چراغ سینہ سپر: ماہر لسانیات پروفیسر نصیر احمد خاں
ڈاکٹر ظہیر علی خاں رحمتی(ظہیر رحمتی)
پروفیسر ، شعبہ اردو
ذاکر حسین،دہلی کالج یونیورسٹی آف دہلی
انیسویں صدی کے نصف میں سرسید احمد خاں نے اردو زبان و ادب میں دانشوری کی جس روایت کی داغ بیل ڈالی تھی۔ بیسویں صدی میں وہ روایت اپنی تمام آب و تاب کے ساتھ مستحکم اور استوار ہوئی۔ حالیؔ ، شبلیؔ سے لے کر کلیم الدین احمد، آل احمد سرور، شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، گوپی چند نارنگ وغیرہ کئی اہم نام ہیں جنھوں نے اردو زبان و ادب میں دانشورانہ روایت کو استحکام بخشا۔ انھیں شخصیات میں ایک نام ماہر لسانیات پروفیسر نصیر احمد خاں مرحوم کا بھی ہے۔جو تا عمر زندگی کے مختلف شعبوں میں علم و دانش کے فروغ کے لیے سرگرم عمل رہے اور ظلمت پسند ہوا کے سامنے چراغ سینہ سپر ہوکر’’ کم سے کم رات کا نقصان بہت۔ کرتے رہے۔ ‘‘
پروفیسر نصیر احمد خاں 6؍ جنوری 1944ء میں مارہرہ ضلع ایٹہ اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام نذیر احمد خاں تھا۔ نذیر احمد خاں مارہرہ کے جاگیردار اور متمول خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کی بہت سی جائیدادایٹہ کے علاوہ مین پوری میں بھی تھی۔ اس علاقے میں دو خاندان بہت باعزت سمجھے جاتے تھے۔ ایک پروفیسر سید امین اشرف صاحب اور سید محمد اشرف کا خاندان اور دوسرا پروفیسر نصیر احمد خاں کا ۔ پروفیسر نصیر احمد خاں نسلی طور پر یوسف زئی بنیروال پٹھان تھے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم مار ہرہ میں ہوئی۔ بعدازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ پروفیسر نصیر احمد خاں نے ہندستان کے اہم ادارے دکن کالج پونہ سے لسانیات میں ڈگری مکمل کرنے کے بعد پروفیسر عبد العظیم کی نگرانی میں دہلی کی کرخنداری بولی کے موضوع پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کیا۔ نصیر احمد خاں ماہر لسانیات پروفیسر مسعود حسین خاں کے طریقۂ تحقیق ، طرز رسائی او ر ان کی شخصیت سازی سے بہت متاثر تھے۔ نصیر احمد خاں نے درس و تدریس کا سلسلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے شروع کیا۔ بعد ازاں وہ کچھ برس کشمیر یونیوسٹی میں پروفیسر محمد حسن کی معیت میں رہے جہاں سے انھوں نے 1977میں پروفیسر محمد حسن کے ایما پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی سے اپنا مستقل سفر شروع کیا اور جنوری 2006میں بحیثیت پروفیسر اپنی رسمی خدمات سے سبکدوش ہوئے۔ پروفیسر مسعود حسین خاں جب جامعہ دہلی کے وی سی ہوے تو وہ نصیر خاں کو جامعہ لے جانا چاہتے تھے لیکن نصیر خاں پروفیسر محمد حسن کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے ۔مسعود حسین خاں کے بعد نصیر احمد خاں پروفیسر محمد حسن کی علمیت اور شخصیت سے بہت متاثر تھے بلکہ ان کے جاں نثاروں میں تھے۔ پروفیسر محمد حسن نے جواہر لال یونیورسٹی میں شعبہ ٔ اردو کو مضبوط بنیاددوں پر استوار کیا تھا۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر اسلم پرویز اور پروفیسر نصیر احمد خاں پروفیسر محمد حسن کا حسن انتخاب تھے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر محمد حسن کا ایک بڑا کارنامہ یہ تھا کہ یہاں تمام ہندوستان کی یونیورسٹیوں کے برعکس اردو اور ہندی زبان کا ایک ہی ڈپارٹمنٹ سینٹر آف انڈین لینگویجز کے نام سے قائم ہے۔ ہندی کے نامور ادیب و شاعر پروفیسر نامور سنگھ اور پروفیسر کے این سنگھ اسی شعبہ سے وابستہ تھے۔ نصیر احمد خاں 2000کے بعد عارضہ قلب میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ان کی اوپن ہارٹ سرجری بھی ہوئی تھی۔ 