نواب محمد صفدر علی خاں صفدرؔ:بحیثیت مرثیہ نگار
ڈاکٹر سید محمد ارشد رضوی
پروفیسر وصدر شعبۂ اردو،گورنمنٹ رضا پی جی کالج، رامپور
دبستان رامپور اپنی گوں نا گوں ادبی صفات کے باوجود رثا ئی ادب کے حوالہ سے ادبی حلقوں میں معروف نہیں ہے۔ کسی بھی اردو کے دانشور،محقق، ناقد نے رامپور کے حوالہ سے اپنی تحقیق و تنقید میں دبستان رامپور اور رثائی شاعری کی جانب توجہ نہیں دی ہے۔ اگر اس دبستان کے بانی قائم چانپوری سے لے کر موجودہ دور کے شاعر ہوش نعمانی تک رثائی ادب کا ایک سلسلہ موجود ہے۔راقم الحروف نے اپنے ایک مقالہ میں جو رضا لائبریری کے جنرل نمبر ۶۱ میں شائع ہوا۔ اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ اور کچھ اہم مرثیہ نگاروں کے نام ادبی دبستان کے حوالہ سے پیش کئے ہیں جن میں نواب یوسف علی خاں ناظم،صفدر علی صفدر،اسیر لکھنوی، احسان رامپوری،شبنم رامپوری،سید اعجاز حسین ضامن، ہوش نعمانی جنھوں نے مرثیے تصنیف کیے ہیں۔ ان کے علاوہ کربلا کے موضوع پر سلام اور نوحے کہنے والوں میں ہاشمی رامپوری،سحر رامپوری،شہزادہ گلریز رامپوری، اظہار عنایتی، داغ دہلوی، اور جلال لکھنوی کے نام پیش کیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں قائم رضا نسیم امروہوی، مہدی نظمی،اولاد حسین جیسے مرثیہ نگار شعرا کی ادبی زندگی کا کافی حصہ رامپور میں گزرا ہے۔
ان مرثیہ نگار شعرا کی فہرست میں صفدر علی خاں صفدر ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔محمد صفدر علی صفدر نواب محمد سعید خاں کے چھوٹے بیٹے اور نواب محمد یوسف علی خاں ناظم کے برادر خرد ہیں۔ صفدر کی ولادت ۵۶۲۱ھ میں رامپور میں ہوئی۔ ان کی پرورش نواب یوسف علی خاں ناظم نے کی کیوں کہ صفدر اپنی کم سنی میں ہی یتیم ہو گئے تھے۔شاعری میں امیر احمد امیر مینائی سے اصلاح لی جس کا اظہار خود صفدر نے کلیات صفدر مطبع نول کشور پریس لکھنؤ کے دیباچے میں کیا ہے۔ساتھ ہی اپنی اپنی تعلیم و تربیت،علوم و فنون کی تفصیل بھی تحریر کی ہے۔ ملاحظہ ہو اقتباس:
’’اس وحید ہیچ مدانی کی ہر طرح سے تعلیم و تربیت، جناب برادر بزرگوار نواب محمد یوسف علی خاں صاحب بہادر فردوس مکان نے فرمائی۔ کتب فارسی کا درس مولوی شیخ احمد علی استاد کامل وحید عصر سے ہوا بعد فراغ تحصیل خوشنودی منشی میر عوض علی صاحب خوشنویس یکتائے روزگار سے ایک مدت مشق کی بعد تکمیل تحریر فنون سپاہ گیری کا ملین آفاق سے حاصل کی پھر تصویر کشی کا شوق ہوا۔نواب فردوس مکان نے بابو منگل سین صاحب، مصور عدیم المثال کو بلا کر تعلیم پر مقرر فرمایا بابو صاحب موصوف نے کل قواعد تصویر روغنی و آبی وغیرہ بخوبی تعلیم فرمائی البتہ اس فن کو میں نے فنون حاصل کردہ میں بہت نازک اور مشکل پایا بعنا بنت الٰہی س سے بھی استغنا ہوا تو فوٹو گراف یعنی عکسی تصویر کھنچنا مسٹر لی تور نا صاحب مشکوالدولہ بہادر سے بہت جلد حاصل کیا پھر کچھ دنوں طلسمات وغیرہ کا چرچا رہا پھر چندے کتب تواریخ و داستان و اخلاق و تصوف و مذاہب و لغت و طب و حساب وغیرہ کی سہی میں محویت رہی پھر ایک عرصے تک صحبت فقراء علما رہی۔ اس میں ہر طرح کے مسائل مشکلہ شریعت و طریقت و توحید و تصوف حل ہوئے پھر ہوائے سیاحی سر میں بھری سپرد و یار و امصار ہندوستان بخوبی تمام کی التفاقات روزگار سے اسی زمانے میں ایک پری پیکر غارت صبر و قرا سے دل الجھا میں کیا کہوں وہ کیا عالم تھا دل کو اضطراب جان کو پیچ و تاب خاطر کو گرانی حواس میں پریشانی آنکھوں کو حیرت طبیعت کو وحشت پیدا ہوئی۔ عیش و عشرت و آرام سب چھوٹ گیا۔ اسی دھن میں شاعری کا خیال آیا شعر و سخن سے ابتدا سے طبیعت کو لاگ تھی آخر سوق لے اڑا۔ کچھ نظم کرنے کا ذوق ہوا شاعر سحر بیان اعجاز تقریر خباب منشی امیر احمد صاحب،امیر آفتاب ہند کی صفائی زبان طرز کلام حسن بندش شوخی طبیعت نہایت پسند آئی۔ ان کو کلام دکھلا یا انھوں نے بکمال دل سوزی نکات شاعری تعلیم فرمائے۔‘‘
یہ طویل اقتباس اس لئے بھی درج کیا گیا ہے کہ قارئین کی نگاہ میں صفدر کی علمی، ادبی، فنی، نفسیاتی و طبعی شخصیت کا بھرپور اور مکمل خاکہ ابھر کے سامنے آ جائے۔ ان کی شاعری ان تمام علمو و فنون اور شوخی طبع سے عبارت ہے۔ بنیادی طور پر صفدر غزل اور قصیدے کے شاعر ہیں لیکن ان کے کلیات میں غزل، قصائد و مثنوی،مرثیہ،واسوخت،تضمین و مخمس سلام و رباعیات و قطعات تاریخ سبھی کچھ موجود ہیں۔
صفدر کے کلیات میں ان کا ایک مرثیہ ہی شامل ہے۔جو سو بندوں پر مشتمل ہے۔مرثیہ کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ صفدر کلاسیکی مرثیے کی روایت سے مکمل طور پر واقف تھے اور اس صنف کے اساتذہ کا کلام ان کی نگاہ میں تھا۔یہ مرثیہ کسی ایک شہید کے حال کا نہیں ہے بلکہ امام حسین کے سبھی اصحاب و انصار اور عزیزوں کے جذبہ ایثار و قربانی اور شہادت کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔اجزائے مرثیہ کے مکمل التزام اس میں نہیں ہے لیکن بھائی بھتیجوں اور بیٹوں کا سراپا کھینچنے کی کوشش ہے۔روایتی مرثیوں میں چہرے کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔مرثیہ مرقع ماتم کے عنوان سے لکھا گیا ہے۔
صفدر کے کلام کی خوبی بندش الفاظ زبان کی چاشنی نازک خیالی تشبیہات و استعارات کا بھرپور اور فنکارانہ استعمال سب کچھ مرثیے میں موجود ہے۔ صفدر کی علمی و ادبی شخصیت جن فنی خصوصیات سے عبارت ہے وہ سب مرثیے میں موجود ہے۔ اساتذہ کی پیروی کا اظہار اور زبان و بیان وہی معیار عطا رکرنے کی پھرپور سعی کا احساس ہوتا ہے۔
مرثیہ دعائیہ بند سے شروع ہوتا ہے اور مسلسل ۴۶ بند وں تک دعائیہ انداز میں الفاظ کی بندش اور زبان و بیان پر قدرت کا فن دکھایا گیا ہے۔ جو ہمیں اکثر کلاسیکی مرثیہ نگاری میں نظر آتا ہے۔مثال کے طور پر چند بند پیش ہیں۔
یا رب مرا ریاض طبیعت نہال ہو
رنگ بہار ذہن رسا بے مثال ہو
یکتا ہو رنگ و بو میں ریاض سخن مرا
پھولے پھلے بہار خزاں میں چمن مرا
پرور دگار دے وہ طبیعت رسا مجھے
قدسی کلام سن کے کہیں مرحبا مجھے
بحر محیط علم سے کر آشنا مجھے
مضموں عطا ہوں مثل در بے بہا مجھے
شہرہ وہ میری نظم فصاحت نظام کا
چرچا ہو خاص و عام میں حسن کلام کا
ہر بند بے مثال ہو ہر بیت لا جواب
ہر شعر بے نظیر ہو ہر لفظ انتخاب
بندش میں صاف سلک گہر کے ہو آب و تاب
معنی دکھائیں جلوہ مہتاب و آفتاب
مضموں ہر ایک تاج سر افتخار ہو
جو حرف نکلے کلک سے وہ یاد گار ہو
