افتخار نسیم: مہجری شاعری کا ایک نامور نام
ڈاکٹرصدف آرا چوبدار
اسسٹنٹ پروفیسر یو، ای، ایس، مہیلا مہا ودیہ لیہ سولاپور، مہاراشٹر
افتخار نسیم، جنہیں افتی نسیم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اردو ادب کی ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے مہاجری شاعری کو نئی جہت عطا کی۔ وہ نہ صرف پاکستان سے امریکہ ہجرت کرنے والے ایک مہاجر تھے بلکہ اپنی شاعری میں ہجرت، شناخت، جنسیت اور معاشرتی تضادات کی عکاسی کرتے ہوئے اردو شاعری کو ایک نئی جرات اور صداقت بخشی۔ افتخار نسیم کو اردو کا پہلا کھلے عام ہم جنس پرست شاعر مانا جاتا ہے، جن کی شاعری نے روایتی غزل کو جدید مسائل سے منسلک کرکے ایک انقلاب برپا کیا۔ ان کی شاعری میں مہاجری زندگی کی تنہائی، جنسی شناخت کی جدوجہد اور معاشرتی منافقت کی شدید تنقید ملتی ہے، جو انہیں مہاجری ادب کا ایک نمایاں نام بناتی ہے۔ افتخار نسیم 15 ستمبر 1946 کو لائل پور موجودہ فیصل آباد، پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ نوعمری میں ہی انہیں اپنی ہم جنس پرستی کا احساس ہوا، جو ایک قدامت پسند مسلمان معاشرے میں ان کے لیے شدید تنہائی اور دباؤ کا باعث بنا۔ وہ رقص کرنا چاہتے تھے، مگر معاشرے نے انہیں نسوانی اور خاندان کی بدنامی کا باعث قرار دیا۔ 16 سال کی عمر میں، مارشل لا کے خلاف ایک احتجاجی جلسے میں سیاسی شاعری پڑھتے ہوئے ایک فوجی کی گولی سے ان کی ٹانگ زخمی ہو گئی، جس نے ان کی کلاسیکی کتھک رقص کی خواہش کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔21 سال کی عمر میں، 1971 میں، وہ پاکستان سے امریکہ ہجرت کر گئے۔پھر وہ تا عمر امریکہ میں ہی مقیم رہے۔ ان کی زندگی کا اختتام 22 جولائی 2011 کو شکاگو میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا، جب وہ 64 سال کے تھے۔ ان کی ہجرت نہ صرف جغرافیائی تھی بلکہ فکری اور جنسی بھی، جو ان کی شاعری میں جھلکتی ہے۔اپنے شعری مجموعہ ’’نرمان‘‘ میں افتخار نسیم لکھتے ہیں:
’’اس کتاب کا مقصد کسی شخص کی طرز زندگی کو مختلف کر دینا نہیں اور نہ ہی یہ کسی جنت گم گشتہ کی یافت کا وعدہ ہے تو صرف ایک سچائی ہے جس کا اظہار میں نے لفظوں میں کر دیا ہے کہ میں اندھیرے کا آدمی بن کر زندہ رہنا گوارہ نہیں کرتا۔مجھے علم ہے اس کتاب سے ان احباب کی دل شکنی ہوگی جو مجھے ’’ایسا‘‘ نہیں سمجھتے تھے لیکن اگر وہ میری سچائی کی وجہ سے مجھ سے الگ ہو جائیں یا مجھ سے نفرت کرنا شروع کر دیں گے تو مجھے قبول ہے ، ان کو علم نہیں کہ اس سچائی کے ناکردہ اظہار سے میرے اندر کتناز ہر بھرا ہوا تھا جو نکل گیا۔‘‘ (بحوالہ: نرمان، افتخار نسیم، سنہ1994 ، ص: 19)
محولہ بالا اقتباس سے یہ تو ظاہر ہوجاتا ہے کہ افتخار نسیم کس نوعیت کے شاعر رہے ہیں، جس کی اشاعت سے قبل وہ اپنے دوستوں کو بھی شکوہ کناں نظروں سے دیکھتے ہیں۔ شعری مجموعہ ’’نرمان‘‘ پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈاکٹر سلمان اختر ان الفاظ میں رقم طراز ہیں:
’’نرمان کی تمام نظموں میں ایک ذاتی حقیقت کو صبر، ہمت اور معصوم کھلنڈرے پن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور ایمان داری کی بات تو یہ ہے کہ یہ حقیقت صرف ان کی ذات تک محدود نہیں۔ باقاعدہ طور پر بھی یہ کہانی بہت سے لوگوں کی ہے اور سرگوشیوں میں تو کم و بیش ہر مرد کے اندر یہ کتھا موجود ہے۔ اور اگر بڑی عمر میں نہ بھی موجود ہو تو بچپن ، لڑکپن میں ضرور تھی۔ آپ اگر مرد کی نسوانیت کو تحلیل نفسی کے ماہیروں کی ایجاد، اور ہم جنسیانہ محبت کو محض ایک ذہنی فتور سمجھتے ہیں تو بے شک افتی نسیم پر قدغن لگایئے لیکن یاد رہے کہ شیشے کے گھروں میں رہنے والے دوسروں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے۔ اور یوں بھی وہ کون سا شاعر ہے جو ذہنی فتور کے الزام سے بچا رہا ہے۔ پھر بھی کم شعرا نے اس بند دروازے کو کھولنے کی ہمت کی جو افتی نسیم نے ’’نرمان ‘‘میں واکیا ہے ۔ ‘‘(بحوالہ:سلمان اختر، مشمولہ: نرمان، افتخار نسیم، سنہ1994 ، ص: 29)
یہاں تک تو بات رہی افتخار نسیم کی شاعرانہ موضوع کی خصوصیت کی بات ہے۔ اس کے علاوہ بھی زندگی کے بے شمار مسائل کو افتخار نسیم نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے جنھیں یا تو ہم دیکھنا نہیں چاہتے یا پھر ان موضوعات کی کوئی وقعت ہمارے سامنے نہیں ہے۔ افتخار نسیم کی شاعری کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ روایتی غزل کی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید مسائل اور جذباتی صداقت سے آراستہ کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں زبان کی سادگی اور تیز کلامی نمایاں ہے، جو قاری کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ وہ فارسی اور اردو کی کلاسیکی روایت کو اپناتے ہوئے بھی مغربی اثرات اور مہاجری تجربات کو شامل کرتے ہیں، جس سے ان کی غزلیں اور نظمیں ایک منفرد امتزاج پیش کرتی ہیں۔ ان کی شاعری جذباتی گہرائی، استعاروں کی خوبصورت استعمال اور فلسفیانہ غور کی وجہ سے ممتاز ہے، جو روایتی موضوعات کو معاصر تناظر میں ڈھالتی ہے۔
ان کی شاعری میں ہجرت کا موضوع مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جو مہاجری زندگی کی جدوجہد، بے گھری اور ماضی کی یادوں کو بیان کرتا ہے۔ ہجرت کو وہ ایک مسلسل سفر کی صورت میں پیش کرتے ہیں، جہاں وطن کی دوری اداسی اور اجنبیت کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک شعر میں وہ ہجرت کو نحوست سے فرار کے طور پر دیکھتے ہیں، جہاں زمین کو ماں کی آغوش سے تشبیہ دیتے ہوئے نئی زندگی کی تلاش کو بیان کرتے ہیں۔ یہ موضوع ان کی شاعری کو ایک عالمی مہاجری تجربے کی عکاسی بناتا ہے، جو قاری کو جدائی کے کرب سے آشنا کرتا ہے۔تنہائی اور انفرادی جدوجہد ان کی شاعری کا ایک اہم پہلو ہے، جو مہاجری زندگی کی تنہائی اور جذباتی خالی پن کو اجاگر کرتی ہے۔ وہ تنہائی کو ایک ایسی حالت کے طور پر پیش کرتے ہیں جہاں انسان اپنے آس پاس کی دنیا سے الگ تھلگ محسوس کرتا ہے، جیسے ندی کے قریب رہ کر بھی پانی کی پیاس محسوس کرنا۔ یہ موضوع نفسیاتی پیچیدگیوں اور انسانی محرومیوں سے جڑا ہے، جو قاری کو وجودی بحران کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
موت اور جدائی کا غور افتخار نسیم کی شاعری میں فلسفیانہ انداز میں موجود ہے، جو زندگی کی بے معنویت اور جدائی کے دکھ کو بیان کرتا ہے۔ موت کو وہ ایک حتمی حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں، جیسے بچوں کے سفر پر روانہ ہونے سے مائیں گھر میں رہ جاتی ہیں۔ یہ موضوع ان کی شاعری کو ایک اداس اور غور طلب رنگ دیتا ہے، جو قاری کو زندگی کی ناپائیداری پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔معاشرتی تنقید اور منافقت کی شدید عکاسی ان کی شاعری کی ایک نمایاں خصوصیت ہے، جہاں وہ انسانی رشتوں کی کمزوریوں، حسد اور تعصب کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ معاشرے کی منافقت کو دوستوں کے درمیان شکایت اور غیروں سے کھلی بات چیت کی صورت میں بیان کرتے ہیں، جو سماجی رویوں پر طنز کرتی ہے۔ یہ موضوع ان کی شاعری کو ایک احتجاجی آواز بخشتا ہے، جو قاری کو سماجی تضادات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