2006کے بعد سے ذیا بطیس کے مرض کا بھی شکار ہوگئے تھے۔ لیکن ان تمام عارضوں کے باوجود وہ چاق و چوبند اور تندرست تھے۔ مارچ 2021میں وہ وبائی بیماری کورونا سے دوچار ہوکر مہینہ بھر اسپتال میں رہے۔ اور جانبر ہوئے لیکن اسی بیچ انھیں جگر کے کینسر کی تشخیص ہوئی اور 4جولائی 2021کو انھوں نے اپنے وسنت کنج کے مکان میں آخری سانس لے کر داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ ان کے آخری لمحوں میں ان کے ساتھ صرف ان کے صاحبزادے شاہ رخ خاں تھے۔ شاہ رخ خاں کے بیان کے مطابق اپنے آخری وقت تک نصیر احمد خاں مکمل ہوش و حواس میں تھے۔ انھوں نے انتقال سے چند لمحے قبل ہاسپٹل کے تمام بلوں کو یونیورسٹی میں جمع کرنے کیلئے چیک کیا تھا اور پھربڑے پرسکون انداز میں آہستہ آہستہ خواب عدم سے ہمکنار ہوگئے تھے۔ نصیر احمد خاں کی تدفین اسی رات میں بٹلہ ہاؤس جامعہ نگر کے قبرستان میں ہوئی اور ساٹھ ستر لوگوں کے مجمع نے ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔ نصیر احمد خاں کے پسماندگان میں پہلی زوجہ کے دو لڑکیاںاور دوسری زوجہ سے ایک لڑکا شاہ رخ خاں اور ایک لڑکی امبرین خاں شامل ہیں۔
پروفیسر نصیر احمد خاں اردو کے معدودے چند ماہرین لسانیات میں سے ایک تھے۔ اس میدان میںمسعود حسین خاں، شوکت بخاری وغیرہ کے بعد کی نسل میں عبد الستاردلوی اور نصیر احمد خاں کا نام سب سے ممتاز ہے۔ مرزا خلیل بیگ ، اورپروفیسر فتیحی وغیرہ ماہرین کا تعلق آپ کی بعد کی نسل سے ہے۔ مذکورہ تمام ماہرین میں نصیر احمد خاں کو یہ امتیازحاصل ہے کہ آپ کو فکشن اور شاعری پر بھی خاطر خواہ مہارت تھی۔ اس کے ساتھ ہی نصیر احمد خاں کی طرز رسائی (Approch) بین العلومی تھی سماج، سیاست، تہذیب بھی آپ کی فکر کے محور تھے۔ اس لحاظ سے نصیر احمد خاں اردو میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کی معروف و ممتاز خصوصیات کی بڑی علامت اور اس کے نمائندے تھے۔
اہم تخلیقی مقالات کے علاوہ آپ کی شائع شدہ درج ذیل کتب اردو تحقیق و تنقید اور لغات میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
٭ دہلی میں اردو کی کرخنداری بولی
٭ لسانیات کیا ہے( ترجمہ)
٭ اردو زبان پر مکمل جامع اور لسانی تحقیق ( چھ جلدوں میں)
٭ اردو ساخت کے بنیادی عناصر، جدید اردو قواعد
٭ اردو لسانیات
٭ آزادی کے بعد دہلی میں اردو انشائیہ
٭ اردو کی بولیاں
٭ ادبی اسلوبیات
٭ اردو رسم خط سیکھنے کا خود کار طریقہ( انگریزی اور ہندی میں) یعنی اردو ان ٹو ویکس
٭ جدید ہندی، اردو لغت( دو جلدوں میں)
٭ اردو کی صوتی لغت
٭ فرہنگ اصطلاحات ( انگریزی ، ہندی ، اردو )
اس کے علاوہ درج ذیل کتابیں تشنۂ اشاعت ہیں:
٭ آڑے ترچھے آئینہ( افسانوی مجموعہ)
٭ کچھ یادیں کچھ باتیں( سوانحی خاکے)
٭ ارد وکا مہجری ادب
کرخنداری بولی یعنی پیشوںسے متعلق افراد کی روز مرہ کی اردو زبان پر نصیر احمد خاں کا یہ انتہائی اہم کام ہے۔ جس نے ہندو پاک کے ماہرین زبان کو زبان کی تاریخ اور اسکے ماخذ کے سلسلے میں از سر نو غور و فکر کرنے کی دعوت دی۔ اور پروفیسر مسعود حسین خاں کے اس نظریے کو مزید تقویت بخشی کہ اردو زبان کامولد و مسکن زبان دہلوی پیرامنسش ہے۔
’’اردو ساخت کے بنیادی عناصر جدید اردو قواعد اور اردو لسانیات‘‘نصیر احمد کی معرکۃ الآرا کتابیں ہیں جس میں مارفونیمیات اور صوتیا ت وغیرہ کی لسانیاتی طرز رسائی کے لحاظ اردو زبان کی آوازوں، شکلوں اور صرف و نحو کی توضیح و تفصیل بیان کی گئی ہے۔ یہ دونوں کتب ہندو پاک کی کئی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں۔
