اداریہ:حرفِ خیال
احتشام الحق آفاقی
اردو زبان و ادب کی روایت بہت وسیع اور گہری ہے۔ اس روایت کی تشکیل میں شاعروں، ادیبوں، محققوں، نقادوں، مترجموں اور اہل علم کی کئی نسلوں نے اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ اردو نے بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ اپنے اظہار کے نئے راستے پیدا کیے اور ہر دور کے فکری، سماجی اور تہذیبی حالات کو اپنے اندر جگہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب کا دائرہ صرف ماضی کی ادبی میراث تک محدود نہیں بلکہ آج بھی اس میں نئے موضوعات، نئے سوالات اور نئے زاویے پیدا ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال میں تحقیق اور تنقید کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
گلستان اردو کا پہلا شمارہ اسی احساس کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس مجلے کے آغاز کے پیچھے کوئی وقتی جذبہ نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کے علمی منظرنامے میں اپنی بساط کے مطابق ایک مثبت کردار ادا کرنے کی خواہش ہے۔ ہمارا مقصد ایسی تحریروں کو سامنے لانا ہے جن میں موضوع کا شعور، مطالعے کی وسعت، مواد کی صحت اور اظہار کی سادگی موجود ہو۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک علمی مجلے کی قدر و قیمت صرف اس کے صفحات کی تعداد سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں شائع ہونے والے مواد کے معیار سے متعین ہوتی ہے۔آج اردو میں لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ مختلف موضوعات پر بڑی تعداد میں مضامین اور تحقیقی مقالے سامنے آ رہے ہیں۔ جامعات میں تحقیق کا سلسلہ جاری ہے، رسائل و جرائد شائع ہو رہے ہیں اور انٹرنیٹ نے علمی مواد تک رسائی کو پہلے کے مقابلے میں بہت آسان بنا دیا ہے۔ لیکن اس آسانی کے ساتھ ایک مشکل بھی پیدا ہوئی ہے۔ مواد کی فراوانی کے درمیان قابل اعتماد اور مستند مواد کی شناخت پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ کسی موضوع پر چند معلومات جمع کر دینا تحقیق نہیں۔ تحقیق کے لیے بنیادی ماخذ تک رسائی، حوالوں کی صحت، سابقہ تحقیق کا جائزہ، موضوع سے واقفیت اور نتائج تک پہنچنے میں احتیاط ضروری ہے۔
گلستان اردو میں تحقیق کے اسی پہلو کو اہمیت دی جائے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں شائع ہونے والی تحریر محض صفحات بھرنے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ اپنے موضوع کے بارے میں کوئی بات واضح کرے، کسی پہلو کو نئے سرے سے دیکھے یا پہلے سے موجود علمی بحث میں اپنی طرف سے کوئی قابل قدر اضافہ کرے۔ اس کے لیے مقالہ نگار کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے اور ادارے کو بھی اپنے معیار پر قائم رہنا چاہیے۔ ہمارا خیال ہے کہ علمی کام میں مصنف اور ادارہ دونوں کی ذمہ داری برابر اہم ہے۔
اردو تحقیق کی ایک بڑی خوبی اس کے وسیع موضوعات ہیں۔ کلاسیکی شاعری سے لے کر جدید افسانے تک، لسانیات سے لے کر ترجمے تک، ادبی تاریخ سے لے کر تہذیبی مطالعے تک ایسے بے شمار میدان ہیں جن میں ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ ہمارے ادبی سرمائے کا ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے جسے نئے زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے مصنفین اور ادیب ایسے ہیں جن پر ابھی مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ بعض اہم کتابیں، رسائل، خطوط، دستاویزات اور مخطوطات بھی تحقیق کے منتظر ہیں۔ نئی نسل کے محققین اگر ان موضوعات کی طرف توجہ کریں تو اردو تحقیق کے دائرے میں خاصا اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے ادبی ماضی کو صرف عقیدت کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔ ادب سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قدیم بات کو بغیر تحقیق کے درست تسلیم کر لیا جائے۔ اسی طرح کسی نئے رجحان کو صرف اس لیے قبول کرنا بھی مناسب نہیں کہ وہ نیا ہے۔ تحقیق کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ ہر دعوے کو دلیل اور ماخذ کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اختلاف ہو تو اسے علمی انداز میں بیان کیا جائے اور کسی شخصیت یا نظریے کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت ذاتی پسند و ناپسند کو تحقیق پر حاوی نہ ہونے دیا جائے۔
