gulistaneurdu.in

عارف نقوی کی شاعری میں ہجرت کا بیانیہ

عارف نقوی کی شاعری میں ہجرت کا بیانیہ

ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار
پروفیسر و صدر شعبہ اردو،اہلیہ دیوی پنیہ شلوک شولاپور یونیورسٹی

عارف نقوی ایک ایسی ادبی شخصیت کے طور پر ابھرتے ہیں جن کی زندگی اور تخلیقات ہجرت کے پیچیدہ تجربات سے جڑی ہوئی ہیں، جہاں وطن کی یادیں، جدائی کا درد اور نئی سرزمین پر جڑیں پکڑنے کی جدوجہد ایک مسلسل بیانیہ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ وہ 20 مارچ 1934 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے، جو اردو ادب اور تہذیب کا ایک اہم مرکز تھا، اور ان کی ابتدائی تعلیم بھی اسی ماحول میں ہوئی جس نے ان کی شخصیت کو لکھنوی تہذیب کی گہری چھاپ دی۔ 1961 میں جرمنی ہجرت کرنے کے بعد انہوں نے وہیں مستقل سکونت اختیار کی، مگر ان کی روح ہمیشہ وطن کی طرف لوٹتی رہی، اور وہ جہاں بھی رہے، اردو زبان و ادب کی خدمت کو اپنا مشن بنائے رکھا۔ جرمنی میں قیام کے دوران انہوں نے اردو کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے انہیں ’’جرمنی کے بابائے اردو‘‘ کا خطاب ملا۔ بقول سلطانہ مہر:

’’عارف نقوی اردو زبان و ادب کے سودائی ہیں۔ ایک وقت آئے گا جب برلن میں اردو کے حوالے سے انھوں نے جو کام کیے ہیں وہ اوروں کے لیے مشعل راہ ہوں گے اور انہیں عارف برلن کے نام سے یاد کیا جائے گا۔‘‘(بحوالہ: سلطانہ مہر، مشمولہ: کھلتی کلیاں، شعری سندیسے، عارف نقوی، مارڈن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، سنہ 2013، ص: 175)

عارف نقوی نے مختلف ادبی اصناف میں طبع آزمائی کی، جن میں شعری مجموعے جیسے ’’زخموں کے چراغ‘‘ (1969)، ’’خلش‘‘ (1998) اور ’’کھلتی کلیاں‘‘ (2013) شامل ہیں، جبکہ دیگر تصنیفات میں ’’جرمنی کل اور آج‘‘ (1969)، ’’پیاسی دھرتی‘‘ (1971)، ’’منظوم ڈرامے کی روایت‘‘ (2001)، ’’یادوں کے چراغ‘‘ (2005)، ’’نقوش آوارہ‘‘ (2007)،’’کیرم سے رشتہ: یادوں کے سہارے‘‘ (2014)، ’’جرمنی میں نصف صدی‘‘ (2014)، ’’سفرنامہ راہ الفت میں گامزن‘‘ (2017)، ’’ویڈیو ایڈیٹنگ ابتدائی تعارف‘‘(2019) اور ’’تلاش سحر‘‘ (1968) جیسی کتابیں ہیں جو ان کی متنوع ادبی دلچسپیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کی شاعری میں ذاتی تجربات کے بجائے عالمی مسائل اور انسانی غم کی جھلک زیادہ نمایاں ہے، جو انہیں ایک منفرد مقام دیتی ہے۔ وہ نہ صرف تخلیقی بلکہ تنقیدی اور اصلاحی صلاحیتوں کے مالک تھے، اور ان کی تحریریں نئی نسل کی تحریکوں سے متاثر نظر آتی ہیں۔ عارف نقوی اس زمانہ میں پیدا ہوئے جب ہندوستان میں ترقی پسندی کا آغاز ہوچکا تھا۔ انھوں نے اپنی جوانی میں ترقی پسند تحریک کا عروج دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی تخلیقات میں بھی اس کو برتا ہے۔ احتشام حسین رقم طراز ہیں:

’’ عارف نقوی نے یورپی فن کا اثر قبول کیا ہے۔ مواد اس زندگی سے لیا ہے جس سے وہ گزرے ہیں لیکن کہیں بھی انھوں نے قاری کے لیے نامانوس فضا پیدا نہیں ہونے دی۔ ان کی تخلیقات میں ان کا ترقی پسند نظریہ زندگی اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ فن کے تقاضے بھی پورے ہوتے رہے ہیں۔‘‘(بحوالہ: پروفیسر احتشام حسین، مشمولہ: کھلتی کلیاں، شعری سندیسے، عارف نقوی، مارڈن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، سنہ 2013، ص: 175)

عارف نقوی کی ادبی خدمات اردو ادب کے لیے ایک بیش بہا اثاثہ ہیں، اور وہ ایک جہاں دیدہ شخصیت کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جنہوں نے ہجرت کے بعد بھی وطن کی ثقافت کو زندہ رکھا۔ ان کی شاعری میں ہجرت کا بیانیہ ایک مرکزی موضوع کی حیثیت رکھتا ہے، جو وطن کی محبت، جدائی کی تکلیف اور نئی دنیا میں شناخت کی تلاش کو ایک گہرے فلسفیانہ انداز میں پیش کرتا ہے، اور یہ بیانیہ ان کی نظموں اور اشعار میں بار بار ابھرتا ہے، جہاں ہجرت کو ایک ذاتی سفر کے ساتھ ساتھ انسانی تجربے کا عالمگیر استعارہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ عارف نقوی کی شاعری میں ہجرت کا تصور صرف جغرافیائی نقل مکانی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک روحانی اور نفسیاتی عمل کی صورت میں سامنے آتا ہے، جہاں شاعر وطن کی مٹی سے جڑے رہنے کی آرزو کو بیان کرتے ہوئے نئی سرزمین پر پناہ کی تلاش میں مگن نظر آتا ہے۔بقول ڈاکٹر شمیم نکہت :

’’ قلم اس کے پاس پہلے بھی تھا لیکن وطن کی دوری نے اس میں جلا بخش دی۔ وہ وطن سے دور تو چلا گیا لیکن اس کی ہر سانس وطن میں جیتی رہی۔ دوستوں اور رشتے داروں کے خاکے اس کے ذہن کے آئینے میں کبھی دھندلے نہیں پڑے۔ پھر اس نے بڑے سلیقے اور فنکاری سے انھیں کبھی شاعری کے روپ میں اور کبھی افسانہ کی شکل میں پیش کر دیا۔‘‘(بحوالہ: ڈاکٹر شمیم نکہت ،مشمولہ: کھلتی کلیاں، شعری سندیسے، عارف نقوی، مارڈن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، سنہ 2013، ص: 174)

 ان کی نظم ’’وطن‘‘ اس بیانیہ کی ایک واضح مثال ہے، جہاں ہجرت کی وجہ سے پیدا ہونے والا خلا وطن کی شان اور آبرو کی حفاظت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، اور شاعر اسے ایک مقدس فریضے کی طرح پیش کرتا ہے۔ یہ نظم ہجرت کے بعد کی تنہائی کو وطن کی عظمت سے جوڑتی ہے، جہاں شاعر کی آواز میں ایک مستقل جدوجہد کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