عمر کے بحران اور وجودی کمزوریاں بھی افتخار نسیم کی شاعری میں ایک گہرا نفسیاتی پہلو پیش کرتی ہیں، جہاں وسط عمر کو خالی پن اور واقفیت کے بوجھ سے جوڑا جاتا ہے۔ وہ دل کو رکے ہوئے ترازو اور جیب کو خالی قرار دیتے ہیں، جو مالی اور جذباتی بحران کو بیان کرتا ہے۔ یہ موضوع ان کی شاعری کو ایک اندرونی جدوجہد کی عکاسی بناتا ہے، جو قاری کو خود شناسی کی طرف لے جاتا ہے۔امن کی تلاش اور حسد کی تنقید ان کی شاعری کا ایک سماجی اور عالمی موضوع ہے، جہاں وہ جنگ، قحط اور تعصب کو زہر قرار دیتے ہیں۔ امن کو بھیک کی صورت میں مانگتے ہوئے وہ دنیا کو کشکول سے تشبیہ دیتے ہیں، جو ایٹم بم اور تباہی سے بچنے کی اپیل کرتی ہے۔ یہ موضوع ان کی شاعری کو ایک انسانی ہمدردی کی آواز بخشتا ہے، جو قاری کو امن کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔ان چند اشعار ملاحظہ ہو:
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا
آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
مجھ سے نفرت ہے اگر اس کو تو اظہار کرے
کب میں کہتا ہوں مجھے پیار ہی کرتا جائے
اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیں
کوئی جو پوچھے تو کہہ دوں گا اس نے بھیجے ہیں
اس قدر بھی تو نہ جذبات پہ قابو رکھو
تھک گئے ہو تو مرے کاندھے پہ بازو رکھو
ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے
زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا
کٹی ہے عمر کسی آب دوز کشتی میں
سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا
طاق پر جزدان میں لپٹی دعائیں رہ گئیں
چل دیئے بیٹے سفر پر گھر میں مائیں رہ گئیں
افتخار نسیم کے ان اشعار میں محبت کی شدت اور اس کی نسبت سے پیدا ہونے والی ادراک کی تبدیلیاں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں، جہاں محبوب کی موجودگی یا یاد عام چیزوں کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، پہلے شعر میں چاند کی پوری چمک بھی محبوب کے چہرے کی چمک کے سامنے کمزور اور ادھوری لگتی ہے، جو محبت کی طاقت کو ایک استعاراتی انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہ موضوع روایتی غزل کی رومانوی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ایک ذاتی اور جذباتی گہرائی سے پیش کیا گیا ہے، جہاں قدرتی عناصر کو انسانی جذبات سے جوڑ کر ایک خوبصورت تضاد پیدا کیا جاتا ہے۔ ان اشعار میں نفرت اور پیار کے اظہار کی آزادی اور صداقت پر زور دیا گیا ہے، جو رشتوں کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے۔خود فریبی اور محبت کی پوشیدگی کا موضوع بھی ان اشعار میں نمایاں ہے، جہاں شاعر اپنے اعمال کو دوسروں کی نظر میں مختلف رنگ دیتا ہے۔جذباتی حمایت اور قربت کی اپیل ان اشعار کا ایک اہم پہلو ہے، جو انسانی کمزوریوں اور ایک دوسرے پر انحصار کو بیان کرتی ہے۔ چوتھے شعر میں جذبات پر ضرورت سے زیادہ قابو کی تنقید اور کاندھے پر بازو رکھنے کی دعوت ایک طرح کی جذباتی آسودگی کی بات کرتی ہے۔ یہ موضوع نرم اور ہمدردانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے، جہاں زبان کی سادگی اور براہ راست اپیل قاری کو رشتوں کی حمایت کی اہمیت سے جوڑتی ہے، بغیر کسی پیچیدہ استعاروں کے، جو شاعر کی جدید اور حقیقت پسندانہ شاعری کی عکاسی کرتی ہے۔ ماضی کی تلخ یادوں کے باوجود مثبت ذائقہ برقرار رکھنے کا فلسفہ ان اشعار میں موجود ہے، جو انسانی لچک اور انتخاب کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔ پانچویں شعر میں ہزار تلخ یادوں کے باوجود ملاقات کے وقت اچھے دنوں کا ذائقہ زبان پر رکھنا ایک طرح کی جذباتی حکمت عملی ہے۔ غور طلب اور نصیحت آمیز لہجے میں، جو قاری کو زندگی کی تلخیوں سے نمٹنے کی ترغیب دیتا ہے، اور شاعر کی شاعری میں فلسفیانہ گہرائی کو شامل کرتا ہے جو روایتی غزل کو معاصر نفسیات سے جوڑتی ہے۔ مزید چند اشعار دیکھیں:
نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگ ربط بن جائے
وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا
غیر ہو کوئی تو اس سے کھل کے باتیں کیجئے
دوستوں کا دوستوں سے ہی گلہ اچھا نہیں
بہتی رہی ندی مرے گھر کے قریب سے
پانی کو دیکھنے کے لیے میں ترس گیا
نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا
گئے ہوئے کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھنا
خود کو ہجوم دہر میں کھونا پڑا مجھے
جیسے تھے لوگ ویسا ہی ہونا پڑا مجھے
ترا ہے کام کماں میں اسے لگانے تک
یہ تیر خود ہی چلا جائے گا نشانے تک
افتخار نسیم کے یہ اشعار زندگی کی نازک توازن، سماجی مجبوریوں اور اندرونی کرب کی گہری عکاسی کرتے ہیں۔ پہلے شعر میں قربت کے خطرے کو موت سے جوڑ کر شاعر احتیاط کی تلقین کرتا ہے، جو ماضی کے زخموں سے سیکھی ہوئی حکمت معلوم ہوتی ہے۔ دوسرے شعر میں سماجی منافقت پر ہلکا سا طنز ہے کہ غیروں سے کھل کر بات اچھی لگتی ہے مگر قریبی دوستوں کا شکوہ برا معلوم ہوتا ہے، جو انسانی رشتوں کی سطحیت کو بے نقاب کرتا ہے۔تیسرے شعر کی ندی کا استعارہ انتہائی موثر ہے؛ قریب بہتی ہوئی ندی کے باوجود پانی کی پیاس ایک وجودی محرومی کی علامت بن جاتی ہے، جو مہاجری زندگی میں دستیاب وسائل کے باوجود اندرونی تشنگی کو بیان کرتی ہے۔ چوتھے شعر میں جدائی کے باوجود امید اور جگہ کا تصور دل کو کھلا رکھنے کی ترغیب دیتا ہے، جو شاعر کی لچک اور صبر کی خصوصیت ہے۔پانچویں شعر ہجوم میں انفرادیت کھونے کی مجبوری کو انتہائی سادہ مگر کرب ناک انداز میں پیش کرتا ہے، جو مہاجر کی سماجی مطابقت کی قیمت کو واضح کرتا ہے۔ آخری شعر میں تیر اور کمان کا استعارہ تقدیر اور انسانی کوشش کے درمیان توازن کو ظاہر کرتا ہے؛ انسان کا کام صرف تیاری ہے، انجام خود بخود مل جاتا ہے، جو ایک فلسفیانہ رضا اور تسلیم کی بات کہتا ہے۔یہ اشعار مجموعی طور پر نفسیاتی گہرائی، سماجی مشاہدے اور استعاراتی خوبصورتی کا امتزاج ہیں، جو افتخار نسیم کی شاعری کو روایتی غزل سے الگ کر کے ایک جدید، حقیقت پسندانہ آواز بناتے ہیں۔ افتخار نسیم کے چند مزید اشعار ملاحظہ ہو:
یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا
پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا
میں شیشہ کیوں نہ بنا آدمی ہوا کیونکر
مجھے تو عمر لگی ٹوٹ پھوٹ جانے تک
جس گھڑی آیا پلٹ کر اک مرا بچھڑا ہوا
عام سے کپڑوں میں تھا وہ پھر بھی شہزادہ لگا
کوئی بادل میرے تپتے جسم پر برسا نہیں
جل رہا ہوں جانے کب سے جسم کی گرمی کے ساتھ