مندرجہ بالا بندوں میں صفدر کی حضور رب میں جو آرزو ہے ان کا پورا مرثیہ اس تمنا اور آرزو کی قبولیت کی سند ہے۔صفدر کو مضمون آفرینی کا ملکہ حاصل ہے اوربندش الفاظ سے ایک پختہ مشق صاحب فن مرثیہ نگار شاعر کا احساس ہوتا ہے۔ صفدر بھی اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ ان کی یہ آرزو بارگاہ عہد یت میں قبولیت حاصل کرے گی اسی لیے اگلے بندوں میں وہ اپنے ندائے غیب سے قبولیت کا اعلان کرتے ہیں۔ملاحظہ :
آواز غیب آئی کہ صفدر نہ ہو ملول
درگاہ حق میں تیری دعا ہوئی قبول
مطلب بر آیا دل کی تمنا ہوئی حصول
مداحوں میں امام زمن کے ہوا شمول
وقفہ نہ کر عنان کمیت قلم اٹھا
وہ سامنے ہے منزل مقصد قدم اٹھا
سن کر ندائے غیب ہو ا دل شاد ماں
دریا سے بڑھ کے میری طبیعت ہوئی رواں
دل مضطرب ہے شوق سے رکتی نہیں زباں
اے عندلیب نطق یہ ہے وقت امتحاں
اہل سخن کو زور طبیعت دکھا دے آج
نغمے نئے ترانہ رنگین سنا دے آج
اس طرح صفدر نے اپنی طبیعت مرثیہ گوئی کے روایتی انداز مائل کرکے اپنے پیش روؤں کی تاسی میں تعلٰی کی صنعت کو مبالغہ سے آراستہ کرکے زبان و بیان کے جوہر دکھائے ہیں۔ مرثیہ کی پیش کش میں ابتدا سے ہی صفدر کی زبان دانی، نازک خیالی ، بندش الفاظ و مضمون آفرینی کا احساس ہونے لگتا ہے اور جیسے جیسے مرثیہ آگے بڑھتا ہے یہ تعلٰی حقیقت کا روپ اختیار کرنے لگتی ہے۔ پیش ہیں تعلیات پر مبنی چند بند:
فرماں روائے ملک سخن قلم ہے مرا
سرو ریاض خلد بریں ہے علم مرا
روشن ہے مثل نیراعظم چشم مرا
ہستی کی انجمن میں غنیمت ہے دم مرا
مانند شمع رونق بزم جہاں ہوں میں
طرز بیاں میں پیشرروں کا نشاں ہوں میں
باغ جہاں میں بلبل بستان نظم ہوں
فرمانروائے شعر ہوں سلطان نظم ہوں
روح کالم قلب سخن جان نظم ہوں
روز ازل سے شیر نیستان نظم ہوں
روشن ہے مثل شمس و قمر مرتبہ مرا
پہنچا ہے شرق و غرب تلک دبدبہ مرا
گلزار میں بہار ، چمن میں نسیم ہوں
لالے میں رنگ جامہ گل میں شمیم ہوں
معدن میں لعل بحر میں درّ یتیم ہوں
دشت ختن میں مشک ، یمن میں ادیم ہوں
یہ سب اثر ہے رحمت پروردگار کا
کیا نطق کیا بیان ہے اس خاکسار کا
تعلٰی نظم کرنے میں صفدر کو خود یہ خیا ل آ جاتا ہے کہ یہ ان کا پہلا مرثیہ ہے۔طبیعت کا ذور انہیں مجبور کرتا ہے لیکن اپنے اشہب تخیل کو روک لیتے ہیں اور پھر ایک مصلح اور مفکر و ناصح کی طرح مضمون کا رخ دوسری جانب موڑتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
بس اے زباں بشر کو تعلٰی نہیں رواں
کیا اصل کیا وجود ہے اک مشت خاک کا
راہی ہے ایک روز سوئے عالم بقا
آواز غیب آتی ہے ہر دم فنا فنا
جانا ہے ایسی راہ کہ جس کا نشاں نہیں
منزل نہیں مقام نہیں کارواں نہیں
یہاں سے صفدر کی فکر کا رخ دوسری جانب مڑتا ہے جہا ں بے ثباتی کا ئنات فلسفہ موت و حیات فنا کے تخیلات کا ایک دوسرا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔ اس موضوع پر طبیعت کی روانی ،فکر کی بالیدگی اپنی عروج پر ہوتی ہے جس میں نادر تراکیب،الفاظ کی بندش، زور بیان، حسن کلام کے اوصاف سیشاعری کو مزین کرتا ہے۔ ساتھ ہی صفدر بے ثباتی کائنات پر ایک مفکر اور مصلح کی طرح نظم تقریر کرتے ہوئے نظر آنے لگتے ہیں ان کی یہ تقریر خاطر پر بار گراں نہیں لگتی کیوں کہ نادر ترکیبوں اور بندش کے حسن سے مملو ہوتی ہے۔کچھ بند اس سلسلے کی بھی پیش ہیں:
یہ دہر بے ثبات نہیں قابل قیام
اندیشے کی جگہ ہے یہ عبرت کا ہے مقام