وطن میرا وطن تیرا وطن ہے غمگساروں کا

وطن کی آبرو رکھنا وطن کی لاج رکھ لینا

وطن کی آن رکھ لینا وطن کی شان رکھ لینا

وطن کے واسطے دار و رسن کو چوم کر کہنا

جمال رخ پہ تیرے خود کو میں قربان کرتا ہوں

وطن باد صبا میں موج گنگا آب جمنا میں

ہمالہ کی بلندی میں سمندر کے تھیٹروں میں

وطن دشت و بیاباں میں چمن زاروں میں گلشن میں

وطن کیا ہے یہ دہقاں کی برستی آنکھ میں دیکھو

وطن کی شان محنت کش کے چھلنی ہاتھ میں دیکھو

غز الان وطن جب تیر کھا کر دشت میں تڑپیں

چمن کے پھول مرجھاتے ہوئے بوئے چمن کر دیں

طیور صبح کے زخمی پروں سے ساز دل گونجیں

وطن کی دوستی ، الفت وطن کی چاہ لافانی

وطن کی عزمت و وقعت وطن کی خاک میں دیکھو

وطن ہے نام انساں کا وطن ہے روپ دھرتی کا

وطن محلوں کے باہر ہے وطن بیوہ کی کٹیا میں

وطن شہروں کی ہلچل میں وطن گندم کی فصلوں میں

وطن ماؤں کی گودوں میں جوانی کی اداؤں میں

وطن ساز رفاقت میں وطن احساس الفت میں

وطن میر اوطن تیرا وطن ہے غمگساروں کا

وطن کی آبرو رکھنا وطن کی لاج رکھ لینا

وطن کی آن رکھ لینا وطن کی شان رکھ لینا

وطن کے واسطے دار و رسن کو چوم کر کہنا

جمال رخ پہ تیرے خود کو میں قربان کرتا ہوں

لیکن

وطن کے نام پر اوروں کی دنیا مت مٹا دینا

ستمگر بن کے تم حرف وفا کومت بھلا دینا

وطن کے نام پر داغ عداوت مت لگا دینا

(کھلتی کلیاں، شعری سندیسے، عارف نقوی، مارڈن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، سنہ 2013، ص: 58-57)

اس نظم میں ہجرت وطن کی محبت کو ایک عالمگیر انسانی قدر کی صورت میں پیش کرتا ہے، جہاں شاعر ہجرت کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کو بھرتے ہوئے وطن کو غمگساروں کا مرکز قرار دیتا ہے، اور یہ بیان ایک انتباہ کی شکل بھی اختیار کرتا ہے کہ وطن کی محبت کو نفرت کا آلہ نہ بنایا جائے، جو ہجرت کے تجربے سے حاصل ہونے والی حکمت کی عکاسی کرتا ہے۔ عارف نقوی کی اس شاعری میں ہجرت کی جدائی وطن کی قدر کو مزید گہرا کرتی ہے، اور شاعر کی آواز میں ایک ایسا توازن نظر آتا ہے جو ذاتی نقصان کو اجتماعی فائدے میں بدل دیتا ہے۔

 اب ان کی ایک اور نظم ’’مادروطن‘‘ پر غور کرتے ہیں، جو ہجرت کے بیانیہ کو ماں کی استعاراتی شکل میں بیان کرتی ہے، جہاں وطن کو ایک ماں کی مانند دیکھا جاتا ہے جس کی جدائی ہجرت زدہ شاعر کے لیے ایک مستقل درد کی صورت میں ابھرتی ہے، مگر یہ درد ایک اخلاقی سبق بھی سکھاتا ہے۔ یہ نظم ہجرت کو ایک روحانی سفر کی مانند پیش کرتی ہے، جہاں شاعر کی آواز میں ماں کی محبت اور تعلیم کی بازگشت سنائی دیتی ہے، جو نئی سرزمین پر بھی وطن کی اقدار کو زندہ رکھنے کی ترغیب دیتی ہے:

اے مری ماں ، مری ما تا ، میری اماں، ممی

ماں تیری کوکھ سے پایا ہے یہ جیون سندر

تیری گودی سے ملی مجھ کو متاع رحمت

تیری ممتا نے دیا مجھ کو پیام الفت

صداقت کا سبق

جینے کا ہنر

انسان کا پیار

کردار وفا

امن و انصاف و مساوات و رفاقت

کا سلیقہ مجھ کو

سیرت پیار و وفا

ماں تیرے ہونٹوں کی مسکان پہ قربان ہے جاں

تیری نظروں کی کرن سے ہے تجلی مجھ کو

تیرا ہر حرف سخن

تیری محبت کا کرم

میرے جیون کا چلن

اعمال کا اصلوب ہے یہ

لیکن

تیری ممتا کی قسم

تیری شکھشا کی قسم

تو اصولوں کو بھلا دے تو یہ انصاف نہیں

تو جو جذبات میں بہہ جائے تو ادراک نہیں

اپنے اخلاق کو تج بیٹھے تو کردار نہیں

غیر کی مائیں بھی مائیں ہی ہوا کرتی ہیں

وہ بھی انسان ہیں انسان کی ماں ہوتی ہیں

تیری تعلیم کا الفت کا تقاضہ ہے یہی

تیرے اقدام کو ادراک کے ہر کا سے پر

رکھ کے میں اپنی کوئی رائے بناؤں ماتا

تا کہ اللہ کی نظروں میں نہ تو خوار بنے

کھول کر فخر سے لب اپنے خدا سے کہہ دے

میری سنتان نے سچائی کا دامن تھاما

دین انصاف کو ایمان بنایا اس نے

لوریاں مجھ سے سنی تھیں

انھیں دوہرایا

اپنایا

تیرا پیغام محبت جو سنا تھا مجھ سے

سن کے احکام خداوند پر پرکھا اسنے

نوع انسان کی الفت کا ترانہ گایا

(کھلتی کلیاں، شعری سندیسے، عارف نقوی، مارڈن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، سنہ 2013، ص: 65-63)

عارف نقوی کی نظم ’’مادروطن‘‘ وطن کو ماں کی استعاراتی شکل میں پیش کرتی ہے، جو ہجرت زدہ شاعر کی جذباتی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ نظم کا آغاز وطن کو ’’ماں‘‘، ’’ماتا‘‘، ’’اماں‘‘ اور ’’ممی‘‘ جیسے پیار بھرے الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے ہوتا ہے، جو شاعر کی زندگی، رحمت، الفت اور اخلاقی اقدار کو وطن کی کوکھ سے جوڑتا ہے۔ یہاں وطن کو ایک پرورش کرنے والے وجود کی مانند دیکھا گیا ہے، جو صداقت، جینے کا ہنر، انسانیت کا پیار، وفا، امن، انصاف اور مساوات کا سبق دیتا ہے۔ شاعر کی زبان میں ایک جذباتی شدت ہے، جہاں ماں کی مسکان، نظریں اور الفاظ زندگی کا چلن اور اعمال کا اسلوب بنتے ہیں۔لیکن کا موڑ نظم کو ایک تنقیدی رخ دیتا ہے، جہاں شاعر وطن کو انتباہ کرتا ہے کہ اصولوں سے انحراف، جذبات میں بہنا یا اخلاق کی ترکی انصاف اور کردار کی نفی ہے۔ غیر کی مائیں بھی انسانی ہیں، کا پیغام عالمگیر الفت اور مساوات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعر اپنی رائے کو ادراک اور خدا کی خوشنودی سے جوڑتا ہے، جہاں وطن کی تعلیم کو الفت کا ترانہ بنانا ضروری ہے۔ یہ نظم ہجرت کے درد کو وطن کی اخلاقی ذمہ داری سے جوڑتی ہے، جہاں ذاتی قربانی خدا کی احکامات پر پرکھنے اور انسانی الفت کے گیت میں بدل جاتی ہے۔ ادبی طور پر، آزاد نظم کا اسلوب، تکرار اور استعارے اسے موثر بناتے ہیں، جو ترقی پسند فکر کی عکاسی کرتی ہے۔

اب ہم رخ کرتے ہیں عارف نقوی کی غزلوں کی جانب جہاں ان کی شاعری میں ہجرت ایک میٹھی یاد کی طرح ہمیں متعدد مقامات پر ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ عارف نقوی کی شاعری میں ہجرت کا بیانیہ ایک گہری نفسیاتی، جذباتی اور تخلیقی جدوجہد کی صورت میں ابھرتا ہے، جہاں وطن سے جسمانی دوری شاعر کے اندر ایک مسلسل بے چینی پیدا کرتی ہے مگر یہی بے چینی اسے ادبی روایات کی نقل کرنے، انہیں نئی سرزمین پر زندہ رکھنے اور اپنی تخلیق کی تلاش میں مبتلا کرتی ہے۔ ہجرت کی وجہ سے بہایا جانے والا خون اور قربانی ایک نئی خوبصورتی کو جنم دیتی ہے، جبکہ خانہ بدوشی کو شاعر اپنی فطری حالت سمجھتا ہے اور اسے پھولوں کی فکر، خوبصورتی کی آرزو اور باغ کی حفاظت سے جوڑتا ہے۔ یہ اشعار ہجرت کو ایک ایسی آوارگی کے روپ میں پیش کرتے ہیں جو محض تکلیف نہیں بلکہ تخلیقی عمل کی بنیاد بنتی ہے اور شاعر کی شناخت کو دوہرے پن میں ڈھالتی ہے۔مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ ہوں:

کبھی غالب کبھی سودا کی نقل میں یارو
اپنے دیوان چھپا لیتے ہیں فنکار ہیں وہ
اتنا بہا ہے خون میرا اس دیار میں
گزرا ہوں میں جدھر سے ادھر لالہ زار ہے
پھولوں کی فکر خاص میں پھرتا ہے در بدر
عارف کا حال دیکھیے خانہ بدوش ہے
وہ اپنے باغ میں آئے تو اس طرح عارف
گلوں کو توڑ کے اپنے گلے کا ہار کیا

ان اشعار سے ہجرت کا بیانیہ ادبی ورثے کی حفاظت، ذاتی قربانی اور شناخت کی تلاش کی شکل میں واضح طور پر سامنے آتا ہے، جہاں شاعر نئی سرزمین پر غالب اور سودا جیسی کلاسیکی آوازوں کو نقل کر کے اپنی تخلیق کو شائع تو کرتا ہے مگر دراصل اس کے پس پردہ غالب و سودا کو انہیں زندہ رکھتا ہے۔ خون کی بہاؤ سے پیدا ہونے والا لالہ زار جدائی کے گہرے درد کو ایک زرخیز اور خوبصورت نتیجے میں تبدیل کرنے کی علامت ہے، جبکہ خانہ بدوشی خوبصورتی کی فکر کو ایک مستقل سفر اور آوارگی میں بدل دیتی ہے۔ باغ کی تباہی اور پھولوں کی لوٹ کا منظر ہجرت کی مجبوری کو ایک انتہائی ذاتی اور جذباتی نقصان کی صورت میں اجاگر کرتا ہے، جو شاعر کی حساس روح کی گہرائی کو عیاں کرتا ہے۔

مندرجہ ذیل اشعار میں ہجرت کا تجربہ روحانی روشنی، روزمرہ کی محنت اور اندرونی عزم سے گہرے طور پر جڑتا ہے، جہاں شاعر خود کو موسیٰ جیسی آسمانی شکایت سے الگ کر کے اپنی شاعرانہ حیثیت کو عملی جدوجہد اور زمینی حقیقت سے جوڑتا ہے۔ خوشبو کی تلاش، معجزہ کی توقع اور عزم کی بلندی ہجرت کی تنہائی اور علیحدگی کو ایک اعلیٰ مقصد، امید اور انقلابی روح کی طرف لے جاتی ہے، جو شاعر کی اندرونی طاقت اور مزاحمتی صلاحیت کی گواہی دیتی ہے:

موسی نہیں کہ طور پہ جاکر کروں گلا
شاعر ہوں مجھ کو نور ملے میرے دست و پا آج
وہ اور ہوں گے جو گلشن میں پھول چنتے ہیں
شمیم معجزہ گل سے سرگراں ہو میں
لوہا ہمارے عزم کا مانے گا اک جہاں
لائیں گے تارے توڑ کے جب آسماں سے ہم

ان اشعارسے ہجرت کا بیانیہ ایک فعال مزاحمت، گہری بصیرت اور آسمانی ارادوں کی صورت اختیار کرتا ہے، جہاں شاعر آسمانی نور اور الہی شکایت کی بجائے زمینی عمل، محنت اور روزمرہ کی جدوجہد کو ترجیح دیتا ہے۔ گلشن کی سطحی اور ظاہری خوبصورتی سے ہٹ کر خوشبو کا معجزہ تلاش کرنا ہجرت زدہ وجود کی غیر معمولی حساسیت اور گہری سوجھ بوجھ کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ عزم کی لوہے جیسی مضبوطی ناممکن کو ممکن بنانے کی پرجوش امید جگاتی ہے اور ہجرت کو ایک تحول آفرین قوت میں تبدیل کرتی ہے۔بقول شارب ردولوی:

’’عارف کے افسانوں کی طرح ان کی شاعری بھی انسانی درد مندی کی شاعری ہے۔۔۔‘‘ (بحوالہ: ڈاکٹر شارب ردولوی،مشمولہ: کھلتی کلیاں، شعری سندیسے، عارف نقوی، مارڈن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، سنہ 2013، ص: 174)

آئندہ اشعار ہجرت کی ویرانی، بے سکونی اور وجودی تنہائی کو ایک انتہائی گہری اور فلسفیانہ سطح پر لے جاتے ہیں، جہاں بہار کا جشن ختم ہونے سے گلشن سوگوار اور جلتا ہوا نظر آتا ہے۔ آزادی کے باوجود زنداں کی کیفیت، دل کے گلشن میں آشیاں کی عدم موجودگی، تہواروں کی مجبوری اور خوابوں کی تباہی ہجرت کو ایک ناقابل تلافی اور ابدی نقصان کی مانند پیش کرتی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی دو جہانوں کی گردش سے مانوس ہونا اور اس میں کیف تلاش کرنا درد کو قبول کرنے اور اسے زندگی کا حصہ بنانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اشعار ملاحظہ ہوں:

جس پھول کو بھی دیکھیے وہ سوگوار ہے
جب سے چمن میں جشن بہاراں نہیں رہا
بھری بہار میں جلتا ہے گلشن ہستی
کہاں ہے شاخ شجر جس پہ آشیاں کرتے
زنداں کی اسیری ہے آزادیٔ قسمت سے
امسال کچھ اس طرح مجبور کی عید آئی
مانوس ہوکے گردشِ ہر دوجہاں سے ہم
پاتے ہیں کیف جام مے ارغواں سے ہم
کہاں گلشن دل میں نصیب آشیاں مجھ کو
بھٹکتا ہوں کہیں مل جائے کوئی آستاں مجھ کو
سوچا تھا اس جہاں کو بنائیں گے گلستاں
ایسی ہوا چلی کہ نشیمن نہ رہ سکا

یہ اشعار ہجرت کے بیانیہ کو مکمل کرتے ہیں، جہاں ظاہری خوشحالی میں بھی اندرونی جلن، بے گھری اور سوگ غالب رہتا ہے۔ تہوار کی مجبوری، دو جہانوں کی گردش سے مانوس ہونا اور اس میں ایک عجیب کیف تلاش کرنا جدائی کو ایک کائناتی اور لازمی حقیقت بنا دیتا ہے، جبکہ آشیاں کی مسلسل تلاش، گلستاں کے خواب کی ناکامی اور نشیمن کی تباہی ہجرت کو انسانی آرزوؤں، امیدوں اور جدوجہد کی ابدی علامت قرار دیتی ہے۔ عارف نقوی کی یہ سطریں ہجرت کو صرف ایک جغرافیائی یا وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل نفسیاتی، روحانی اور تخلیقی عمل ثابت کرتی ہیں جو شاعر کی پوری شخصیت اور شاعری کو تشکیل دیتی ہے۔ڈاکٹر اسلم سید عارف نقوی کی شاعری پر اپنی رائے کا اظہارتے کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’نقوی صاحب کی شاعری میں وہ انسان زیادہ نمایاں ہیں جن کی صرف سسکیاں سنتے ہیں۔ یہ انھیں زبان دیتے ہیں۔ حرمت حسن کی پاسبانی کرتے ہیں، بے نام مزدوروں ، کسانوں ، طالب علموں اور بچوں کے خواب پسینے کی بوندوں اور آنسوؤں سے چرالیتے ہیں۔ انھیں اپنی زندگی کا سرمایہ بناتے ہیں اور پھر اپنی شاعری کے ذریعہ ہم تک پہنچاتے ہیں۔ اس لیے نہ ہی وہ زندگی کسی اور کی معلوم ہوتی ہے نہ ہی وہ خواب پرانے لگتے ہیں۔ مجھے ان کی شاعری میں یہی بات سب سے نمایاں نظر آتی ہے۔ ‘‘  (بحوالہ: ڈاکٹر اسلم سید، مشمولہ: کھلتی کلیاں، شعری سندیسے، عارف نقوی، مارڈن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، سنہ 2013، ص: 174)

