے شاگردوں سے کتابوں پر کتابیں لکھوا کر شائع کر لیتے۔ خیر انھیں اس قسم کی کتابیں لکھوانے کا شوق ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ایک جینوین فنکار ہیں اور دنیا بھر میں ان کے بے شمار قدر دان موجود ہیں، جنھوں نے ا ن کے فن وشخصیت پر سیکڑوں عمدہ تحریریں لکھی ہیں ۔اور آئندہ بھی لکھی جاتی رہیں گی۔
٭٭٭
Dr Alif Nazim (Iftekhar Ahmad Qadri)
Assistant. Prof. Dept.of Urdu,Govt Girls P.G.College,
Rampur U.P-244901
Phone: 8318589607