دو کام کر زمانے میں رہ جائے جس سے نام
پھر کیا کرے گا موت کا جب آ گیا پیام
ہنگام نزع صدمہ فرقت اٹھائے گا
اعمال کے سوا نہ کوئی ساتھ جائے گا
اکدم کی زیست پر عبث اتنا غرور ہے
اک روز سب کو چھوڑ کے جانا ضرور ہے
دار فنا سے ملک بقا کتنی دور ہے
جو دور سمجھے فہم کا اس کی قصور ہے
کہتا ہے روز ہاتف غیبی فنافنا
اے ساکنان منزل ہستی فنا فنا
فانی ہیں سب قیام کسی کو ہیں نہیں
جو صاحب علم تھے اب ان کا نشاں نہیں
دست قضا سے شاہ و گدا کو اماں نہیں
وہ کون سا چمن ہے کہ جس کو خزاں نہیں
جو آج سرفراز ہے کل پائمال ہے
جس کو کمال ہے اسے اک دن زوال ہے
اسی طرح کے مسلسل بند صفدر نقل کرتے چلے جاتے ہیں۔ کلام کی روانی قائم رہتی ہے اور مضامین کی آمد یکساں رہتی ہے۔ یہ سب ممکن اس لیے ہے کہ فقرا، علما کی بزم بیٹھ کر مسائل قضا و قدر بقا و فنا پر سوال و جواب جو عرصے تک صفدر کی حیات کا حصہ رہا ہے۔ساتھ ہی مضامین فکر کو شعری قالب میں ڈھالنے کا فن اور طبیعت کی جولانی مسلسل بیان کی محرک ہوتی ہے۔ ہنگامہ موت،جانکنی کا خوف،نکرین کے سوال و جواب، غذاب کا خوف ان تمام مضامین کی پیش کش کے بعد مرثیہ کی جانب گریز کرتے ہوئے یہ بیان صفدر کی رسول و آل رسول سے عقیدت اور ارادت کے شاہد ہیں:
غزم سفر ہے پاس نہیں زاد راہ آہ
منزل کڑی ہے دوش پہ بارگناہ آہ
افراط مصیبت سے ہے نامہ سیاہ آہ
لیکن عبث ہے حسرت وا فسوس آہ آہ
پیش خدا وسیلہ ہمیں پنجتن کا ہے
روز جزا ذریعہ حسینؑ حسنؑ کا ہے
کیا خوف ہے کہ شافع محشر ہیں مصطفا
حلال مشکلات دو عالم ہیں مرتضا
محشر میں ہوگا سایہ دامن بتول کا
پشت و پناہ امت عاصی ہیں مجتبا
کیا کیا قلق اٹھائے شہہ مشرقین نے
دی جان بہر بخشش امت حسینؑ نے
کیا جانے کوئی منصب اعلا حسینؑ کا
پیش خدا بلند ہے رتبا حسین کا
از فرش تا بہ عرش ہے جلوا حسینؑ کا
کافی ہے عاصیوں کا وسیلا حسینؑ کا
سر دے کے اس کی راہ میں سردار ہو گئے
سرکار ذوالجلال کے مختار ہوگئے
برج شرف کے نیر اعظم حسین ہیں
مسند نشین بزم دو عالم حسین ہیں
رونق فزائے کعبہ و زمزم حسین ہیں
درگاہ کبریا میں معظم حسین ہیں
ممکن نہیں کہ وصف شہہ دوسرا لکھوں
اب سرگزشت معرکہ کربلا لکھوں
مندرجہ بالا بندوں میں زور بیان و روانی زبان کے ساتھ ساتھ صفدر و سیلہ نجات حب اہل بیت کو قرار دیتے ہوئے بتانا چاہتے ہیں کہ اگر صدق دل سے محمدؐ و آل محمد سے محبت ہے تو موت مشکل نہیں آسان ہو جاتی ہے۔ اور خوف کا خوف دل سے زائل ہو جاتا ہے۔ موت کی ہر ترشی شیرنی میں بدل جاتی ہے۔ اور یہی جزبہ اصحاب و انصار حسین میں کربلا میں تھا کہ ان کے دل امام حسین پر جان دینے اور قربان ہونے کے لئے موت سے ہمکنار ہونے کو بے قرار تھے۔جسے آگے انصار حسین کے جزبات و احساست کی عکاسی میں صفدر نے پیش کیا ہے۔اور انہیں دار و تحسین و خراج عقیدت و سلا م پیش کیا ہے۔امام کے اصحاب و انصار و اعزاکے جذبات اور تشکر ظلم کے کرداروں کی پیش کش میں جو نقشہ صفدر نے کھینچا ہے۔اس سے مرثیے کے اس حصے میں ڈرامائی کیفیات بھی پیدا ہوتی ہیں۔ خاص طور سے دونوں جانب کے کرداروں کی فکر اور مرثیے کے بیان میں جن مکالماتی انداز سے صفدر نے کا لیا ہے وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اپنے پیش روؤں کی مرثیہ نگاری کا بہ نظر غائر مطالعہ صفدر نے کیا تھا۔ مذکورہ بندوں کے بعد اب صفدر اس بند سے مرثیہ کاباقاعدہ آغاز کرتے ہیں کیوں کہ کلاسیکی مرثیہ کی روایت میں عام طور سیمرثیہ کا آغاز صبح کے بیان سے شروع ہوتا ہے اور مندرجہ ذیل بند کے بعد تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ صفدر نے میر انیس کے مرثیوں کو سامنے رکھ کر مرثیہ گوئی کی ہے۔ خصوصاً میر انیس کا مرثیہ ’’جب قطع کی مصافت شب آفتاب نے‘‘ پیش ہے صفدر کا بند:
جب آسماں پر جلوہ نور سحر ہوا
پنہا ہوئے نجوم روانہ قمر ہوا
تخت فلک پہ مہر مبیں جلوہ گر ہوا
شورش ادھر صلٰوۃ کا نعرا ادھر ہوا
سب نے حضور قلب سے ذکر خدا کیا
یعنی فریضہ سحری کو ادا کیا
وہ صبح کا ظہور وہ میدان پر فضا
وہ یاد کبریا میں درختوں کا جھومنا
وہ شاخ گل پہ نغمہ مرغان خوشنوا
وہ سبزۃ زار وہ گل خود رو ہزار ہا
مہکا ہوا تھا دامن صحرا نسیم سے
میدان تھا رشک غنبر سارا شمیم سے
منددجہ بالا بند پڑھتے ہوئے میر انیس کے مرثیہ کا یہ بند خود بہ خود زبان پر آجاتا ہے کہ :
وہ صبح اور چھاؤں ستاروں کی اور وہ نور
دیکھے تو غش کرتے رہی گوئے اوج طور
پیدا گلوں سے قدرت اللہ کا ظہور
وہ جا بجا درختوں پہ تسبیح خواں طیور
گلشن خجل تھا وادی مینواساس سے
جنگل تھا سب بسا ہوا پھولوں کی باس سے
عام طور پر مرثیہ نگار صبح ہونے کے منظر میں بہار کے مضامین نظر کرتے ہیں۔ صفدر نے مسلسل کئی بندوں میں صبح کے اسی منظر کو بہاریہ مضامین سے سجایا ہے جس میں بندش کی چستی نادر تشبہات و استعارات ،الفاظ و بیان کی روانی کا احساس ہوتا ہے۔ اور ذہن صفدر کے زبان و بیان پر قدرت کو داد و تحسین دینے لگتا ہے۔مرثیہ نگاروں نے بہار کے اسی بیان سے خزاں کا ذکر پیدا کرکے مرثیہ کی جانب گریز کیا ہے۔ صفدر نے بھی اسی روایت کی تائید کی ہے۔ دو بند ملاحظہ ہوں:
موج نسیم صبح میں پھولوں کی وہ مہک
عکس شعاع مہر سے شبنم کی وہ جھلک
وہ لالہ زار سبزہ صحرا کی وہ لہک
کوئل کی کوک بلبل شیدا کی وہ چہک
وہ پھولنا شفق کا وہ جوبن بہار کا
نقشہ کھنچا تھا صنعت پرور دگار کا
پھولے تھے دشت میں گل خود رو چمن چمن
گلنار ولالہ نرگس و نسرین و نسترن
غنچوں میں وہ مہک کہ فدا نافہ ختن
تھی شاخ گل پہ بلبل خوش لہجہ نعرہ زن
ہر باغ میں بہار ریاض جناں کی تھی
پر گلشن حسینؑ میں آمد خزاں کی تھی
کلاسیکی روایتی مرثیوں میں چہرہ کے جزو میں صبح کی منظر کشی ، بیان اخلاقیات، فلسفہ موت و حیات پند و نصائح تعلی کی شعر و شاعری پیش ہوتی ہے۔ صفدر کے اس مرثیہ میں یہی مضامین پوری چابکدستی کے ساتھ نظر کئے گئے۔ اس کے بعد جزو سراپا کے بیان میں چوں کہ صفدر کا یہ مرثیہ کسی ایک شہید کے حال کا نہیں ہے۔ اس لئے اصحاب و انصار کے مجموعی جزئیات، ایثار و قربانی، جزئت و ہمت کی منظر کشی صفدر نے کی ہے اور اہل بیت امام میں اعزا کی سراپا نگاری اختصار کے ساتھ پیش کی ہے۔ پیش ہیں اس سے متعلق چند بند:
جرأت میں رشک سام و نریماں تھا ہر جواں
چہروں سے جنکے صولت شیر خدا عیاں
ترکش کمر میں بر میں زرہ دوش پر کماں
نیزے تھے سب کے ہاتھوں میں مانند کہکشاں
یوں دم بدم تڑپتی تھیں تیغیں نیام میں
جس طرح اضطراب ہو ماہی کو دام میں
سراپا کے بیان میں حسینؑ کے اعزا کا نقشہ صفدرنے اس طرح کھینچا ہے:
جعفر تھے حرب و ضرب میں جعفر کے یادگار