ادبی اسلوبیات میں زبان کی سائنس اسلوبیات کے نقطۂ نظر سے اردو کے معتبر مشاہیر ادب کے طرز اسلوب کا سائنٹفک تجزیہ کیا گیا ہے۔ فیض ؔ، غالبؔ، داغؔ، مومنؔ، میر امنؔ، رجب علی بیگ سرورؔ وغیرہ کے اسلوب کی نمایاں خصوصیات کو سائنٹفک اور معروضی طور پر ثابت کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اسلوبیاتی مطالعے کے لئے مثالی نمونہ ہے۔
’’ اردو ان ٹو یکس‘‘ یا ’’ دو ہفتے میں اردو‘‘ ایسی کتابیں ہیں جن سے بغیر استاد کی مدد سے اردو رسم الخط لکھنا پڑھنا سیکھا جاسکتا ہے۔ مذکورہ دونوں کتابوں میں انگریزی اور ہندی آوازوں اور حروف کی مدد سے اردو رسم خط سکھانے کا ایک منفرد طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ ان دونوں کتابوں نے نئی تہذیب اور نئی فکر کی بدولت آزادی کے بعد جو ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا تھا اس کو بڑی حد تک پر کیا ہے۔ اس لیے یہ کتاب بہت مقبول ہوئی اور کئی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہوئی۔ در اصل اسمٰعیل میرٹھی ، اکبر علی خاں عرشی زادہ، حیات اللہ انصاری سے لے کر پروفیسر ابن کنول مصنفین تک اردو رسم خط سکھانے والی کتب ایک خاص ذہن گروپ اور روایت کی پاسداررہی ہیں۔ یہ کتب نئے ذہن کی ضروریات کو خاطر خواہ طریقے سے پر کرنے سے قاصر ہیں چوں کہ ان کتب کے مصنفین لسانیات جیسے علم سے بہرہ نہیں تھے۔ نصیر احمد خاںکی مذکورہ کتابوں میں سب سے پہلے اردو رسم خط کی بنیادی شکلوں کی شناخت کرادی ہے اور اس کے بعد نقطوں کی تفریق سے آوازوں کو انگریزی اور ہندی حروف تہجی کے متبادل سمجھا کر تمام شکلوں کو سہل کردیا ہے۔ اس کتاب کی بڑی خاصیت مشق کے لیے دی گئی مثالیں اور جملے ہیں جس سے طالب علم بہتر طور پر جلد از جلد رسم خط سیکھ جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ ان کتابوں کو اردو زبان سکھانے والی کتابیں سمجھتے ہیں کچھ نام نہاد بڑے محققین اس خام خیالی کی وجہ سے محافل میں معترض بھی ہوئے ہیں اور افواہوں کا بازار گرم بھی کرتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نصیر احمد خاں کی یہ کتابیں، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی وغیرہ ممالک میں بھی مقبول رہی ہے۔
نصیر احمد خاں اردو کے پہلے ماہر لسانیات ہیں جنھوں نے اردو لسانیات کی نظری اور عملی تحقیق کے ساتھ لغت نویسی پر بھی پوری توجہ صرف کی۔ لغت نویسی ایک انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ ایمانداری کی بات یہی ہے کہ ایک لغت نویس کو ماہر قواعد اور لسانیات کا علم ہونا چاہئے لیکن اکثر لغت نویس جنھوں نے بڑے کام کیے ہیں لسانیات کے علم سے بہرہ ور نہیں تھے۔ نہ ہی ان کے سامنے بن الاقوامی لغت نگاری کے معیاری رہنما اصول تھے۔ بیسویں صدی میں اردو لغت ( تاریخی اصول پر) پاکستان کا ایک بڑا عظیم کام ہے لیکن اس کام کو برسوں کی محنت و لگن کے بعد سو پچاس لوگوں کے ایک ادارے نے سر انجام دیا ہے یہ کسی فرد واحد کی محنت کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس تحقیقی کام میں کافی سرمایہ بھی خرچ ہوا۔ نصیر احمد خاں نے اس ذیل میں دو لغات اور ایک فرہنگ تالیف کی۔
