gulistaneurdu.in

مشرف عالم ذوقی کے ناول ’نالۂ شب گیر‘ کا موضوعاتی تجزیہ

مشرف عالم ذوقی کے ناول ’نالۂ شب گیر‘ کا موضوعاتی تجزیہ

غلام غوث
 ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو، اگنو، نئی دہلی

مشرف عالم ذوقی اردو کے اہم فکشن نگار، ممتاز فن کار اور مشہور ادیب رہے ہیں۔ اردو ادب کا کوئی سنجیدہ قاری ایسا نہیں ہوگا جو ذوقی سے واقف نہ ہو۔ عہد حاضر کے فکشن نگاروں میں ان کا مقام و مرتبہ بلند و بالا ہے۔ اپنے شاندار ناولوں کی وجہ سے اردو ادب میں مقبول و مشہور ہیں۔ آپ نے اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں کہانیاں لکھی ہیں جو ادبی دنیا میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔ مشرف عالم ذوقی نے 58 سال کی عمر پائی، جسے انھوں نے ادب کے لیے وقف کر دیا۔ لکھنے کا عشق اس قدر تھا کہ وہ لکھنے کو اپنی مزدوری سمجھتے تھے۔ جب ذوقی سے کوئی یہ سوال کرتا کہ اتنا کیسے لکھ لیتے ہیں آپ؟ تو اس سوال کا جواب ہوتا تھا کہ ادیب ادب کا مزدور ہوتا ہے اور مزدور کو ہمیشہ مزدوری کرنے میں مصروف رہنا چاہیے۔ ناول نگاری اور افسانہ نگاری ان کے دو اہم میدان ہیں، جن میں انھوں نے طبع آزمائی کی۔ وہ ایسے مرد قلندر تھے کہ انھیں ادبی کارناموں کے عوض انعام و اکرام اور اعزاز کے حصول کی پرواہ نہیں تھی۔

مشرف عالم ذوقی کی ولادت 24 مارچ 1962ء میں صوبہ بہار کے شہر آرہ میں ہوئی۔ گھر میں علمی اور ادبی ماحول تھا، جس کا اثر ذوقی پر شروع سے ہی ہونے لگا۔ بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے میں انھوں نے دلچسپی لی۔ انھوں نے بڑی کم عمری میں ہی ایک ناول ’عقاب کی آنکھیں‘ لکھ دیا۔ اس وقت ان کی عمر 16 سے 17 سال تھی اور بیس سال کی عمر تک جب وہ پہنچے تو انھوں نے چار ناول تخلیق کر دیے۔

ذوقی کے والد نے کہا تھا کہ جس نے 24 سال کی عمر تک کچھ نہ لکھا، وہ بڑا تخلیق کار نہیں بن سکتا۔ یہ بات ذوقی نے گانٹھ کی طرح باندھ لی اور اپنے والد مشکور عالم بصیری کے ذریعے مقرر کردہ عمر سے قبل ہی چار ناول لکھنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ ذوقی نے اردو ادب کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ انھوں نے بہت کچھ لکھا اور لکھنے میں کمال کا ملکہ حاصل تھا۔ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں وہ کہانیاں لکھتے تھے۔ فکشن کے حوالے سے ان کی شخصیت معروف ہے۔ ذوقی اپنے فن میں ممتاز حیثیت کے حامل ادیب گزرے ہیں۔

ذوقی کی فکشن نگاری میں حقیقت کی عکاسی، بے باکی اور جرأت مندی کا اظہار واضح ہے۔ آپ نے ہمیشہ حساس اور اہم موضوعات کو اپنے ناول اور کہانیوں کے لیے منتخب کیا اور موضوع پر کمال فن کا مظاہرہ پیش کیا۔

ان کے ناولوں میں ’نیلام گھر‘، ’شہر چپ ہے‘، ’عقاب کی آنکھیں‘، ’لے سانس بھی آہستہ‘، ’بیان‘، ’مسلمان‘، ’آتش رفتہ کا سراغ‘، ’پوکے مان کی دنیا‘، ’پروفیسر ایس کی عجیب داستان‘ اور ’نالۂ شب گیر‘ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

