’’رشید حسن خاں کے تبصرے اور تجزیے ‘‘کتاب پر ایک نظر
محمد ہلال عالم
ریسرچ اسکالر، روہیل کھنڈ یونی ورسٹی، بریلی
دورِ حاضر میں ڈاکٹر ابراہیم افسر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان کی بیش بہا ادبی کاوشوں کے سبب موصوف کا شمار اکیسویں صدی کے تازہ کار محققوں میں ہونے لگا ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم افسر کا زیادہ تر کام مشہور و معروف محقق رشید حسن خاں کی مختلف جہتوں پر ہے۔ اگر ان کو ’’ماہر رشید حسن خاں‘‘ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ اب تک ڈاکٹر ابراہیم افسر کی آٹھ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جن میں ’’رشید حسن خاں کی غالب شناسی‘‘، ’’رشید حسن خاں کے انٹرویوز‘‘، ’’رشید حسن خاں تحریروں کے آئینے میں‘‘ (جلد اوّل اور دوم)، ’’رشید حسن خاں کی ادبی جہات‘‘، ’’رشید حسن خاں کے تبصرے اور تجزیے‘‘ (جلد اوّل) اور ’’اردو املا: مسائل و مباحث (رشید حسن خاں کے حوالے سے)‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔پیش نظر کتاب ’’رشید حسن خاں کے تبصرے اور تجزیے‘‘ جلد اوّل، رشید حسن خاں کے ان تبصروں اور تجزیوں پر مشتمل ہے جو پہلی مرتبہ کسی رسالے یا ادبی جریدے میں شائع ہوئے تھے۔ کتاب کا مقدمہ تقریباً 52 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں رشید حسن خاں کے تبصروں کے تعلق سے ناقدانہ گفتگو کی گئی ہے۔ رشید حسن خاں کے تبصروں اور تجزیوں کے بارے میں ڈاکٹر ابراہیم افسر اپنے مقدمے میں لکھتے ہیں:
’’رشید حسن خاں کے تبصرے اور تجزیے (جلد اوّل) میں راقم الحروف نے رشید حسن خاں کے 1949 سے 1964 تک کے 31 تبصروں، تجزیوں اور کچھ اہم مکتوبات کو شامل کیا ہے۔ باقی جلدوں میں خاں صاحب کے دیگر تبصرے اور تجزیے شامل کیے جائیں گے۔ رشید حسن خاں کے بہت سے تبصرے اور تجزیے ایسے ہیں جو رسالہ شاعر، ادبی دنیا، صدق جدید، نگار، نقوش، سیارہ اور الحمراء وغیرہ کے صفحۂ قرطاس کی زینت بنے۔ لیکن کافی تلاش و بسیار کے بعد موصوف کے تبصرے اور تجزیے تو مل گئے، لیکن ابھی بھی بہت سا قیمتی ادبی سرمایہ ان رسائل کی فائلوں میں موجود ہے۔‘‘ (ص 58)
ڈاکٹر ابراہیم افسر نے اپنے طویل مقدمے میں رشید حسن خاں کے تبصروں اور تجزیوں کے تعلق سے جو گفتگو کی ہے، وہ واقعی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے رشید حسن خاں کے تبصروں کے خاص اقتباسات کو بہ طور نمونہ پیش کیا ہے، جن میں ان کے تبصروں کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ رشید حسن خاں کے تبصرہ کرنے کی خصوصیت پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ابراہیم افسر لکھتے ہیں:
’’در اصل موجودہ وقت میں کتابوں پر جو تبصرے ہو رہے ہیں ان میں سوائے تعریف کے کچھ نہیں ہے۔ لیکن رشید حسن خاں کے تبصروں اور تجزیوں کا جب ہم عمیق مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی محنتِ شاقہ اور ادبی جستجو و لگن کا ہمیں اعتراف کرنا پڑتا ہے۔‘‘ (ص 12)
آگے فرماتے ہیں:
’’رشید حسن خاں تبصرہ کرتے وقت رشتوں کا پاس یا لحاظ نہیں رکھتے تھے۔‘‘ (ص 13)