جدید ہندی اردو لغت جو دو جلدوں اور بتیس سو(3200) سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد اور اب تک کا پہلا کام ہے۔ ہندی الفاظ کے اردو زبان میں معنی بیان کرنے والی لغات بہت کم ہیں ۔ انیسویں صدی میں راجہ راجیسور راؤ سے لے کر نصیر احمد خاں سے قبل تک تمام لغات ایک طرح سے رسمی ہیں اور ہزار الفاظ سے زائد کی نہیں ہیں۔ نصیر احمد خاں کی مذکورہ لغت ڈیڑھ لاکھ الفاظ پر مشتمل ہے۔ جس کی بنیاد مشبد ساگر اور رام کمار ورما کی لغات وغیرہ کے ساتھ ہندی زبان و ادب میں رائج الفاظ ب پر ہے جو ہندی زبان میں مستعمل ہوچکے ہیں۔ اس لغت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ لفظ کے اول معنی کے طور پر موجودہ زمانے میں مستعمل معنی بیان کئے گئے او ر اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے معنی کو دیوناگری اور اردو دونوں رسم الخط میں بیان کیا گیا ہے۔ نصیر صاحب کی یہ ہندی اردو لغت نہ صرف اردو والوں کے لیے مفید و کارآمد ہے بلکہ ہندی والوں کے لیے بھی بہت کا رآمد ہے کہ اس کے ذریعہ وہ ہندی الفاظ کے اردو متبادل مع تلفظ اور گرامر کے ساتھ بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں۔
ایک ہزا ر صفحات پر مشتمل اردو کی صوتی لغت نصیر احمد خاں کا اس لحاظ سے بڑا کارنامہ ہے کہ اس لغت میں آکسفورڈ کی لغت نگاری کے معیاری طریقۂ کار کو بروئے کار لاتے ہوئے صوتیات کے لحاظ سے الفاظ کا تلفظ بیان کیا گیا ہے ساتھ ہی معنی کو مستعمل ہونے کے نقطۂ نظر سے درجہ بہ درجہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ لغت نوعیت کے لحاظ سے اردو کی پہلی لغت ہے۔
فرہنگ اصطلاحات آٹھ علوم مثلاً نفسیات، معاشیات، لسانیات، سائنس وغیرہ علوم کی کے سبھی رائج انگریزی اصطلاحات کے اردو اورہندی متبادلات پر مشتمل ہے۔ اس لغت میں انگریزی کی بہت سی اصطلاحوں کے اردو اور ہندی زبان میں متبادلات کو وضع بھی کیا گیا ہے۔ یہ لغت ترجمہ نگاری کے لیے انتہائی مفید و کار آمد ے۔
نصیر احمد خاں کی مذکورہ لغات کی ترتیب و تدوین میں میں ان کا شریک کار رہا ہوں۔ پانچ سال کی انتھک محنت و مشقت کے بعد یہ لغات منظر عام پر آسکیں۔ نصیر احمد خاں کے ساتھ کام کرکے مجھے جس قدر علمی فائدہ اور تجربات حاصل ہوئے وہ لاثانی ہیں۔ نصیر احمد خاں کی علمی اور تحقیقی جستجو جس طرح لغت کے طریقہ کار پر اثر انداز ہوتی تھی اس نے مجھے لغات کے طریقۂ کار کو متعین کرنے میں اتنا خود مختار بنا دیا کہ کبھی کبھی مجھے یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ یہ لغات میری تالیف ہیں۔ یعنی یہ لغات کی تالیف میں استاد اور شاگرد کی ذہنی ہم آہنگی کی مثال ہے۔
علمی اور تحقیقی کاموں کے علاوہ نصیر حمد خاںافسانہ نویسی اور شاعرانہ صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ میں نے اکثر قاضی عبد الستار ، پیغام آفاقی، حامد ی کشمیری اور کمال صدیقی وغیرہ کے سامنے انھیں اپنے افسانے کے پلاٹ اور کہانی سناتے ہوئے سنا ہے لیکن جب تک وہ جے این یو میں رہے شاید کوئی افسانہ صفحۂ قرطاس پر نہیں آسکا لیکن سبکدوشی کے بعد انھوں نے اپنے افسانوں کا ایک مجموعہ ترتیب دے لیا تھاجس کی اشاعت ابھی ہونا ابھی باقی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نصیر احمد خاں کی چند آزاد اور نثری نظمیں ایوان اردو وغیرہ رسائل میں بھی شائع ہوئیں ہیں۔
نصیر احمد خاں کی مذکورہ لغات پر ڈاکٹر کمال احمد صدیقی وغیرہ حضرات نے قومی آواز میں مراسلات کے ذریعہ بیجا اعتراضات بھی وارد کیے۔ یہ اعتراضات لغت نویس کے علامات اور نشانات متعین کرنے کے اختیارات کو نظر اندازکرکے وارد کیے گئے تھے جن کا مدلل جواب دیا گیا در حقیقت نصیر احمد خاں ایسے محقق و دانشور تھے جن کے علمی و تحقیقی کاموںکی ان کی ذاتی کمیوں اور کوتاہیوں کی بدولت علمی مافیا کے پروپیگنڈے کے سبب اہل علم نے کبھی کھل کر پذیرائی نہیں کی۔ نصیر احمد خاں ایک انسان تھے فرشتہ نہیں تھے اور انسان روسو کے مطابق تمام خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ذاتی معاملات اور علمی معاملات دو علیحدہ چیزیں ہیں لیکن اردو کے بہت سے ناقدین اور محققین ان امور کو علیحدہ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ معاصرانہ چشمکیں اور ہم پیشہ چپقلش کے تقاضے اپنی جگہ ہیں لیکن علمی معروضیت میں ان کا شائبہ کسی شخص کی علمیت پر سوالیہ نشان قائم کردیتا ہے۔