شان محمدیؐ تھی محمدؐ سے آشکار
قاسم کے رخ پہ شادی کے سہرے کی تھی بہار
اکبر تھے ہم شبیہ رسول فلک وقار
تھا یہ نشاں علی ولی کے نشان کا
لہرا رہا تھا سر پہ پھریرا نشان کا
عباس نامور کا زہے رعب احتشام
ہلچل تھی فوج شام میں لرزاں تھے خاص و عام
کہتے تھے کس زباں سے ہو شکر شہہ انام
دیکر نشاں بلند کیا غازیوں میں نام
فوج خدا کے آج علمدار ہوں گے ہم
شانے کنا کے جعفر طیار ہوں گے ہم
اکبر کا وہ شباب جوانی کی وہ امنگ
بازو میں زر لب پہ ہنسی دل میں شوق جنگ
چہرہ و فور شوق شہادت سے سرخ رنگ
قوت میں شیر دشت و غا زور میں نہنگ
جلوہ تھا گیسوؤں میں رخ لا جواب کا
یا چرخ سنبلہ میں ظہور آفتاب کا
قاسم کا وہ جمال وہ گیسوئے مشکبار
وہ حسن بے مثال وہ رخسار تابدار
سینے پہ پرتو در دنداں تھا آشکار
جس طرح سے ہو زیب گلو موتیوں کاہار
رخسار پر جو خال قضارہ چمک گیا
پہلو میں آفتاب کے تارہ چمک گیا
آمادہ قتال تھے زینت کے نو نہار
جرأت میں لا جواب شجاعت میں بے مثال
وہ سن وہ دل وہ حوصلہ وہ رعب وہ جلال
تلواریں کھینچ کھینچ کے کہتے تھے خرد سال
جانبازیاں دکھائیں گے گو بھوکے پیاسے ہیں
فدیہ حسینؑ کے ہیں علیؑ کے نواسے ہیں
حاضر تھے در یہ سب یہ گل گلشن شباب
تھا انتظار آمد شدہ فلک رکاب
تشریف لائے خیمہ عصمت یوں جناب
نکلے خیام چرخ سے جس طرح آفتاب
آئے جو آپ حیدر صفدر کی شان سے
خورشید نے سلام کیا آسمان سے
مندرجہ بالا بندوں میں صفدر نے جس طرح سے امام حسین ان کے اصحاب و انصار بھائی بھتیجوں بھانجوں کے سراپا کا نقشہ کھینچا ہے وہ کمال شاعری کا نمونہ تو ہے ہی اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ شاعر کو ہر ایک کے مرتبے سے واقفیت ہیاور اسی مناسبت سے ان کا ذکر ہے۔ نادر ترکیبوں، بے مثال تشبیہوں،بندش کی چستی،بیان کی روانی میں کوئی فرق نہیں ہے۔زبان و بیان اور شعر گوئی کے ملکہ اور قدرت کی مثال ہے۔ اس طرح صفدر نے مرثیہ نہیں لکھا ہے بلکہ مجموعی کیفیت کربلا کی جنگ کی بنیان کی ہے۔ اس لیے آمد اور رجز کا جزو علاحدہ سے نہیں ہے بلکہ صفدر نے اصحاب و انصار کی جنگ مجموعی اعتبار سے پیش کی ہے۔ جنگ کے حصے میں صفدر نے اپنی جولانی طبع اور صنعت نگاری سے بھرپور کام لیا ہے اور جنگ کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے کہ منظر نگاری پیکر نگاری،واقعہ نگاری ہر ایک خصوصیات عیاں ہو گئی ہیں۔ دو بند جنگ کے حوالہ سے ملاحظہ ہوں:
القصہ ہو کے شاہ سے رخصت رفیق و یار
شیرانہ معرکے گئے بہر کارزار
فوج ستم سے لڑتا تھا اک ایک جاں نثار
دس دس ہزار گرتے تھے اس پر ستم شعار
اس درجہ مجمع سپہ بد خصال تھا
پیک خیال کا بھی گزرتا محال تھا
پہنچا غبار دشت جو تا اوج آسماں
پیش نگاہ سد سکندر ہوئی عیاں
تاریک مثل پردہ ہوا جہاں
نصف النہار پر تھا شب تار کا گماں
دشت نبرد صحن قیامت سے کم نہ تھا
مینائے چرخ شیشہ ساعت سے کم نہ تھا
کلاسیکی روایتی مرثیوں میں صنعت مبالغہ مرثیوں کا وصف اور شاعر کے جوش بیان،پرواز تخیل کا معیار قرار پاتی تھی صفدرؔانے بھی اس صنعت کا بخوبی اور بھرپور استعمال کیا ہے جس میں تشبیہہ و استعارے کی کارفرمائی ہوتی تھی۔ مندرجہ بالا بند اس کی بہترین مثال ہیں۔ جنگ کی حولنا کی کا بیان بھی صفدرؔ نے پیکر طرازی کے انداز میں پیش کیا ہے۔شوکت الفاظ تراکیب کی بندش، مضامین کا وفور،سلاست و روانی صفدرؔکے اس مرثیے کے ہر حصے میں جلوہ گر ہے۔ دو بند جنگ کے حوالے سے ملاحظہ ہوں:
ہر گام پر تھی برق سمندروں کی جست و خیز
مثل زبان شعلہ آتش تھی تیغ تیز
جتنے پہاڑ روئے زمیں پر تھے ہل گئے
اس نہ، طبق سے ہفت طبق جا کے مل گئے
دریائے خوں کا دشت و غا میں ہوا یہ جوش
مچھلی کی طرح تیرتے پھرتے تھے روع پوش
بسمل کی ہچکیوں کا اٹھا ہر طرف خروش
مثل نشانہ اڑتے تھے اہل ستم کے ہوش
طاری تھا رعب فوج خدا رزم گاہ میں
ہلچل تھی ان کے ہاتھ سے ساری سپاہ میں
اصحاب و انصار کے جوش وو لولے حرب و ضرب کا نقشہ صفدرؔ نے فنکارانہ انداز میں اس طرح کھینچا ہے کہ مرثیوں میں جنگ کے حصے کا جزو بھی ان کی قارد الکلامی کا ثبوت بن گیا ہے۔جنگ کی اس منظر کشی کے بعد صفدر ان اصحاب و انصار اور عزیز و اقارب کی شہادت نظر کی ہے اگر چہ شہادت کا حصہ مختصر ہے لیکن اس حصے میں بھی جومآل مرثیہ ہے۔ صفدر نے سب کے جزبات و احساسات کو بہت خوبی و فنکاری سے ابھارا ہے۔ دو بند ملاحظہ ہوں:
حر مر گئے تو شاہ کے یاور ہوئے شہید
پھر مسلم غریب کے دلبر ہوئے شہید
زینب کے دونوں ماہ منور ہوئے شہید
شادی کی صبح قاسم مضطر ہوئے شہید
عباس ابن ساقی کوثر بھی مر گئے
اکبر بھی مر گئے علی اصغر بھی مر گئے
باقی رہا نہ طفل تلک فوج شاہ میں
آئی خزاں ریاض رسالت پناہ میں
بسمل پڑے تھے خاک پہ سب قتل گاہ میں
عالم سیاہ تھا شہہ دیں کی نگاہ میں
ٹوٹے ہوئے تھے پھول چمن میں پڑے ہوئے
شبیر مثل سرو تھے ان میں کھڑے ہوئے
مندرجہ بالا بند درد و کرب، رنج و غم مصائب کے بیان کی بہترین مثال ہیں اور خاص طور سے یہ بیت کہ:
ٹوٹے ہوئے تھے پھول چمن میں پڑے ہوئے
شبیر مثل سروتھے ان میں کھڑے ہوئے
اپنے آپ میں یہ بیت خود ایک مکمل مرثیہ ہے۔ اس بیت سے ہر چندزبان انیس کے مرثیے کا وہ مصرعہ آ جاتا ہے کہ:
آج شبیر پہ کیا عالم تنہائی ہے
اس کے بعد دو بند رنج و غم اور مصائب کے نظم کر کے صفدرؔ نے امام حسین کی آمد،رخصت اور امام کا فوج شام پر حجت تمام کرنا بیان کیا ہے اور پھر حضرت امام حسین کی جنگ گھوڑے اور تلوار کی تعریف میں اپنا تمام زور و طبیعت صرف کر دیا ہے۔ اس حصے میں صفدرؔ کی جولانی طبع الفاظ کا طمطراق،سلاست و روانی،فصاحت و بلاغت اپنے شباب پر ہے۔ حضرت امام حسین کی آمد میں گھوڑے کی تعریف پر چند بند ملاحظہ ہوں:
یکتا و لاجواب تھا رہوار بے مثال
گلگوں نثراد حور شمائل پری جمال
عالی دماغ زہرہ جبیں عنبریں عیال
نازک مزاج تیز طبیعت ملک خصال
چہرہ عروس نو کا سراپا تھا نور کا
چھل بل پری وشوں کی جھمکڑا تھا حور کا
گیتی نورد بادیہ پیما صبا شتاب
بیتاب بے قرار سبکرو قمر رکاب
تیزی میں باد تند روانی میں موج آب
لاکھوں میں بے نظیر ہزاروں میں انتخاب
مثل براق یہ ہمہ تن بے مثال ہے
بالاروی میں رہبر پیک خیال ہے
سرعت میں برق جست میں پیک نظارہ تھا
شعلہ زمین پر تھا فلک پر ستارہ تھا
آتش تھا صاعقہ تھا ہوا تھا شرارہ تھا
زہرہ حمال مہر لقا ماہ بارہ تھا
آیا صف نبرد میں اس زرق برق سے
جس طرح آفتاب نمایاں ہو شرق سے