رشید حسن خاں کی اس بات سے راقم الحروف بالکل اتفاق کرتا ہے۔ اصل تبصرہ وہی ہے جو رشتوں کو طاق پر رکھ کر کیا جائے، جس سے تبصروں اور تجزیوں میں خوبیوں اور خامیوں کا ذکر آزادانہ طور پر کیا جا سکے۔ کسی کتاب یا تخلیق کا جائزہ لیتے وقت ذاتی تعلقات کو درمیان میں نہ آنے دینا ایک اچھے ناقد کی اہم صفت ہے۔ رشید حسن خاں کے تبصروں میں یہ وصف نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ وہ کسی مصنف یا شاعر کی حیثیت سے مرعوب ہوئے بغیر اس کی تخلیق کو تنقید کی کسوٹی پر پرکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تبصرے محض تعریف و توصیف تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان میں علمی دیانت اور ادبی معیار کو مقدم رکھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ابراہیم افسر نے اس کتاب میں جن تبصروں اور تجزیوں کو ترتیب دیا ہے، ان کے عناوین ’’منشی نوبت رائے نظر لکھنوی‘‘، ’’ندیم کے چند قطعات‘‘، ’’قائم چاند پوری‘‘، ’’شبلی کا فارسی تغزل‘‘، ’’ادب کے نئے تقاضے‘‘، ’’ندیم کے چند قطعات 2‘‘، ’’صفی کی شاعرانہ قدر و قیمت‘‘، ’’افسانے میں نفسیاتی و جنسیاتی میلانات‘‘، ’’اردو کے مترادف الفاظ‘‘، ’’بنام مدیر شاعر بمبئی‘‘، ’’ارباب لغات کے لطیفے‘‘، ’’اردو ہماری زبان‘‘، ’’ترتیبِ نو‘‘، ’’نغمۂ جاوید پر ایک نظر‘‘، ’’بنام حامد علی خاں‘‘، ’’دستِ صبا پر ایک نظر‘‘، ’’غزل مجروح‘‘، ’’بنام کیف میری نظر میں‘‘، ’’غلطی ہائے تحقیق‘‘، ’’ذوق و جنوں پر ایک نظر‘‘، ’’غدر اور ادب پر اس کے اثرات‘‘، ’’بنام قمر رئیس‘‘، ’’فاعتبروا یا اولی الابصار‘‘، ’’اردو کی ادبی تاریخ‘‘، ’’در شہر شما نیز کنند‘‘، ’’فیض کی شاعری‘‘، ’’تنقیدی جانب داری کے اسباب اور اثرات‘‘، ’’اردو شاعری کا انتخاب‘‘، ’’نظم‘‘، ’’باب الانتقاد (جذبات نادر پر ایک نظر)‘‘، ’’علی گڑھ تاریخ ادب اردو‘‘ اور ’’ثقافت پاکستان‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔
کتاب میں مقدمے کے بعد رباب رشیدی کا مضمون ’’ایسا کہاں سے لائیں: رشید حسن خاں‘‘ پیش کیا گیا ہے، جس میں رباب رشیدی نے اپنی اور رشید حسن خاں کی گفتگو کو بیان کیا ہے۔ رباب رشیدی کہتے ہیں کہ آخری مرتبہ رشید حسن خاں سے بات کرتے وقت ان کا آخری جملہ ’’میں تمہاری راہ دیکھ رہا ہوں‘‘ تھا۔ اس کے بعد ان کے انتقال کی خبر ملی۔ اس جملے کے تناظر میں رباب رشیدی اپنے خیالات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’میں نے زبان و فن پر ایسی دست رس، شعر فہمی کا ایسا ادراک اپنی زندگی میں اور کسی میں نہیں دیکھا، وہ جدید و قدیم ہر طرح کے اعلیٰ ترین اشعار پر ایک وجدانی کیفیت سے دو چار ہو جاتے تھے۔ وہ خود شعر کہہ سکتے تھے مگر تحقیق و تدوین کی دست نوازی ہی کو اپنا پیشہ بنایا اور وہ مقام و مرتبہ حاصل کیا کہ روشنی کا ایک منارہ بن گئے۔‘‘ (ص 61)
رشید حسن خاں نے تبصروں اور تجزیوں کے لیے جن موضوعات کو منتخب کیا اور جن لوگوں کی تخلیقات پر تبصرے یا تجزیے کیے، وہ سب اردو ادب کی مشہور شخصیات اور اہم موضوعات میں سے ہیں۔ رشید حسن خاں کے تبصروں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے تبصرہ کرتے وقت جانب داری سے کام نہیں لیا، بلکہ بے باکی اور صاف گوئی سے اپنی بات سب کے سامنے رکھی ہے۔ منشی نوبت رائے نظر لکھنوی کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’آج اگر اس مایہ ناز شاعر کا کل کلام ہوتا تو نہ معلوم کیا کیا مرقعے دیکھنے میں آتے، اگر کوئی شخص قدیم رسائل کی ورق گردانی کرے تو زمانہ، العصر، ادیب، خذنگ نظر اور مخزن کے پرانے پرچوں میں یہ نقوش ماتمِ بے کسی کرتے ہوئے ملیں گے، لیکن کس کو ضرورت ہے؟‘‘ (ص 9)