نصیر احمد خاں پختہ یقین اور بھر پور خود اعتمادی کے پیکر تھے وہ اپنی ذات کو ایک ادارہ تصور کرتے تھے اس لیے اداروں ، گروپوں اور افراد کی مخالفت ان کے مقاصد پر ذرہ اثر انداز نہیں ہوتی تھی۔ انھیں نامساعد حالات میں بھی سر تسلیم خم کرنے کا شیوہ نہیں آتا تھا اسی وجہ سے ان کی تمام عمر مختلف محاذوں پر نبردآزما ئی کرتے ہوئے گذری ۔ یہ نبرد آزمائی ہی ان کی زندگی کی اصل خوشی تھی۔ نصیر احمد خاں اپنے دبنگ رویوں کی وجہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے مقبول اساتذہ میں سے ایک تھے۔ نصیر احمد خاں مزاجاً بہت سخت اور اسٹرکٹ تھے۔ طالب علموں کے علاوہ سینٹر میں بھی ان کا ایک دبدبہ تھا کبھی کبھی ان کی مزاج کی سختی اور رویہ انتہائی تکلیف دہ اور ناقابل برداشت بھی ہوتے تھے لیکن ان تمام امور کے باوجود بھی طالب علم ان سے اپنی وابستگی کو قابل فخر سمجھتے تھے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ بحیثیت مجموعی وہ طالب علموں کے بہی خواہ اور ان کے ہمددرد تھے۔ کلاس میں وہ ہمیشہ لیکچر کے بعد پندرہ منٹ بحث و تمحیص کے لیے وقف کرتے تھے اور طالب علموں کو کھل کر اپنا موقف رکھنے کی چھوٹ دیتے تھے۔ کبھی کبھی طالب علم ان کے موقف کے بالکل خلاف اظہار خیال کرتے تھے لیکن وہ ان رایوں پر خندہ پیشانی سے اظہار کرتے تھے نہ کہ برہمی سے وہ اکثر طالب علموں کے ساتھ سینٹر میں چائے خانے میں بھی بیٹھتے تھے جہاں ادب و سماج و سیاست وغیرہ مختلف امور پر گفت و شنید ہوتی تھی۔ نصیر احمد خاں کے اس رویے کی وجہ سے طالب علم ان سے اپنے دیگرمسائل کو ظاہر کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے تھے اور اس طرح استاد سے ایک گہرا تعلق قائم ہوجاتا تھا۔ سینٹر میں نصیر احمد خاں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ایم فل ، پی ایچ ڈی کے اکثر طالب علم ان کی نگرانی میں اپنا تحقیقی کام سر انجام دینا چاہتے تھے۔ اس لیے منظور شدہ سیٹوں کے لحاظ سے ہر سال انھیں چند طالب علموں کا انتخاب کرنا پڑتا تھا اور طالب علم کو اپنے انتخاب کے لیے دیگر کوششیں بھی کرنا پڑتی تھیں۔ تحقیق کے معاملے میں نصیر احمد خاں کا موقف بالکل واضح اور دو ٹک تھا یعنی ااس کی اثر پذیری ( Impact Factor) ان کے نزدیک علمی و ادبی تحقیق کی زبان کا معروضی اور سائنسی ہونا اس کی اثر پذیری کا ضامن ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اکثر پروفیسر آل احمد سرور ؔـ کی تنقید کو تنقید نہ کہہ کر تنقیدی انشائیہ کہا کرتے تھے اور پروفیسر شمیم حنفی ؔ کی تنقید کو غیر فیصلہ کن ہونے کی وجہ سے ’’ جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی‘‘
نصیر احمد خاں شمس الرحمن فاروقی کے مداح ضرور تھے لیکن ان سے اپنی وابستگی کے کبھی خواستگار نہیں رہے۔ وہ گوپی چند نارنگ کے بیحد مخالف تھے اوراکثر و بیشتر ان پر سرقے کے الزامات لگا تے تھے۔ بہر حال نصیر احمد خاں ایک بیدار مغز اور ذہین انسان تھے وہ تحقیق کے طالب علموں کو ان کی دلچسپی اور صلاحیت کے لحاظ سے ایسے اچھوتے موضوعات تجویز کیا کرتے تھے جن پر تحقیق کی اشد ضرورت ہوتی تھی۔Synopsisتحقیقی خاکہ تیار کروانے اور ابواب بندی میں نصیر احمد خاں کو ید طولیٰ حاصل تھا۔ تحقیقی خاکہ آدھا تحقیقی کام ہوتا ہے۔ نصیر احمد خاں اسی خاکے کو بنوانے میں طالب علم کی ساری محنت اور صلاحیت صرف کرادیا کرتے تھے۔ جس سے آگے کا کام آسان ہوجاتا تھا۔ نصیر احمد خاں ریسرچ کاؤنسل کی میٹنگ میں جس معروضی اور دبنگ طریقے سے اپنے اسکالرس کے موضوعات کا دفاع کرکے انھیں پاس کرا دیا کرتے تھے اس سے دوسرے اساتذہ محروم تھے۔ اسی لیے ریسرچ کے زیادہ سے زیادہ طالب علم ان کی نگرانی میں کام کرنا چاہتے تھے کہ موضوع کے تعین سے لے کر وائیوا تک اور یونیورسٹی کے متعلق دیگر مسائل میں نصیر احمد خاں ایک طالب علم کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے تھے۔ نصیر احمد خاں طالب علموں اور دوستوں کی مدد کرنے میں اخلاق اور قوانین کی حدوں سے تجاوز کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے لیکن یہ بھی تھا وہ جب کسی سے ناراض ہوتے تھے تو اس کی قبر کھودنے میں بھی ان تمام امور کو بالائے طاق رکھ دیا کرتے تھے۔ چنانچہ بعض لوگ بلاوجہ ان کے سخت عتاب کا شکار ہوجاتے تھے۔ در اصل نصیر احمد خاں ارادوں کے پکے اور کانوں کے کچے تھے۔ وہ ذاتی مفادات کے نرغے میں بھی جلد آجاتے تھے۔ اس لیے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک مخصوص ذہنیت کے لوگ جو پروفیسر ارتضیٰ کریم کے مطابق ایک خاص علاقے کے نام سے موسوم ہے لیکن اسکے نمونے ہندوستان کے طول عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انھیںگھیرے رہتے تھے۔ آدمی کتنا بھی سخت گیر ہو بہر حال خوشامد پرستی اپنا کام ضرور کرتی ہے۔ چنانچہ نصیر احمد خاں ہمیشہ دوستی اور دشمنی سے آنکھ مچولی کھیلتے رہتے تھے اور بعض اچھے لوگ بھی گھاٹ اترجاتے تھے۔ ڈاکٹر جمیل اختر ، ڈاکٹر خورشید احمد اس کی واضح مثال ہیں۔ پروفیسر خواجہ اکرام الدین نصیر احمد خاں کے عزیز ترین شاگرد رہے ہیں جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ان کے لیکچرر سے پروفیسر تک نصیر احمد خاں نے اپنی تمام بہترین صلاحیتوں کو صرف کیا تھا لیکن وقفے وقفے سے ان سے بھی سخت قسم کی آنکھ مچولی جاری رہی۔ نصیر احمد خاں نے غیر قانونی طور پر ان کی مدد بھی کی اور پھر قانون کے دائرے میں اس کو اجاگر بھی کیا۔ کبھی چڑھایا کبھی اتارا۔ کئی لوگوں کے تحقیقی مقالات پر نازیبا کوتاہیوں کے باوجود انھوں نے ڈگری تفویض بھی کرائی۔ اور دوسرے کاموںمیں بھی ان کو مدد ی۔ ان تمام امور کے باوجود نصیر احمد خاں معروضی طور پر اسکالر شپ کی قدر کرتے تھے وہ چاہے طالب علم کسی بھی استاد کا ہو۔ ڈاکٹر شکیل جہانگیری اور پروفیسر ابو الکلام ( مانو) وغیرہ کی وہ دل سے قدر کیا کرتے تھے اور یہ بھی چاہتے تھے کہ ظہیر رحمتی، شکیل جہانگیری اور ابو الکلام وغیرہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے شعبے سے وابستہ ہوں لیکن ان کی عملی کوششوں سے یہ لوگ ہمیشہ محروم رہے۔ نصیر احمد خاں طبیعتاً ضدی اور اڑیل پٹھان تھے ان کی شخصیت جمال اور جلال کا مجموعہ تھی وہ آب و آتش و خورشید کی یکجائی کے شیدا تھے۔ ان کا ظاہر و باطن یکساں تھا۔ وہ کبھی بدنامی یا لوگوں کی باتوں کی ذرا سی پروا نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ ان کے رویے گھر میں اور باہریکساں تھے اس لیے ان کی گھریلو حالات ہمیشہ ناگفتہ بہ رہے۔ نصیر صاحب ریسرچ پر لیکچر دیتے ہوئے اکثر کہا کرتے تھے کہ ریسرچ ہر مسلمہ چیز کو شک کی نظر سے دیکھنے کانام ہے۔ اس لیے محققین کی ازدواجی زندگی ہمیشہ تنازعات کا شکار رہتی ہے۔ اس معاملے میں نصیر احمد خاں نے تو نہیںالبتہ ان کی زندگی نے ہمیشہ تحقیقی مطالبات کی پاسداری کی۔ نصیر احمد خاں کافی حد تک ایک ایسے یورویپن تھے جن کی پیدائش مارہرہ ہندوستان میں ہوئی تھی۔ جے این یو کی فضا نے ان کے نفس کی ہر بے راہروی کو روایت شکنی کا امتیاز بخش کرسب کچھ جائز کر دیا تھا۔