ناول ’نالۂ شب گیر‘ کو ذوقی پبلیکیشنز، دہلی نے 2015ء میں شائع کیا۔ یہ ناول عورت کی سماجی، معاشرتی اور تہذیبی حیثیت و وقعت کی ترجمانی کرتا ہے۔ ’نالۂ شب گیر‘ ذوقی کا منفرد اور ممتاز ناول ہے۔ انھوں نے اس ناول کے ذریعے سماج کے ایک ایسے طبقے کا مسئلہ اٹھایا ہے جس کا چرچا نہ صرف ملکی سطح پر ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کا ذکر ہوتا ہے۔ عورت کی عصمت و عزت اور اس کے حقوق کی آواز ہر جگہ سے بلند ہو رہی ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف ملکی پیمانے کا نہیں رہا بلکہ انٹرنیشنل اسٹیج پر اس کی گونج محسوس کی جا رہی ہے۔ مشرف عالم ذوقی نے ’نالۂ شب گیر‘ کا موضوع عورت کو بنا کر اسے بڑے حسین انداز سے برتنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ یوں تو کئی فن کاروں نے عورتوں سے متعلق لکھا ہے اور اس مسئلے کو اپنی گفتگو کا محور و مرکز بنایا ہے، مگر ذوقی نے موجودہ زمانے میں عورت کے جس پہلو کو ہمارے سامنے پیش کیا ہے، وہ اپنے آپ میں منفرد ہے۔

            ’نالۂ شب گیر‘ کے ذریعے ایک ایسے سماج کو روبرو کیا گیا ہے جہاں عورت اپنے آپ کو غیر محفوظ تسلیم کرتی ہے اور کہیں نہ کہیں سماج سے اپنے حقوق اور تحفظ عزت و عصمت کے لیے آواز بلند کرتی ہے۔ ذوقی کا یہ ناول موجودہ سماج کی دو ایسی لڑکیوں کی کہانی پر مبنی ہے جو اپنے جیتے جی مردوں کے ظلم و ستم، جبر و قہر اور ناروا سلوک کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ اس ناول میں ناول نگار نے سماج کو آئینہ دکھایا ہے کہ خواتین کی عصمت کی پامالی خود ان کے گھر میں بھی ہوتی ہے اور وہ اس حد تک مجبور ہیں کہ ہوس پرستوں کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھا سکتیں۔ ذوقی کے اس ناول میں متعدد کردار ہیں، لیکن مرکزی کردار دو لڑکیوں کو بنایا گیا ہے۔

            ایک لڑکی کا نام صوفیہ مشتاق احمد اور دوسری کا نام ناہید ناز ہے، جو اس ناول کے اہم کردار ہیں۔ ناول نگار مصنف کی حیثیت سے مختلف مقامات پر کہانیوں کی تلاش میں گھومتا رہتا ہے۔ اس دوران دہلی میں چلتی بس کے اندر جیوتی گینگ ریپ کا کرب ناک حادثہ سامنے آتا ہے اور بطور احتجاج انڈیا گیٹ پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہو جاتے ہیں۔

            ناول نگار نے ابتدا میں صوفیہ کو ناول کی ہیروئن بتایا ہے، حالانکہ پورے ناول کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل ہیروئن ناہید ناز ہے۔ صوفیہ ایک ایسی لڑکی ہے جسے کمپیوٹر کا علم و ہنر حاصل ہے اور وہ جدید علوم سے واقفیت رکھتی ہے۔ اس کے باوجود موجودہ زمانے کی تہذیب و ثقافت اور ماڈرن کلچر کا اثر اس پر نہیں پڑتا اور صوفیہ کا کردار موجودہ زمانے کی لڑکیوں کے بالکل برعکس ہے۔ اس کے معمولات میں شامل ہے کہ اس نے کمپیوٹر کوچنگ سے گھر تک اور گھر میں ایک کمرے تک اپنے آپ کو محدود کر رکھا ہے۔ صوفیہ اپنے میں گم صم رہنا ہی پسند کرتی ہے۔ اس نے عجیب سی حالت بنا رکھی ہے۔ وہ کسی کو بھی دل سے نہیں چاہتی کہ اس سے باتیں کرے۔ اس کا کوئی دوست نہیں جو اس کا حال جانے۔ وہ ہر وقت اداس رہتی ہے۔ اگر وہ کسی سے انٹرنیٹ پر چیٹنگ کرتی ہے تو اس کی انگلیاں کانپنے لگتی ہیں۔ صوفیہ ایک ایسی لڑکی ہے جس پر موجودہ زمانے کی چالاکی، ہوشیاری اور تیز طراری کا اثر بالکل بھی نہیں پڑتا۔ صوفیہ کے اندرونی احوال کے بارے میں ناول نگار نے اس کی نفسیات کا اظہار اس طرح کیا ہے کہ:

     ’’ایک عرصہ سے وہ اپنے آپ سے نہیں ملی۔ کمپیوٹر کوچنگ سے گھر اور گھر سے اپنے اداس کمرے کا حصہ بنتے ہوئے بس خلا میں ڈوبتے ابھرتے بھنور کو دیکھنے میں ہی صبح سے شام کر دیتی ہے۔ کمرے کے آسیب اسے گھیر کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اسے سمجھنے والا کون تھا۔ اسے پڑھنے والا کون تھا۔ وہ عشق نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اپنے لیے کوئی لڑکا پسند نہیں کر سکتی تھی۔ انٹرنیٹ پر چیٹنگ کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔‘‘

            )نالۂ شب گیر، مشرف عالم ذوقی، ص (55

            صوفیہ مشتاق احمد کے سر سے ماں باپ کی شفقت کا سایہ اٹھ جاتا ہے اور گھر بھی تباہ و برباد ہو جاتا ہے تو وہ اپنے بہنوئی اور بہن کے گھر دہلی آ جاتی ہے۔ لیکن یہ گھر اسے اپنا گھر نہیں معلوم ہوتا۔ ہر وقت گھٹن اور خوف محسوس کرتی رہتی ہے۔ ایک لڑکی کے لیے اس کا اپنا گھر یا ماں باپ کا گھر ہی اپنا گھر معلوم ہوتا ہے جہاں اسے سکون مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ لڑکیاں کتنے بھی عزیز رشتہ دار کے یہاں رہیں، لیکن وہ اسے اپنا گھر محسوس نہیں کر سکتیں۔ صوفیہ کو بھی اپنے بہنوئی اور بہن کا گھر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ ذوقی نے اس بات کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے کہ:

     ’’وہ)صوفی( بدحواس پریشان سی گھر آتی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن گھر کہاں تھا۔ ماں باپ ہوتے تو گھر ہوتا۔ بہن اور جیجو کا گھر، گھر کہاں ہوتا ہے۔ بھائی کا گھر، گھر کہاں ہوتا ہے۔‘‘

            )نالۂ شب گیر، مشرف عالم ذوقی، ص (55

            صوفیہ کے جیجو اور بہن اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہونے کے لیے کسی بھی طرح کے لڑکے کے ساتھ اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ یہی صدمہ اس کے دل میں بیٹھ جاتا ہے اور وہ اپنے بہنوئی اور بہن کے گھر سے باہر چلی جاتی ہے۔ صوفیہ نینی تال پہنچتی ہے اور اپنا نام وحیدہ رکھتی ہے۔ یہاں اس نے اپنی زندگی کا الگ ہی انداز اپنایا ہے۔ اس نے اب پرندوں کے ساتھ رہنا پسند کر لیا ہے۔ وہ پرندوں کے ساتھ رہنے میں مگن رہتی ہے۔ جیسے پرندے بڑے ہو کر اپنے ماں باپ سے جدا ہو کر اپنی زندگی گزارنے میں آزاد ہو جاتے ہیں، ویسے ہی اب صوفیہ نے اپنے رشتہ داروں سے کٹ کر پرندوں کے ساتھ رہنے میں انحصار کر لیا ہے۔

            ناول میں دوسری لڑکی ناہید ناز کا کردار بہت ہی جارحانہ اور باغیانہ انداز کا ہے۔ ناہید ناز جوناگڑھ کی حویلی میں بچپن گزارتی ہے، بڑی ہوتی ہے اور سمجھ داری کی منزل کو جب پہنچتی ہے تو گھریلو ظلم و جبر کا شکار ہوتی ہے۔ اس کی آبرو اور وقار کو اس کے گھر میں ہی ٹھیس پہنچائی جاتی ہے۔ نہ صرف ناہید بلکہ گھر میں اس جیسی کئی دوسری لڑکیاں بھی گھر کے مردوں کی ہوس اور نفس کا شکار ہوتی ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ وہ ان سب واردات کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھا سکتیں۔ گھر میں بالخصوص مردوں کا اتنا بڑا تسلط ہے کہ کسی بھی خاتون کی آواز دبا دی جائے گی۔ انھیں اسباب کی بنیاد پر وہ مردوں سے بے حد نفرت کرتی ہے اور سماج کے حیوان صفت انسانوں سے بہت بیزار ہے، کیونکہ بچپن سے اس نے اپنے گھر کے مردوں کا برا رویہ دیکھ کر اپنے ذہن میں منفی تاثر قائم کر لیا ہے۔