گلستان اردو میں ہم اسی علمی رویے کو جگہ دینا چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوگی کہ یہاں مختلف نقطہ ہائے نظر کے لیے گنجائش موجود رہے۔ ادب کسی ایک رائے، ایک دبستان یا ایک مخصوص طریقۂ فکر کا نام نہیں۔ اس میں اختلاف بھی ہے، مکالمہ بھی اور نئے سوالات کی گنجائش بھی۔ ایک زندہ ادبی روایت وہی ہوتی ہے جو اپنے اندر سوال اٹھانے اور ان کے جواب تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
موجودہ دور میں اردو زبان و ادب کے سامنے کچھ نئے مسائل بھی ہیں۔ نئی نسل کا مطالعے سے کم ہوتا ہوا تعلق، زبان کے استعمال میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں، کتاب سے دوری، تحقیق میں غیر مستند مواد کا استعمال اور نقل کے بڑھتے ہوئے رجحانات ایسے معاملات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید ذرائع نے اردو کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان ذرائع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معیار اور تحقیق کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
گلستان اردو اسی بدلتے ہوئے ماحول میں اپنا سفر شروع کر رہا ہے۔ ہم اس سفر میں صرف اپنے طور پر لکھنے اور شائع کرنے کے بجائے اہل علم کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ اساتذہ، محققین، ادبا، شعرا اور نئی نسل کے قلم کاروں سے ہماری توقع ہے کہ وہ اپنے علمی تجربے اور مطالعے سے اس مجلے کو فائدہ پہنچائیں گے۔ کسی بھی تحقیقی مجلے کی اصل قوت اس کے صفحات نہیں بلکہ وہ اہل علم ہوتے ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔
پہلے شمارے میں شامل مضامین کے موضوعات بھی اسی وسعت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مرثیہ نگاری سے لے کر طنز و مزاح تک، افسانے میں عصری مسائل سے ہجرت کے بیانیے تک، لسانی خدمات سے شاعرانہ جہات اور مہجری ادب تک مختلف موضوعات اس شمارے کا حصہ ہیں۔ ان مضامین میں اردو ادب کے مختلف پہلوؤں کو دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ قارئین ان تحریروں کو صرف مطالعے کی حد تک نہیں بلکہ علمی گفتگو کے ایک حصے کے طور پر بھی دیکھیں گے۔
کسی بھی نئے مجلے کا پہلا شمارہ اس کے لیے ایک آغاز ہوتا ہے، اختتام نہیں۔ اس لیے گلستان اردو کے بارے میں ہمارا دعویٰ یہ نہیں کہ ہم نے اپنے لیے کوئی آخری معیار طے کر لیا ہے۔ وقت کے ساتھ تجربہ بڑھے گا، اہل علم کی آرا سامنے آئیں گی اور ان کی روشنی میں بہتری کی گنجائش بھی پیدا ہوگی۔ ہم تنقید اور مشورے کو اسی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر کسی شمارے میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کی نشاندہی ہمارے لیے اصلاح کا ذریعہ ہوگی۔
ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اردو کے فروغ کی بات صرف اردو میں زیادہ سے زیادہ لکھنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل ضرورت ایسے علمی کام کی ہے جسے دوسری زبانوں کے اہل علم بھی اہم سمجھیں اور جس کے ذریعے اردو ادب کی سنجیدہ روایت دنیا کے وسیع علمی حلقے تک پہنچ سکے۔ اس مقصد کے لیے معیاری تحقیق، درست حوالہ، صاف زبان اور موضوع سے انصاف بنیادی ضرورت ہیں۔ اردو کا علمی سرمایہ کسی ایک علاقے یا طبقے کی ملکیت نہیں۔ اس کی وسعت ہندوستان کے مختلف علاقوں، بیرون ملک اردو آبادیوں اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اردو کے قارئین تک ہے۔گلستان اردو کا سفر بھی اسی وسیع تر تصور کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مجلہ صرف ایک اشاعتی پلیٹ فارم بن کر نہ رہ جائے بلکہ اہل علم کے درمیان رابطے اور علمی مکالمے کا ذریعہ بنے۔ یہاں شائع ہونے والی ہر تحریر اپنے موضوع کے اعتبار سے کوئی نہ کوئی سوال سامنے لائے اور قاری کو مزید پڑھنے، سوچنے اور تحقیق کرنے پر آمادہ کرے، یہی ہمارے لیے اس مجلے کی کامیابی ہوگی۔
آخر میں ان تمام اہل علم اور قلم کاروں کا شکریہ جنہوں نے گلستان اردو کے پہلے شمارے کے لیے اپنی تحریریں ارسال کیں اور ان تمام احباب کا بھی جنہوں نے اس سفر کے آغاز میں اپنی نیک خواہشات اور مشوروں سے حوصلہ بڑھایا۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے شماروں میں علمی تعاون کا یہ سلسلہ مزید وسیع ہوگا اور گلستان اردو اردو زبان و ادب کی خدمت میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔
٭٭٭