نصیر احمد خاں ماہر لسانیات ہونے کی وجہ سے یوں تو سائنسی اور معروضی ذہن کے آدمی تھے لیکن وہ حساب و کتاب میں بہت کمزور تھے۔ اکثر طالب علموں کی مالی مدد بھی کیا کرتے تھے مگر انھیں ’’ لیا ‘‘ ’’ دیا‘‘ یاد نہیں رہتا تھا۔ ’’ I will pay every peny‘‘ اور بس ٗخوبی قسمت سے ہی کسی اور وسیلے سے اس کی بھر پائی ممکن ہو تو ہو ۔ اس معاملے میں ان کی کبھی کافی رقم زد پر آتی تھی۔ ایک عزیز شاگرد سے ان کی ناراضگی کی اصل وجہ یہ ہی تھی کہ انھوں نے اپنے بھانجے کا ایم بی بی ایس میں بنگلور کے کسی کالج میں ایڈمیشن کرانے کے لئے سات لاکھ روپے فیس دی تھی لیکن نہ تو ایڈمیشن ہوا اور نہ ہی فیس واپس ہوئی۔
نصیر احمد خاں سینٹر آف انڈین لینگویجزجواہر لال نہرو یونیورسٹی کے دو مرتبہ چیئر پرسن رہے۔ اپنے عہد صدارت میں نصیر احمد خاں نے انتہائی جدو جہد اور کوششوں کے ساتھ بڑے کام انجام دیئے۔ پروفیسر محمد حسن کے زمانے میں نصیر احمد خاں نے ان کی سرپرستی میں ایڈوانس ڈپلوما ان اردو ماس میڈیا کا آغاز کیا تھا۔ اس ڈپلوما کی بدولت آج کئی طالب علم بڑے اردو صحافی ہیں۔ نصیر احمد خاں نے وقت کی ضرورت اور اردو کی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے ایم۔ اے اردو میں میڈیا اسٹریم کی بنیاد ڈالی جو انتہائی کار آمد امر تھا بعد کے زمانے میں ہندوستان کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی اس طرز کو اپنانے کی کوشش کی گئی۔ ہندی میں ایم اے ٹرانسلیشن شروع کیا۔ اس کے ساتھ ہی سینٹر آف انڈین لینگویجز کی توسیع کرتے ہوئے پنجابی، ملیالم، تیلگو زبانوں کے شعبے قائم کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی۔ جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے کہ نصیر احمد خاں ہمہ جہتی طرز رسائی کے حامل تھے۔ وہ ابتدا ہی سے لوک روایت اور کلچرل ہسٹری کے قائل تھے۔ انھوں نے کئی اہم ا یم فل ، پی ایچ ڈی کے تحقیقی کام لوک روایت پر اس وقت کرائے جب اہل علم اس کو غیر ادبی اور اشرافیہ کے منافی سمجھتے تھے۔ نصیر احمد خاں نے اپنے دور میں اردو زبان و ادب کی صورت حال اور اس کے تئیں سیاسی رویو کو مد نظر رکھتے ہوئے زبان و ادب کی بقا کے لیے اردو کی عوامی روایت اور اس کے سمادجی اداروں، مشاعرے، قوالی، مجریٰ، چہار بیت وغیرہ کو ادبی مطالعات کے دائرے میں لاکر اس کی اہمیت و افادیت کو مسلم کیا اور جے این یو کے ایم اے کے نصابات کا اس کو حصہ بنایا۔ نصیر احمد خاں کا یہ کام ایک مثالی نمونہ تھا۔ بعد کے زمانے میں اہل علم نے اس طرف توجہ کی اور آج ’’ ریختہ‘‘ جیسی ویب سائٹ اسی طرز رسائی کا نتیجہ ہے۔ اردو کے تہذیبی اور سماجی اداروں کا نظریہ خالص طور پر نصیر احمد خاں کا ہے۔ نصیر احمد خاں نے اس موضوع پر کئی جگہوں پر لیکچر دے کر اہل علم کو اس طرف متوجہ کیا۔ پروفیسر محمد حسن کے بعد نصیر احمد خاں ہی وہ شخص ہیں جنھوں نے شعبہ اردو اور سینٹر آف انڈین لینگویجز کی علمی ترقی میں اصلی اور بڑے کام کئے۔
جے این یو سے سبکدوش ہونے کے بعد نصیر احمد خاں یوجی سی کے ایمریٹس فیلو ہونے کے ساتھ اندرا گاندھی اوپن یونیورسٹی میں کنسلنٹ مقرر ہوئے۔ اس یونیورسٹی میں پروفیسر محمد حسن نے اردو زبان کا سرٹیفکیٹ کورس شروع کیا تھا لیکن پروفیسر نصیر احمد خاں نے اگنو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر بصیر احمد خاں اور پرو فیسر احمد رضا خاں کی مدد سے یہاں اردو زبان و ادب میں بی اے کورس شروع کیا اور اس کا نصاب تیار کرکے کتابیں تیار کیں۔ یہ ایک انتہائی قابل ستائش کام تھا کیوکہ اگنو میں ایک زمانے سے شعبہ اردو کے قیام کی کوششیں چل رہی تھیں لیکن بار آور نہیں ہوپارہی تھیں۔ پروفیسر نصیر احمد خاں کی انتھک کوششوں اور ترکیبوں کی بدولت آج اگنو میں ایم اے کا کورس بھی شروع ہوگیا ہے۔ پروفیسر نصیر احمد خاں کے ساتھ میں نے اگنو میں جونیئر کنسلنٹ کے طور پر کچھ عرصے کام کیا تھا۔ اسی زمانے میں نصیر احمد خاں نے ایک اردو اوپن یونیورسٹی کا بھی Concept Paper تیار کیا جس کا بڑا مقصد یہ تھا کہ مختلف پیشوں اور ہنروں سے وابستہ کاریگروں اور ہنر مندان کو ان کے شعبوں سے متعلق تعلیم دے کر انھیں ڈگری یافتہ بنایا جائے۔ یہ ایک بڑا تصور تھا جس سے ایک طرف ہنر مندان کو تعلیم یافتہ بنانا تھا اور دوسری طرف اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کی محدود راہوں کو کھولنا تھا۔ نصیر احمد خاں اس سلسلے میں مولانا محمود مدنی صاحب اور پروفیسر سید امین اشرف صاحب سے کئی ملاقاتیں کرنے کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور کابینہ وزیر محمد اعظم خاں بانی محمد علی جوہر یونیورسٹی سے بھی کئی بار مفصل گفتگو کی اور لکھنؤ میں اس سلسلے میں ایک بڑا پروگرام بھی منعقد کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ یوپی حکومت محمد علی جوہر یونیورسٹی میں اس تصور کو عملی جامہ پہنا کر اردو زبان و ادب اور تعلیم وتعلم کی ترویج و اشاعت کو یقینی بنائے لیکن نصیر احمد خاں کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ کیوں کہ محمد اعظم خاں اور نصیر احمد خاں اپنے کام اور مزاج میں یکساں تھے اس لیے ایک میان میں دو تلوار وں کا جمع ہونا ناممکن تھا۔
بہر حال نصیر احمد خاں نے ہر شعبے میں اردو زبان کے مجاہد کے طور پر اپنی کوششوں کو ہمیشہ جاری و ساری رکھا۔ ان کے دوست بہت کم جیسے اے رحمن سپریم کورٹ کے وکیل ، پروفیسر شاہد پرویز ( مانو ڈائریکٹر) یا ایک آدھ اور ہو لیکن مخالفین کی تعداد بہت زیادہ تھی جس کی وجہ ان کا اکھڑ مزاج اور صاف گوئی تھی۔ اس لیے بعض اہل علم نصیر احمد خاںکی معروضی باتوں پر خاموشی اختیار کرکے یہ تاثر قائم کرنے کی سیاست کرتے تھے کہ ایک لاعلم پٹھان کی باتوں پر صرف زیر لب خود پر مسکرایا جاسکتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ نصیر احمد خاں نہ تو شمس الرحمن فاروقی اور محمد حسن کی طرح نابغہ روزگار تھے اور نہ ہی وہ ’’مسدس حالی‘‘ اور ’’ مدو جزر اسلام‘‘ کو دو کتابیں سمجھنے والے کسی انجمن کے صدر تھے بلکہ وہ ایک ایسے دانشور اور عالم تھے جو وقت کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھ کر مقدور بھر عملی اقدام کے جویا تھے۔ وہ اکثر خود کہا کرتے تھے مجھے سب کچھ معلوم نہیں ہے لیکن مجھے جس چیز کا علم ہے وہ واضح اور نمایاں ہے۔ بحیثیت طالب علم اور بحیثیت ریسرچ ایسوسی ایٹ میں نے پروفیسر نصیر احمد خاں کے ساتھ مستقل تقریباً 15سال کام کیا ہے۔ ان کی بہت سی جا اور بے جا باتوں کو مستقل مزاجی سے برداشت کیا ہے اور ان سے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔ نصیر صاحب اکثر مجھے ایم اے، بی اے کے اپنے کلاس دے دیا کرتے تھے جو اس وقت میرے لئے بڑے دقت طلب تھے لیکن آج ان کی اسی اعتماد کی وجہ سے میرے اندر بہت سی چیزیں پیدا ہوگئی ہیں۔ وہ میری تقرری کے لیے بظاہر بہت کوشاں تھے لیکن اللہ کو یہ منظور نہیں تھا اور ان کی محبت و شفقت مرتے دم تک قائم رہی۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔ نصیر احمد خاں جیسے سچے اور چراغ سینہ سپر لوگ فی زمانہ عنقا ہیں۔ ان کے سانحہ ارتحال سے جو خلا اردو زبان و ادب میں پیدا ہوا ہے وہ پتہ نہیں کب تک خلا ہی رہے۔ کچھ کہنا مشکل ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ نصیر احمد خاں کے تحقیقی اور علمی کام نئی نسل لئے مشعل راہ ہیں۔
٭٭٭