            ناہید ناز ایسے گھر میں تھی جس میں ماں باپ کی موجودگی میں بھی وہ ان کی شفقت اور پیار کو ترس رہی تھی۔ مردوں کا جبر دیکھنے کے بعد بھی ان کے خلاف کوئی لڑکی آواز نہیں اٹھا سکتی تھی۔ آخرکار ایک دن اس کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آیا جس میں اس کی عزت کو تار تار کیا گیا۔ اس کے رشتے کا ہی ایک لڑکا ناہید کو اپنی ہوس کا شکار بنا لیتا ہے۔ ناہید ناز ایک حساس اور باہمت لڑکی تھی، اس لیے اس نے بھی حیوان صفت انسان پر حملہ کر کے اسے بے ہوش کر ڈالا۔ اس نے سوچا کہ اس واقعے سے گھر میں بڑا طوفان آنے والا ہے، بڑا ہنگامہ ہونے والا ہے۔ اس ہنگامے سے پہلے ہی اسے گھر سے نکل جانا چاہیے۔ چنانچہ ناہید ناز بھی ماں سے مل کر اپنے گھر سے نکل جاتی ہے اور اپنے دل میں مردوں سے انتقام لینے کا جذبہ پال لیتی ہے۔

            دونوں لڑکیوں میں مختلف طرح کی طبیعت موجود ہے۔ ان دونوں میں سے ایک میں بلا کی بغاوت، شرارت اور سرکشی پائی جاتی ہے، جب کہ صوفیہ میں حد درجہ شرافت اور متانت کا مظاہرہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر سماج کے جبر کا شکار دونوں ہی خواتین ہیں۔ ذوقی نے دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

     ’’ناہید اور صوفیہ کا موازنہ کرتا تو یہ موازنہ آسمان اور زمین کا ہوتا۔ ایک سرکش ندی کی طرح باغی اور دوسری معصوم میمنے جیسی۔‘‘

            )نالۂ شب گیر، مشرف عالم ذوقی، ص (287

            ناہید ناز کی ملاقات مصنف سے انڈیا گیٹ پر ہوتی ہے اور ناہید کے ساتھ اس کا شوہر کمال یوسف بھی تھا۔ دونوں جیوتی گینگ ریپ کے احتجاج میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ ناہید ناز مردوں سے انتقام لینے کے جذبے سے لیس ہے۔ وہ ہمیشہ مرد اساس معاشرے سے نفرت کا اظہار کرتی رہتی ہے اور شوہر کے ساتھ رہ کر بھی اپنی پہچان بنانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ وہ شوہر کی بالادستی کو قطعی پسند نہیں کرتی، حتیٰ کہ مردوں سے انتقام لینے کا جذبہ اس قدر غالب ہے کہ وہ اپنے شوہر کو ہی گھر سے باہر نکال کر یہ محسوس کرتی ہے کہ اب کوئی مرد عورت کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکے گا۔

            ناول نگار نے ناہید ناز کے کردار کو ایک ایسی خاتون کی شکل میں پیش کیا ہے جو مردوں کی طرف سے کیے جانے والے ہر طرح کے ظلم و جفا کا منہ توڑ جواب دینے کی ہمت رکھتی ہے۔ ناہید ناز مرد اساس معاشرے اور سماج سے بے حد نالاں ہے اور جبر کی کوئی بھی حرکت خاطر میں نہیں لاتی۔ انڈیا گیٹ پر جمع بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس جب ایک عورت کو گھسیٹتے ہوئے لے جا رہی تھی تو اسے یہ منظر دیکھا نہ گیا۔ وہ آپے سے باہر ہو گئی۔ چونکہ عورت کو پکڑنے والے مرد پولیس اہل کار تھے، اس لیے ان پر بہت زیادہ غصے اور برہمی کا اظہار کیا۔ حتیٰ کہ پولیس سے لڑنے کے لیے بھی آگے بڑھی، مگر اس کے شوہر کمال یوسف نے اسے پکڑ رکھا تھا۔ پھر بھی پاس میں پڑے ایک پتھر کو پولیس والوں کی طرف اچھال دیا۔ اس نے کہا کہ یہ مرد عورت کا ہاتھ جان بوجھ کر پکڑتے ہیں، عورت کو ٹچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ناول کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