’’ندیم کے چند قطعات‘‘ کے عنوان سے ندیم کی شاعری پر تجزیہ کرتے ہوئے ایک جگہ ندیم کے شعر پر کچھ اس طرح اصلاح کرتے نظر آتے ہیں:
فاقے بیشک کھینچتا جا لیکن اے مفلس کسان
اپنی اس مغموم اور معصوم بیٹی کو نہ بیچ
رشید حسن خاں کہتے ہیں کہ فاقے کھینچنا صحیح نہیں، فاقے کرنا بولتے ہیں۔ اسی طرح ندیم کے اور بھی قطعات کو سامنے رکھ کر ان کے غلط الفاظ کی نشان دہی کی ہے۔ غلط جملے کی نشان دہی کرنا اور اس طرح درست جملہ بتانا یہ کام رشید حسن خاں سے بہتر کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ ان کی تنقید میں زبان و بیان کی اصلاح کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ وہ شعر کے مفہوم اور خیال کے ساتھ اس کے لفظوں اور جملوں کو بھی اہمیت دیتے تھے۔ ان کے نزدیک کسی شاعر کی بات اسی وقت پوری طرح مؤثر ہو سکتی ہے جب اس کے اظہار میں زبان کی صحت کا خیال رکھا جائے۔ایسا ہرگز نہیں ہے کہ رشید حسن خاں نے تبصرے کرتے وقت صرف خامیوں پر توجہ مرکوز کی ہو، بلکہ خوبیوں کا اعتراف بھی خوب کیا ہے۔ ’’شبلی کا فارسی تغزل‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وقتِ فرصت کا کرشمہ ہے کہ شبلی کے اشعار صداقتِ تاثر سے لبریز ہیں۔ ان کے اندر جو تہج ہے وہ کسی ذہنی و ہجائی تخیل کارانہ نہیں، بلکہ انہوں نے اپنے فطری محرکات و قلبی داعیات کو الفاظ میں منتقل کر دیا ہے۔‘‘ (ص 111)
اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رشید حسن خاں کسی تخلیق میں موجود خوبیوں کو بھی پوری توجہ سے دیکھتے تھے۔ ان کی تنقید میں جہاں خامیوں کی نشان دہی ملتی ہے، وہیں فن کار کی کامیابیوں کا اعتراف بھی موجود ہے۔ ان کا مقصد محض اعتراض کرنا نہیں تھا، بلکہ تخلیق کی اصل قدر و قیمت کو سامنے لانا تھا۔
’’ادب کے نئے تقاضے‘‘ عنوان کے مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے رشید حسن خاں اردو زبان کی اہمیت و افادیت کو واضح کرتے ہیں اور اردو میں شامل ہونے والے نئے الفاظ کو اس کے لیے مفید بتاتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
’’وقت کی ضرورت ہے کہ نئے الفاظ، دوسری زبانوں کے اثر سے پیدا شدہ محاورات و تراکیب، جدید اسلوب و تصورات، پر کشش کرکے فراخ دلانہ فیصلے کیے جائیں، تاکہ زبان و ادب میں وسعت بھی ہو اور پڑھے لکھے افراد کو خود اجتہاد نہ کرنا پڑے۔‘‘ (ص 138)
رشید حسن خاں کی اس رائے سے زبان کے بارے میں ان کا وسیع نظریہ سامنے آتا ہے۔ وہ اردو زبان کو ایک ایسی زبان کے طور پر دیکھتے تھے جو نئے حالات اور بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہے۔ دوسری زبانوں سے آنے والے الفاظ، محاورات اور تراکیب کو قبول کرنے کے معاملے میں ان کا رویہ تنگ نظرانہ نہیں تھا۔ وہ زبان کی وسعت کے قائل تھے، لیکن اس کے ساتھ زبان کے اصولوں اور صحتِ املا سے بھی سمجھوتا نہیں کرتے تھے۔ یہی توازن ان کی علمی اور لسانی بصیرت کو نمایاں کرتا ہے۔
رشید حسن خاں نے تبصرے کرتے وقت غلط الفاظ، املا وغیرہ کی ساخت پر گرفت کی ہے۔ جن تخلیقات پر تبصرہ یا تجزیہ کیا ہے، انہیں تنقید کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ رشید حسن خاں کے اس سخت رویے کی وجہ سے کچھ لوگ ناراض بھی ہوئے، لیکن بعد میں ان معترضین کو رشید حسن خاں کی قابلیت کا لوہا ماننا پڑا۔ حالاں کہ رشید حسن خاں کا یہ سخت رویہ صرف تبصرے یا تجزیے کرنے تک ہی محدود تھا۔ ذاتی زندگی میں وہ بہترین انسان تھے۔ اخلاق و عادات کے اچھے اور نرم دل کے انسان تھے۔