یہ رائے عارف نقوی کی شاعری کی سماجی گہرائی اور انسانی ہمدردی کی بنیادی خصوصیت کو انتہائی خوبصورت اور درست انداز میں بیان کرتی ہے، جو ان کی تخلیقات کو محض ذاتی جذبات کی بجائے ایک وسیع تر انسانی درد کا آئینہ بناتی ہے۔ یہ اقتباس شاعر کی ترقی پسند سوچ اور پسماندہ طبقات سے گہرے تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو ہجرت کے تجربے سے مزید گہرا ہو جاتا ہے کیونکہ نئی سرزمین پر رہتے ہوئے بھی شاعر کی نگاہ وطن کے محنت کشوں اور مظلوموں پر جمی رہتی ہے۔ڈاکٹر اسلم سید نے عارف نقوی کی شاعری کی سب سے اہم خوبی کو پکڑا ہے کہ وہ خاموش اور بے نام لوگوں کی آواز بنتے ہیں، ان کے پسینے اور آنسوؤں کو اپنی شاعری کا سرمایہ بناتے ہیں، جس سے ان کی تخلیقات میں ایک تازگی اور صداقت پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسانی درد مندی ہجرت کے بیانیے کو مزید مضبوط کرتی ہے کیونکہ دور بیٹھا شاعر بھی اپنے لوگوں کے دکھوں سے جڑا رہتا ہے، اور ان کی سسکیوں کو عالمگیر سطح پر زبان دیتا ہے، جو ان کی شاعری کو ہر دور میں زندہ اور متعلقہ بنائے رکھتی ہے۔

بہر حال عارف نقوی کی شاعری میں ہجرت کا بیانیہ ایک ایسی زندہ اور متحرک حقیقت ہے جو ان کی پوری ادبی شخصیت کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ نہ صرف ایک ذاتی جدائی کا درد ہے بلکہ ایک وسیع تر انسانی تجربہ بھی، جو وطن کی محبت کو عالمگیر الفت میں، جدائی کی تکلیف کو تخلیقی طاقت میں، اور تنہائی کی بے چینی کو سماجی ہمدردی میں تبدیل کرتا ہے۔ ان کی نظموں میں وطن ایک ماں اور غمگساروں کا مرکز بن کر ابھرتا ہے، جبکہ اشعار میں ہجرت آوارگی، قربانی، عزم اور وجودی تلاش کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ ہجرت نے ان کے قلم کو جلا بخشی، ان کی یادوں کو تازہ رکھا اور ان کی آواز کو پسماندہ انسانوں تک پہنچایا۔ وہ دور بیٹھ کر بھی وطن کی مٹی سے جڑے رہے، اس کی ثقافت کے سفیر بنے اور اردو کو یورپ کی سرزمین پر نئی زندگی عطا کی۔ ان کی شاعری ہجرت زدہ وجود کی گواہی ہے کہ درد جتنا گہرا ہوتا ہے، تخلیق اتنی ہی روشن اور ابدی ہوتی ہے۔ عارف نقوی کی یہ ادبی میراث آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعل راہ ہے، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ جڑیں چاہے جہاں بھی ہوں، روح ہمیشہ وطن کی طرف لوٹتی ہے اور انسانیت کی الفت ہی حقیقی وطن ہے۔ ان کی شاعری ہجرت کے بیانیے کو نہ صرف بیان کرتی ہے بلکہ اسے ایک عظیم انسانی فتح میں بدل دیتی ہے۔

٭٭٭

حوالہ جاتی کتب:

٭        زخموں کے چراغ ، عارف نقوی،سنہ196971

٭        خلش، عارف نقوی،سنہ  1998

٭        شعری سندیسے کھلتی کلیاں ، عارف نقوی،سنہ2013

٭        جرمنی میں نصف صدی ، عارف نقوی،سنہ2014

٭        خواجہ اکرام الدین، ترجیحات، جلد 4، شمارہ10، اکتوبر 2024

٭        جرمنی کا بابائے اردو عارف نقوی، جمال عباس فہمی، قومی آوازڈاٹ کام

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top