دیوار و در جھلستے رہے تیز دھوپ میں
بادل تمام شہر سے باہر برس گیا
تو تو ان کا بھی گلہ کرتا ہے جو تیرے نہ تھے
تو نے دیکھا ہی نہیں کچھ بھی تو پاگل ہے ابھی
جی میں ٹھانی ہے کہ جینا ہے بہرحال مجھے
جس کو مرنا ہے وہ چپ چاپ ہی مرتا جائے
فصل گل میں بھی دکھاتا ہے خزاں دیدہ درخت
ٹوٹ کر دینے پہ آئے تو گھٹا جیسا بھی ہے
افتخار نسیم کے یہ اشعار تکمیلِ وجود، جدائی کے کرب اور زندگی کی بے رحم غیر منصفانہ تقسیم کی گہری تہہ دار عکاسی کرتے ہیں؛ پہلے دو شعروں میں شاعر خود کو ادھورا تخلیق کردہ شیشہ قرار دیتا ہے جسے مصور نے چھوڑ دیا، جو ایک وجودی خلا اور ناکامی کی حس کو جنم دیتا ہے، جہاں انسانی زندگی ٹوٹنے پھوٹنے تک کی جدوجہد بن جاتی ہے۔ بچھڑے کی واپسی پر عام کپڑوں میں بھی شہزادہ لگنے کا منظر محبت کی ابدی چمک کو ظاہر کرتا ہے جو مادی ظاہری شکل سے ماورا ہے۔ گرمی، تپش اور بادل کے استعاروں سے شاعر اندرونی جلن اور آسمانی رحمت کی غیر منصفانہ تقسیم پر کرب ناک تبصرہ کرتا ہے، جہاں دیوار و در جھلس رہے ہوتے ہیں مگر بادل شہر سے باہر برس جاتا ہے، جو قسمت کی بے اعتدالی اور ذاتی محرومی کی علامت ہے۔ گلہ کرنے والے کی حماقت پر طنز اور زندگی کی ضد پر زور دیتے ہوئے شاعر ایک طرف زندہ رہنے کی ٹھان لی ہوئی ہمت دکھاتا ہے تو دوسری طرف خزاں زدہ درخت کا موسمِ گل میں بھی نظر آنا فطرت کی مسلسل ناانصافی کو بے نقاب کرتا ہے؛ آخری شعر میں ٹوٹ کر دینے والے کو گھٹا قرار دینا قربانی کی عظمت اور اس کی خاموش تاثیر کو خوبصورت انداز میں سمیٹتا ہے، جو افتخار نسیم کی شاعری کی وہ خصوصیت ہے جو تلخ حقیقتوں کو بھی ایک لطیف فلسفیانہ چاشنی میں پیش کرتی ہے۔
افتخار نسیم کی شاعری اور شخصیت کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ محض ایک مہاجر شاعر نہیں بلکہ ایک ایسے باغی روح تھے جنہوں نے اردو غزل کے پرانے قالب میں نئی روح پھونکی اور اسے معاصر انسانی المیوں، نفسیاتی گہرائیوں اور سماجی بے چینیوں کا آئینہ بنا دیا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی ذاتی جدوجہد کو کلمات کا روپ دیا بلکہ ایک ایسی آواز اٹھائی جو خاموشی کے پردوں کو چاک کرتی ہے اور سچائی کی روشنی میں منافقت کے سایوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ ان کی زبان کی سادگی، استعاروں کی نزاکت اور فلسفیانہ بصیرت نے غزل کو نئی زندگی عطا کی، جہاں ہجرت کی تنہائی، جدائی کا کرب، قسمت کی ناانصافی اور زندگی کی ضد ایک ساتھ سانس لیتی نظر آتی ہیں۔ وہ شاعر تھے جو اپنے زخموں کو چھپانے کے بجائے انہیں فن کا حصہ بنا کر دنیا کے سامنے رکھتے تھے، تاکہ دوسرے بھی اپنے اندر کی آواز سن سکیں۔ ان کی میراث یہ ہے کہ آج بھی ان کے اشعار ہر اس شخص کے دل میں اتر جاتے ہیں جو کبھی اجنبی رہا ہو، تنہا رہا ہو، یا اپنی سچائی کی قیمت ادا کر رہا ہو۔ افتخار نسیم نے ثابت کیا کہ شاعری صرف لفظوں کا حسین مجموعہ نہیں بلکہ ایک جرات مندانہ اعترافِ حیات ہے، جو تاریکی میں بھی روشنی کی کرن چھوڑ جاتی ہے اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ سچ بولنے سے ڈرنا نہیں چاہیے، کیونکہ سچ ہی وہ واحد چیز ہے جو انسان کو مکمل کرتی ہے۔
٭٭٭
حوالہ جاتی کتب:
٭ نرمان، افتخار نسیم، سنہ1994
٭ ورلڈ اردو ایسوسی ایشن ڈاٹ کام ( افتخار نسیم صفحہ)
٭ اردو ویکی پیڈیا (افتخار نسیم اردو صفحہ)
٭ کاروان ڈاٹ این او(افتخار نسیم صفحہ)