’’نغمہ جاوید پر ایک نظر‘‘ بھگوت گیتا کا منظوم ترجمہ ہے، جو اثر لکھنوی کی زادۂ طبع ہے۔ اس کے بارے میں رشید حسن خاں فرماتے ہیں:
’’زیر نظر تصنیف گیتا کا ترجمہ ہے۔ اس لیے اس کے مفہوم و مواد پر گفتگو کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ گیتا ایک پاکیزہ فلسفیانہ تصنیف ہے جس میں ہندو فلاسفی کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ اس کی تعلیم ادبی تنقید کے دائرے سے خارج ہے۔ صرف ترجمے کے متعلق رائے پیش کی جا سکتی ہے۔‘‘ (ص 251)
رشید حسن خاں کے اس بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ مختلف مذاہب کا احترام کرتے تھے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ اس کی تعلیم ادبی تنقید کے دائرے سے خارج ہے اور صرف ترجمے کے تعلق سے اپنی بات سامنے رکھی۔ اس سے ان کے تنقیدی رویے کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے کہ وہ کسی مذہبی تصنیف کے عقائد و تعلیمات پر ادبی تنقید کے نام پر غیر ضروری بحث کرنے کے بجائے اس پہلو تک محدود رہتے تھے جس کا تعلق ان کے موضوع سے تھا۔ ان کے نزدیک کسی کتاب پر رائے دیتے وقت اس کے دائرۂ کار اور نوعیت کو سمجھنا ضروری تھا۔
رشید حسن خاں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی طرف سے شائع کی گئی کتاب ’’علی گڑھ تاریخ ادب اردو‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے غلط کاری کا نمونہ بتایا ہے اور اس کو مرتب کرنے والوں کی سخت گرفت کی ہے۔ اس کتاب کی منظوری یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن نے دی تھی۔ اب جس کتاب کو ترتیب دینے کے لیے خود یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن منظوری دے، اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ معیار کے اعتبار سے معتبر ہوگی۔ لیکن رشید حسن خاں کے تبصرے کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اس کتاب میں وہ بات نہیں تھی جو ایک معتبر کتاب میں ہونی چاہیے۔ اسی بنا پر رشید حسن خاں نے اس کتاب کو ’’غلط نامہ‘‘ قرار دیا۔ رشید حسن خاں اس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں:
’’برسوں کے انتظار کے بعد اس تاریخ کی پہلی جلد شائع ہوئی، جس کو پڑھ کر سب سے پہلا تاثر یہ ہے کہ یہ غالباً غلط نگاری کے کسی مقابلے میں حصہ لینے کے لیے اس کتاب کو مرتب کیا گیا ہے۔‘‘ (ص 564)
’’علی گڑھ تاریخ ادب اردو‘‘ پر رشید حسن خاں کے تبصرے کا یہ اثر ہوا کہ اس کی تمام کاپیاں مارکیٹ سے واپس منگوا لی گئیں، تاکہ فضیحت نہ ہو۔ کیوں کہ اس کتاب کو ترتیب دینے کا کام یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن کی زیر نگرانی ہو رہا تھا۔ اسی کتاب کے تعلق سے ایک اور جگہ رشید حسن خاں لکھتے ہیں:
’’اس کتاب کی یہ خصوصیت بھی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، اگر اس میں دو مقالہ نگاروں نے کسی واقعے کا ذکر کیا ہے یا کوئی سنہ لکھا ہے تو اکثر مقامات پر دونوں نے مختلف سنہ لکھے ہیں اور متضاد باتیں کہی ہیں، اور اگر اتفاق سے کسی تیسرے مضمون نگار نے بھی اسی سنہ کو لکھا ہے تو اس نے ان دونوں سے مختلف سنہ درج کیا ہے۔‘‘ (ص 565)