     ’’اس کی ہمت کیسے ہوئی اس عورت کو زمین میں گھسیٹنے اور دھکا دینے کی۔ کیوں چھونے کی کوشش کی اس نے ایک عورت کو۔ یہ سالے ذائقہ لیتے ہیں۔ بہانہ کوئی بھی ہو، عورت کو ٹچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں سالے۔‘‘

            )نالۂ شب گیر، مشرف عالم ذوقی، ص (87

            ناہید ناز اپنے شوہر کمال یوسف کے ساتھ نینی تال میں رہائش پذیر تو ہے مگر حاکمانہ انداز میں۔ ناہید اپنے اوپر شوہر کو مسلط نہیں ہونے دیتی بلکہ وہ خود اپنے شوہر پر سوار رہتی ہے۔ جس طرح کوئی اپنی شریک حیات کو کسی بھی بات پر جھڑک دیتا ہے، ایسا ہی رویہ ناہید اپنے شوہر کے ساتھ اپنائے ہوئے ہے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر پر ہاتھ بھی اٹھا دیتی ہے اور اسے اسی کے گھر سے بھگا دیتی ہے۔ شوہر کمال گھر سے باہر اور اس کی بیوی گھر میں ہے۔ رات کے وقت شوہر کو گھر سے نکالا تھا۔ بیوی نے اپنے شوہر پر جبر کا پہاڑ توڑ دیا۔ کمال گھر کے باہر کھڑے یہ سوچ رہے تھے کہ اتنی رات کہاں جاؤں؟ کس کے پاس رات گزاروں؟ پہاڑی علاقہ ہے، مجھے کون پناہ دے گا؟

            ناول نگار نے اس مقام پر تصادم اور کشمکش کا جو المیہ پیش کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ ایک عورت مرد اساس معاشرے سے کس قدر بیزار اور متنفر ہے، اس کا اندازہ درج بالا سانحے سے ہوتا ہے۔

            ناہید سماج، تہذیب اور معاشرے کو بدلنے کی خواہش رکھتی ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، چیزیں بدل رہی ہیں تو مرد و خواتین کے معاملے میں افکار و نظریات بھی بدلنے چاہئیں۔ نئی صدی کا آغاز ہوا اور نئی تہذیب سماج میں جنم لے رہی ہے۔ دنیا بدل رہی ہے۔ دنیا کی لڑکیوں میں بھی بدلاؤ دکھ رہا ہے۔ وہ اب مرد اساس معاشرے سے بے خوف ہو کر جینے کی طرف آ رہی ہیں اور بہت ساری چیزوں میں مردوں کے برابر عورتیں کھڑی ہو گئی ہیں۔

            ناہید ناز کو بعد میں ایک ایسا گروپ مل جاتا ہے جو عورتوں کو خود مختار بنانے پر کام کرتا ہے اور انھیں آزاد زندگی گزارنے کی راہیں فراہم کرتا ہے۔ یہ گروپ عورتوں کو مردوں کے برابر کھڑا ہونے کی بھرپور وکالت کرتا ہے اور انھیں ہر طرح کی سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔ اس گروپ سے ناہید ناز وابستہ ہو جاتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی بہت ساری خواتین اس سے جڑ کر کام کر رہی ہیں۔ نینی تال کے قیام کے دوران ناہید ناز نے لغات پر کچھ کام کیا تھا جسے نرمل نے تو مسترد کر دیا تھا، لیکن اس گروپ میں اس کام کی بڑی اہمیت ثابت ہوئی۔ ناہید ناز کو اس کام کے صلے میں ایک عالی شان بنگلہ اور ایڈوانس میں دو کروڑ کا چیک مل چکا تھا، جب کہ رائلٹی الگ سے تھی۔ ان پیسوں کی وجہ سے ناہید ناز زمین سے آسمان کی منزل پر پہنچ گئی۔ اپنے شاندار بنگلے میں مغرور ملکہ کی طرح رہتی ہے۔ اس بنگلے میں کسی بھی مرد کو داخلے کی اجازت نہیں ہوتی۔

