معاصرین میں سکندر علی وجدؔ کا مقام
ڈاکٹر سیدہ فوزیہ فاطمہ
بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈ کر یونیورسٹی،مہاراشٹر اورنگ آباد
سکندر علی وجد بیسویں صدی کی اردو شاعری کا وہ معتبر نام ہے جس نے روایت اور جدت کے سنگم پر کھڑے ہو کر اپنی ایک ایسی انفرادی شناخت قائم کی جو ان کے ہم عصروں کے ہجوم میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ وجد کی شاعری محض لفظوں کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ دکن کی مٹی کی خوشبو، اجنتا اور ایلورا کے سنگ تراشوں کی محنت اور تحریکِ آزادی کے ولولوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ جب ہم ان کے معاصرین کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے سامنے اردو ادب کا وہ سنہرا دور آتا ہے جس میں جوش کی گھرج، فیض کی دھیمی آنچ، مجاز کا رومانوی انقلاب اور ساحر کی تلخ نوائی موجود تھی۔ ان تمام قد آور شخصیات کے درمیان سکندر علی وجد نے خود کو کسی مخصوص ’ازم‘ یا گروہ بندی کا اسیر نہیں ہونے دیا۔ جہاں ان کے بہت سے ساتھی ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر نعرہ بازی اور خطابت کی نذر ہو گئے، وہاں وجد نے اپنی جمالیاتی حس کو برقرار رکھا۔ ان کا امتیاز یہ تھا کہ انہوں نے سماجی مسائل کو بیان کرتے ہوئے بھی غزل اور نظم کے فنی تقاضوں کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ دکن کی شعری روایت، جس میں قلی قطب شاہ سے لے کر ولی تک کا عکس ملتا ہے، وجد کے ہاں ایک نئے اور جدید رنگ میں ڈھل کر سامنے آئی۔ ان کی شاعری میں جو وقار اور ٹھہراؤ ہے، وہ انہیں اپنے تند خو معاصرین سے ممتاز کرتا ہے۔رشید حسن خاں لکھتے ہیں:
’’وجدؔ کے کلام کا مختصرالفاظ میں تعارف کرایا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ موضوع کے لحاظ سے وہ رومانی شاعر ہیں۔ رقص، مصوری اور موسیقی سے ان کی طبیعت کو جو نسبت خاص ہ، اس کے اثر سے بیان میں نغمگی کی لہریں رواں دواں رہتی ہیں، بیان کے لحاظ سے نفیس تعبیرات اور روشن استعاروں سے کام لینا ان کا خاص نذرانہ ہے۔ ‘‘
(رشید حسن خاں، مشمولہ: وجد ؔ: شاعر اور شخص، مرتب یوسف ناظم، ص:17)
جوش ملیح آبادی اور اقبال جیسے اساطینِ ادب کے سائے میں پروان چڑھنے والے شعرا کے لیے اپنی جگہ بنانا کوئی آسان کام نہ تھا، مگر وجد نے اپنی فکری اساس کو اتنی مضبوطی سے استوار کیا کہ ان کی آواز گم نہیں ہوئی۔ علامہ اقبال کی فکری گہرائی اور جوش کی لسانی شوکت کا اثر ان کے ہاں ضرور ملتا ہے، لیکن انہوں نے ان اثرات کو جذب کر کے اپنا ایک الگ اسلوب وضع کیا۔ جوش کے ہاں جہاں ایک طرح کا تلاطم اور طوفانی کیفیت ہے، وجد کے ہاں وہی توانائی ایک پرسکون دریا کی مانند بہتی نظر آتی ہے۔ ان کے ہم عصروں میں احسان دانش جیسے ’شاعرِ مزدور‘ بھی تھے جن کا لہجہ عوامی تھا، لیکن وجد نے عوامی مسائل کو ایک تہذیبی اور ثقافتی پس منظر عطا کیا۔ ان کی نظموں میں صرف بھوک یا افلاس کا رونا نہیں ہے، بلکہ ان میں اس مٹی کی عظمت کا احساس بھی ہے جس سے انسان جڑا ہوا ہے۔ اختر شیرانی کی رومانیت جہاں تخیلاتی وادیوں میں بھٹکتی تھی، وجد کی رومانیت زمین سے جڑی ہوئی اور گرد و پیش کے مناظر سے ہم آہنگ تھی۔ انہوں نے فطرت کو صرف پس منظر کے طور پر استعمال نہیں کیا بلکہ اسے اپنی ذات کا حصہ بنا کر پیش کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں منظر نگاری محض تصویر کشی نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا تجربہ بن جاتی ہے۔