رشید حسن خاں نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے وقت غلطیوں کی نشان دہی صفحہ نمبر اور جملے لکھ کر کی ہے اور اس کتاب کو ترتیب دینے والے مقالہ نگاروں کی سخت گرفت کی ہے۔ جیسا کہ ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ رشید حسن خاں املا اور جملوں میں کی گئی غلطیاں پسند نہیں کرتے تھے۔ کتنا ہی بڑا مصنف ہو اور کتنی ہی بڑی تخلیق، اگر اس میں اس طرح کی غلطیاں نظر آتیں تو وہ ان کی طرف اشارہ کرنے سے ذرا برابر بھی نہیں کتراتے تھے۔ رشید حسن خاں کی یہ صاف گوئی درجۂ کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ ان کے نزدیک تحقیق میں کسی بات کو محض اس لیے قبول نہیں کیا جا سکتا کہ اسے کسی بڑے ادارے نے شائع کیا ہے۔ تاریخی واقعات، سنین اور علمی معلومات کی صحت جانچنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی تنقید میں چھوٹی سے چھوٹی غلطی کو بھی نظر انداز نہیں کرتے تھے۔
رشید حسن خاں کے تبصروں اور تجزیوں کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتابوں کے مطالعے میں غیر معمولی محنت سے کام لیتے تھے۔ ان کی نظر صرف کتاب کے مجموعی تاثر تک محدود نہیں رہتی تھی، بلکہ وہ اس کے لفظوں، جملوں، املا، حوالوں اور علمی مواد تک پہنچتے تھے۔ ان کی تنقید میں زبان کی صحت اور تحقیق کی درستی کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ ادب میں کسی تخلیق کی قدر و قیمت متعین کرتے وقت اس کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ کسی کتاب میں خیال اچھا ہو، لیکن زبان میں غلطیاں ہوں یا تحقیقی معلومات میں تضاد پایا جائے، تو ان باتوں کی نشان دہی بھی ضروری ہے۔ اسی لیے ان کے تبصرے محض تعریفی تحریریں نہیں، بلکہ ادبی اور تحقیقی معیار کو قائم رکھنے کی کوشش بھی ہیں۔
ڈاکٹر ابراہیم افسر نے رشید حسن خاں کے ان تبصروں اور تجزیوں کو یکجا کرکے ایک اہم کام انجام دیا ہے۔ پرانے رسائل اور ادبی جریدوں میں بکھرے ہوئے اس مواد کو تلاش کرنا، اسے ترتیب دینا اور اس کے ساتھ ایک طویل مقدمہ تحریر کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے مسلسل محنت، تلاش و جستجو اور موضوع سے گہری دل چسپی درکار ہوتی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس میں شامل مضامین کے آخر میں ان کے اصل ماخذ کا حوالہ درج کیا گیا ہے، جس سے اصل مضمون تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ اس طرح یہ کتاب صرف رشید حسن خاں کے تبصروں کا مجموعہ نہیں رہتی، بلکہ ان کے تنقیدی رویے اور علمی طریقۂ کار کو سمجھنے کا ایک ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر ابراہیم افسر نے اپنے 52 صفحات کے مقدمے میں رشید حسن خاں کے تبصروں اور تجزیوں کے ضمن میں تمام اہم نکات اور پہلو ہمارے سامنے پیش کیے ہیں۔ انہوں نے اقتباسات کے ذریعے رشید حسن خاں کے تنقیدی مزاج کو واضح کیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے تبصروں کی ادبی اور تحقیقی اہمیت کیا ہے۔ اس مقدمے کو پڑھنے کے بعد یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ رشید حسن خاں کسی کتاب پر رائے دیتے وقت کن باتوں کو اہمیت دیتے تھے اور ان کا تنقیدی معیار کیا تھا۔ ڈاکٹر ابراہیم افسر کی یہ کوشش اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ انہوں نے رشید حسن خاں کی شخصیت اور فن پر کام کرتے ہوئے ان کی علمی خدمات کے ایک ایسے پہلو کو موضوع بنایا ہے جس پر مزید تحقیق کی گنجائش موجود ہے۔