            اکیسویں صدی دنیا کو بدلنے والی صدی تھی۔ اس نے دنیا میں انقلابی کیفیت پیدا کی ہے۔ اس صدی نے بہت سے منظرنامے تبدیل کر دیے ہیں۔ مرد و عورت کے بارے میں نظریات تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ رہن سہن میں بھی بہت تفاوت ہو چکا ہے۔ آزادی کے معنی بدل گئے۔ بازاروں میں تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔ بقول مصنف:

     ’’دنیا کو بدلنے کا خطرہ آئی ٹی انقلاب نے اٹھایا تھا۔ اچانک ہمارے بازار بدل گئے۔ آئی ٹی نے کارپوریٹ انڈیا کا چہرہ تبدیل کر دیا۔ پہلی بار کارپوریٹ انڈیا کے عالمی بازار نے لبریشن یا آزادی کے معنی کو سمجھا۔ ایک بڑی دنیا سامنے تھی۔ اور ایک نئی تہذیب۔ جہاں عالمی بازار کے سامنے مرد اور عورت میں کوئی تفریق نہیں تھی۔ جہاں صرف انسانی ضرورتوں کے حصول کے لیے اس بازار کو سجایا جا رہا تھا۔‘‘

            (نالۂ شب گیر، مشرف عالم ذوقی، ص 359)

            مشرف عالم ذوقی کا یہ مایہ ناز ناول اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ سادگی سے پر ہے۔ زبان و بیان میں پیچیدگی اور الجھاؤ بھی نہیں ہے۔ طرز تحریر میں سادگی ہے اور انداز بیان پر اثر ہے، جس کے سبب قاری پورے طور پر ناول سے متاثر ہو جاتا ہے۔ درمیان میں مناسب مقامات پر نظموں اور مرثیوں سے ناول کو مزین کرنا ناول کو دلچسپ بنانے کا باعث ہے۔ عصر حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر یہ ناول اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک کامیاب ناول ہے۔

            مشرف عالم ذوقی نے ’نالۂ شب گیر‘ میں اپنے عہد کے ایک بہت افسوسناک اور دردناک واقعے کو قلم بند کیا ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ دہلی میں چلتی بس کے اندر سفر کر رہی ایک لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ چلتی سواری میں اس کے ساتھ درندگی کی حد پار کر دی گئی۔ اسے جسمانی اور ذہنی ہر طرح کی تکلیف درندوں نے پہنچائی تھی، جس کی تاب نہ لا کر حادثے کے تھوڑے ہی دن بعد وہ موت کی نیند سونے پر مجبور ہو گئی۔ اس الم ناک حادثے سے پورا ملک ہل گیا تھا۔ مرد و خواتین میں ملک گیر پیمانے پر برہمی کا اظہار ہونے لگا تھا۔ دہلی میں انڈیا گیٹ پر احتجاجی اور انقلابی دھرنے شروع ہو گئے تھے۔

            لڑکی کے ساتھ ہونے والی اجتماعی عصمت دری کے سانحے کو ذوقی نے ’جیوتی گینگ ریپ‘ کا نام دیا ہے اور اسے ’نالۂ شب گیر‘ کے کرداروں میں شامل کر کے ہمیشہ کے لیے درج کر دیا ہے۔ گویا انھوں نے ’نالۂ شب گیر‘ میں اس واقعے کو شامل کر کے اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔ اب جو بھی یہ ناول پڑھے گا، اس کے ذہن پر درج بالا واقعہ ابھر آئے گا۔

            آخر میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ناول ’نالۂ شب گیر‘ کے یہ دونوں نسوانی کردار زندگی میں شکست نہیں کھاتے بلکہ ہر جگہ ایک نئی دنیا آباد کر لیتے ہیں۔ ذوقی کا یہ ناول ان کے دوسرے ناولوں کی طرح ایک کامیاب ناول ہے اور عصری مسائل کا احاطہ کرنے والا ناول قرار دیا جا سکتا ہے۔

٭٭٭

Gulam Gaus

Research scholar

Discipline of Urdu School of humanities ,

IGNOU, New Delhi

Mobile No.7289849371,E-mial: ggbarabanki@gmail.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top