فیض احمد فیض اور علی سردار جعفری کے عہد میں، جب سیاست اور شاعری یکجان ہو رہی تھی، سکندر علی وجد نے توازن کی راہ اختیار کی۔ فیض کے ہاں جو ’رقصِ زنجیر‘ کی کیفیت تھی، وجد کے ہاں وہ وطن کی مٹی سے محبت کے روپ میں جلوہ گر ہوئی۔ ان کے ہم عصروں میں اختر الایمان جیسے منفرد نظم گو شعرا بھی تھے جنہوں نے انسان کے داخلی کرب کو موضوع بنایا، جبکہ وجد نے داخلی احساسات کو خارجی دنیا کے حسن اور تاریخ کے تسلسل سے جوڑ دیا۔ ان کی مشہور نظمیں ’اجنتا‘، ’ایلورا‘ اور ’تاج محل‘ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ماضی کی عظمت کو حال کے شعور کے ساتھ دیکھنے کے قائل تھے۔ جہاں میراجی اور ن م راشد جدیدیت کی گتھیوں کو سلجھا رہے تھے اور ابہام کی وادیوں میں قدم رکھ چکے تھے، وجد نے وضاحت اور سلاست کو اپنا شعار بنایا۔ ان کا کلام پڑھتے ہوئے قاری کو کسی لغت یا گنجلک فلسفے کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ ان کے جذبات کی سچائی خود بخود دلوں میں گھر کر لیتی ہے۔ ساحر لدھیانوی کی تلخی اور سماجی احتجاج کے برعکس، وجد کے احتجاج میں ایک طرح کی شرافت اور دکنی تہذیب کی رکھ رکھاؤ موجود ہے جو قاری کو مشتعل کرنے کے بجائے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
احمد ندیم قاسمی اور احمد فراز جیسے شعرا، جو روایت اور ترقی پسندی کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے تھے، ان کے عہد میں وجد کی غزل گوئی اپنی سادگی اور پرکاری کی وجہ سے جانی گئی۔ قاسمی صاحب کے ہاں دیہی زندگی کی جو عکاسی ملتی ہے، وجد کے ہاں وہی سچائی شہری اور تہذیبی زندگی کے تناظر میں سامنے آتی ہے۔ اسرار الحق مجاز کی آوارگی اور اختر ہوشیارپوری کی ندرتِ خیال کے درمیان وجد ایک ایسے سنگِ میل کی طرح نظر آتے ہیں جنہوں نے اردو نظم کو وسعت عطا کی۔ ان کی شاعری میں انفرادی غم کے بجائے ایک اجتماعی شعور کا احساس ہوتا ہے جو نسلِ انسانی کے مشترکہ ورثے کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ 1910کے بعد پیدا ہونے والے شعرا کے اس پورے دستے میں وجد اس لیے بھی اہم ہیں کہ انہوں نے اردو زبان کو دکنی محاورے کے بجائے ایک ہمہ گیر ہندوستانی رنگ دیا، جس میں سنسکرت کے کومل الفاظ اور فارسی کی چاشنی اس طرح شیر و شکر ہو گئی کہ ایک نیا آہنگ پیدا ہوا۔ ان کی غزلوں میں تغزل کی وہ کلاسیکی روح موجود ہے جو میر و غالب کی یاد دلاتی ہے، مگر اس کا پیرایہ بالکل جدید اور عصری تقاضوں کے عین مطابق ہے۔پروفیسر مسعود حسین خاں لکھتے ہیں:
’’سکندر علی وجد بنیادی طور پر ایک نازک خیال، شیریں مقال اور قلب و نظر کے شاعر تھے۔ ان کے کمال فن میں اجنتا کا سا حسن تناسب اور شان زیبائی ملتی ہے۔ وہ ایک کلاسیکی فرہنگ شعر کے مالک ہیں لیکن لفظوں کی دنیا کے وہ ایک نقش کار اور پیکر تراش بھی ہیں۔‘‘
(مسعود حسین خاں، مشمولہ: وجد ؔ: شاعر اور شخص، مرتب یوسف ناظم، ص:10)
سکندر علی وجد کا اصل کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے عظیم معاصرین کی موجودگی میں نہ تو کسی کی نقل کی اور نہ ہی کسی کے سحر میں مبتلا ہو کر اپنی انفرادیت کھوئی۔ وہ ایک ایسے خوددار فنکار تھے جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو وقت کے عارضی رجحانات کی نذر نہیں ہونے دیا۔ ان کا مقام معاصرین میں ایک ایسے مصلح اور فنکار کا ہے جس نے جمالیات اور اخلاقیات کو کبھی جدا نہیں ہونے دیا۔ ان کی شاعری ہمیں سکھاتی ہے کہ کس طرح اپنے عہد کے ہنگاموں میں رہتے ہوئے بھی اپنی روح کی پاکیزگی اور زبان کی لطافت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اجنتا کے بتوں میں جان ڈالنے والا یہ شاعر دراصل اردو ادب کے اس محل کا ایک ناگزیر ستون ہے، جس کے بغیر بیسویں صدی کی شعری تاریخ نامکمل رہے گی۔ وجد کی شاعری کا سفر دراصل انسانی عظمت، ارتقا اور تہذیبی ورثے کی بازیابی کا سفر ہے، اور یہی وہ وصف ہے جو انہیں فیض، جوش، فراز، خمار، فراق،مجاز، اختر الایمان ساحر لدھیانوی جیسے معتبر شعرا کے درمیان ایک ممتاز اور معتبر مقام عطا کرتا ہے۔
٭٭٭