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ایک بات اور محسوس ہوتی ہے کہ رشید حسن خاں کے تبصروں کا مطالعہ آج کے لکھنے والوں اور محققوں کے لیے بھی اہم ہے۔ موجودہ وقت میں کتابوں پر تبصرے کرتے ہوئے اکثر ان کی خوبیوں کا ذکر تو کیا جاتا ہے، لیکن خامیوں کی نشان دہی سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں رشید حسن خاں کے تبصرے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ کسی کتاب پر رائے دیتے وقت تعریف اور تنقید دونوں کے لیے یکساں گنجائش ہونی چاہیے۔ اگر کتاب میں خامیاں موجود ہیں تو ان کی نشان دہی علمی دیانت کے ساتھ کی جانی چاہیے، اور اگر اس میں خوبیاں ہیں تو ان کا اعتراف بھی کھلے دل سے ہونا چاہیے۔ یہی رویہ تنقید کو محض رسمی کارروائی بننے سے بچاتا ہے۔
کتاب کے مطالعے کے دوران ایک دو جگہ کمپوزنگ کی غلطیاں بھی نظر آتی ہیں۔ ایک صفحے کا مواد دو مرتبہ چھپ گیا ہے۔ کچھ فارسی الفاظ میری سمجھ میں نہیں آئے۔ ہو سکتا ہے ان میں کچھ کمی راہ پا گئی ہو۔ تاہم یہ معمولی باتیں کتاب کے مجموعی علمی کام کی اہمیت کو کم نہیں کرتیں۔ کتاب کو پڑھتے وقت جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ڈاکٹر ابراہیم افسر کا اندازِ بیان اور پیش کش ہے۔ اس کتاب میں جدید املا کے نظریے اور لفظوں کو جملوں میں استعمال کرنے کا طریقۂ کار نہایت عمدہ ہے۔
جدید املا کے تعلق سے اپنی بات واضح کیے دیتا ہوں۔ لفظ ’’بل کہ‘‘ کو میں نے آج تک ’’بلکہ‘‘ لکھا ہے اور اس کو درست سمجھا ہے، لیکن اس کتاب میں ’’بل کہ‘‘ الگ الگ لکھا ہوا ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم افسر سے معلوم کرنے پر پتا چلا کہ اس طرح لکھنا بھی درست ہے۔ اسی کتاب میں ایک اور لفظ ’’شاہ کار‘‘ الگ الگ لکھا گیا ہے۔ میں نے ابھی تک ’’شاہکار‘‘ ایک ساتھ ملا کر ہی لکھا تھا۔ ڈاکٹر ابراہیم افسر سے معلوم کرنے پر معلوم ہوا کہ اس طرح لکھنا بھی درست ہے۔ مجھے اس کتاب کو پڑھنے سے یہ دو باتیں نئی سیکھنے کو ملیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب کا مطالعہ صرف رشید حسن خاں کے تبصروں اور تجزیوں سے واقف نہیں کراتا، بلکہ اردو املا کے بعض مسائل پر بھی غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
بلا شبہ مجموعی طور پر کہا جائے تو ڈاکٹر ابراہیم افسر کا یہ کام اردو تحقیق میں گراں قدر اضافہ ہے، جس کو پڑھنے کے بعد رشید حسن خاں کی عظمت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ اس کے مطالعے سے تنقید و تجزیے کے نئے نئے پہلو ہمارے سامنے وا ہوتے ہیں اور تبصروں اور تجزیوں کا طریقۂ کار سمجھ میں آتا ہے۔ رشید حسن خاں کے تبصروں کو ایک جگہ جمع کرکے ڈاکٹر ابراہیم افسر نے نہ صرف ایک قیمتی ادبی سرمایہ محفوظ کیا ہے، بلکہ اردو کے قارئین اور محققین کے لیے ایک ایسا مواد بھی فراہم کیا ہے جس سے وہ تنقید کے ایک اہم اور معتبر نمونے سے واقف ہو سکتے ہیں۔ یہ کتاب خصوصی اہمیت کی حامل ثابت ہوگی اور اردو تحقیق و تنقید سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے مفید رہے گی۔
٭٭٭