گھوڑے کی تعریف میں زور و طبیعت،تخیل کی جولانی،بیان کی روانی کے جوہر دکھانے کے بعد صفدرؔ نے امام کی رزمگاہ میں آمد فوج یزید سے کلام حجت کا تمام کرنا اہل شر کو خدا کی نافرمانی،ظلم اور جور سے بار رہنے کی تلقین کے بعد جب فوج شام نے امام سے بے ادبانہ کلام شروع کیا اور جنگ کے لیے آمادہ کیا۔ ان مضامین کا بیان کر کے جنگ کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس حصے میں ایک بار پھر صفدرؔنے تلوار کی تعریف میں اپنے کمال فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ صفدرؔ کو پتہ تھا کہ مرثیہ نگار تلوار اور گھوڑے کی تعریف میں اپنے فن اور زور طبیعت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تلوار کی تعریف میں بھی صفدرؔ کی نازک خیالیاں،بیان کی جادوگری اور لفظوں کی بندش کی قدرت کا مظاہرہ ہے۔ ملاحظہ ہو چند بند:
نکلی چمک کے میان سے اس آب و تاب سے
جیسے عروس نو نکل آئے حجاب سے
یا برق شعلہ خو تھی کہ نکلی سحاب سے
یا ہوگئی شعاع جدا آفتاب سے
کس بل دکھائے فوج کو چمک رکی چلی
گھونگٹ انٹ کے ناز و ادا سے پری چلی
آمادہ و غا ہوئی صمصام حیدری
جلوہ نما تھی چار طرف شان قیصری
ضو میں قمر فروغ میں خورشید خاوری
صورت میں حور خو میں ملک ناز میں پری
چلنے میں شعلہ بار بھی آبدار بھی
بادسموم بھی تھی نسیم بہار بھی
چم خم دکھا رہی تھی عجب رنگ ڈھنگ سے
جلوہ نما تھی ایک پری لاکھ رنگ سے
کھنچ کھنچ کے جنا لیتی تھی کس کسی امنگ سے
آتی تھی آفریں کی صدا طبل جنگ سے
کس کرو فر سے فوج پہ جاتی تھی بار بار
صفا کیاں غضب کی دکھاتی تھی بار بار
چمک بڑھی رکی ادھر آئی ادھر چلی
ہلچل پڑی سپاہ عدو میں جدھر چلی
جس صف پہ جس پرے پہ چلی بے خطر چلی
خونریز آئی خون کئے خوں میں تر چلی
آیا جو سامنے وہ عدم کو روانہ تھا
یہ جان لے رہی تھی فضا کا بہانہ تھا
ناگن کی طرح فوج پہ لہرا کے پھر گئی
اٹکھیلیاں نئی نئی دکھلا کے پھر گئی
دریائے خوں میں لاکھوں کو نہلا کے پھر گئی
دل میں مثال و ہم و گمان آکے پھر گئی
کھنچنے کا اشتیاق تھا چلنے کا شوق تھا
چورنگ کی ہوس تھی صفائی کا ذوق تھا
روانی و جولانی اپنے شباب پر نظر آتی ہے۔صفدرؔکے ان بندوں میں صوتی اعتبار سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ لفظوں اور ترکیبوں کا بر محل استعمال ہوا ہے۔ جس سے ایک صوتی آہنگ پیدا ہوا ہے۔صفدرؔ چوں کہ خود بھی سپہ گری سیواقف تھے۔اس لیے جنگ کے موضوع میں ان کی طبیعت اور زیادہ روانی پر ہوتی ہے۔ لفظوں اور ترکیبوں کے بہاؤ کا احساس نمایاں ہے۔ امام کی جنگ کے بعد شہادت کا بیان انتہائی کرب ناک انداز میں صفدرؔ نے نظم کیا ہے۔ یہ مرثیہ امام حسینؑ کی شہادت پر ختم نہیں ہوتا بلکہ خیام حسینی کے نذر آتش ہونے کا بیان اور اہل حرم کو قید کرنے کا بیان بھی صفدر نے نظم کیا ہے۔ دو بند مصائب کے حوالہ سے ملاحظہ ہوں:
شبنم سے اشک بار تھا چرخ بریں تلک
فرط الم سے خاک بسر تھی زمیں تلک
غم سے جگر کباب تھا مہر مبیں تلک
سدرہ پہ بیقرار تے روح الامیں تلک
لرزاں تھا عرش گاہ زمیں تھر تھراتی تھی
جن و ملک کے رونے کی آواز آتی تھی
سو بند پر مشتمل صفدرؔ کے اس مرثیے میں وہ تمام وصف اور خوبیاں موجود ہیں جو کلاسیکی و روایتی مرثیہ کا طرۂ امتیاز ہیں۔ افسوس ہے کہ صفدرؔنے صرف ایک مرثیہ لکھا ورنہ بڑے مرثیہ نگاروں کی فہرست میں وہ ایک ممتاز حیثیت رکھتے۔ صفدر کا ایک ہی مرثیہ انھیں بحیثیت مرثیہ نگار امتیازی خصوصیت کا حامل بناتا ہے۔
٭٭٭